غزہ پر قبضے کی منظوری، 60ہزار ریزرو اسرائیلی فوجی طلب، آج سے آپریشن متوقع
اسرائیلی بمباری جاری، 24گھنٹے میں مزید 60فلسطینی شہید، امداد کے حصول کی کوشش کرنے والے 31افراد بھی شامل
غزہ، ریاض (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24گھنٹے کے دوران مزید 60فلسطینی شہید اور 343زخمی ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں امداد کے حصول کی کوشش کرنے والے 31افراد بھی شامل ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں کے بعد کئی شہری ملبے تلے دبے ہیں جبکہ ایمبولینس اور ریسکیو اہلکار ان تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ ادھر القسام بریگیڈ کے حملے میں اسرائیلی فوج کے کمانڈر سمیت بڑی تعداد میں فوجی زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ زخمی کمانڈر کی حالت تشویشناک ہے۔
القسام بریگیڈ نے صیہونی فوج کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے مرکاوا ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ کئی مقامات پر مارٹر گولوں سے بھی حملے کئے گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے بعد وزارت دفاع نے بھی غزہ سٹی پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے، 60ہزار ریزرو فوجیوں کی طلبی کا حکم دیدیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ سٹی پر قبضے کے آپریشن کو چریٹس آف گِدیون بی کا نام دیا گیا ہے۔
قبضے کیلئے آپریشن کا آج ( جمعرات ) سے آغاز متوقع ہے۔ ادھر سعودی کابینہ نے صیہونی حکومت کے گریٹر اسرائیل منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر زور دیا گیا وہ فلسطینی عوام پر ہونیوالے مظالم کو رکوانے کیلئے فوری اقدامات کریں۔ جبکہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں انتہائی متنازعہ اور غیر قانونی بستی کے قیام کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی جسے فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ای ون (E1)بستی کے قیام کا منصوبہ انہوں نے گزشتہ ہفتے پیش کیا تھا اور بدھ کو وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے اس کی باضابطہ منظوری دے دی۔ خیال رہے کہ ای ون منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو درمیان سے کاٹ دے گا اور مشرقی القدس ( یروشلم) سے اس کا زمینی رابطہ ختم ہوجائے گا۔ اسموتریچ نے کہا کہ ای ون کے ساتھ ہم وہ وعدہ پورا کر رہے ہیں جو برسوں پہلے کیا گیا تھا، فلسطینی ریاست کے امکان کو نعرے بازی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ختم کیا جائے گا۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی بستی مقامی فلسطینی آبادی کو الگ تھلگ کردے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر دے گی۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور یہ دو ریاستی حل اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔



