غزہ: اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، مزید 118فلسطینی شہید
اسرائیل کوبی 2سٹیلتھ بمبار طیارے، جی بی یو 57بم دینے پر غور: حماس کو جڑ سے ختم کرینگے، اسرائیلی وزیر اعظم کی بھی دھمکی
غزہ، واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں ) غزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، اسرائیلی فوج نے تازہ حملوں میں سکول پر بمباری کرکے مزید 17فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مصطفیٰ حافظ نامی سکول کو نشانہ بنایا۔ اس سکول میں سیکڑوں فلسطینی خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز 73فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ ایک روز میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 118ہوگئی ہے، امدادی سامان کے منتظر 33فلسطینی بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ادھر عرب میڈیا کی انویسٹی گیشن رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج 18مارچ کے بعد سے جنوبی علاقے خان یونس سے 83.5فیصد فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کر چکی ہے۔ دوسری جانب فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی فرانسسکا البانیز نے غزہ صورتحال کو قیامت خیز قرار دے دیا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب کے دوران فرانسسکا البانیز نے اسرائیل کو غزہ میں بدترین نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور انہوں نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی، تجارتی معاہدے اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو معطل کریں۔ غزہ میں ایندھن کے ذخائر ختم ہونے پر ناروے پناہ گزین کونسل کے سیکرٹری جنرل نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
این آر سی کے سیکرٹری جنرل جان ایگلینڈ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ غزہ میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ایندھن کے بغیر خوراک کی تقسیم ہوگی نہ ہی صحت کی سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں ایندھن کی قلت کے باعث 21لاکھ زندگیاں خطرے میں ہیں، یہ کوئی لاجسٹک مسئلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کی معاملہ ہے۔ دوسری جانب ایک سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو سٹیلتھ بمبار طیارے اور ایسے بم فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے جو زیر زمین بنکروں اور محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی ٹی وی کے مطابق ذریعے نے بتایا کہ امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے درمیان متفقہ نئے مشترکہ مسودہ قانون کے تحت اسرائیل مستقبل میں بی2سٹیلتھ بم بار طیارے اورجی بی یو 57بم حاصل کر سکتا ہے۔ مزید برآں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال کی ذمہ دار حماس ہے، جس نے جنگ بندی معاہدے کو متعدد بار توڑا۔
ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ غزہ میں حالات معمول پر لانے کیلئے حماس کو ہتھیار ڈالنا اور مغویوں کی رہائی کو ممکن بنانا ہوگا۔ ادھر سعودی عرب نے قابض اسرائیلی حکام کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماستان نہیں ہوگا، ہم واپس اس طرف نہیں جائیں گے، یہ ختم ہو چکا ہے۔ جبکہ امریکی صدر کے غزہ میں 60روزہ جنگ بندی کے دعوے کے بعد یرغمالی اور اسرائیلیوں کی لاشیں دینے کے حوالے سے امریکی اخبار کا بیان سامنے آیا ہے۔ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ 10یرغمالی اور 18ہلاک اسرائیلیوں کی لاشیں 5مرحلوں میں دی جائیں گی، لاشیں اور یرغمالی رہا کرنے پر فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔



