لاہور، چناب نگر، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، کراچی ( ویب ڈیسک) آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث موسم ایک بار پھر سرد ہوگیا ہے، کئی علاقوں میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی او ر نشیبی علاقے زیر آب آگئے، مختلف حادثات میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ہفتہ کو بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا اور کئی علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی جس کے باعث موسم ایک بار پھر سرد ہوگیا اور شہریوں نے گرم کپڑے نکا ل لئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے علاقوں چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوہلو اور نصیرآباد میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں فرنٹیئر کور بلوچستان نے امدادی کارروائیاں کیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، ناران، سوات اور زیارت کے پہاڑوں پر اپریل میں ہونے والی برفباری نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا۔ سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی وقفے وقفے سے بارش جاری رہی، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو میں ژالہ باری کے ساتھ ندی نالوں میں طغیانی آ گئی۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بارشوں کے باعث صورتحال متاثر رہی، پشاور میں نالوں کا پانی سڑکوں پر آگیا، جبکہ مختلف حادثات میں 4افراد جاں بحق اور 19زخمی ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 25مارچ سے اب تک بارشوں کے نتیجے میں 30افراد جاں بحق اور 85زخمی ہوئے، جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 140گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 115کو جزوی جبکہ 25مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122اور ضلعی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع میں فوری امداد کی فراہمی اور کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہے گا اور یکم سے 4اپریل تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔ دوسری جانب ریسکیو 1122کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں سے دریاے کابل میں پانی کا بہائو زیادہ ہوسکتا ہے، اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122اور دیگر متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور کسی بھی صورتحال کے لئے تمام پیشگی اقدامات مکمل کر چکے ہیں اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام الناس بالخصوص دریائے کابل کے کنارے آباد مکینوں سے اپیل ہے کہ وہ محتاط رہیں، دریائے کابل کے قریب جانے سے گریز کریں، اپنے مال مویشیوں کو بھی دریاے کابل اور دریاے سندھ کے کناروں سے دور رکھیں۔ دفعہ 144کے تحت دریائوں میں نہانے، کشتی رانی، مویشی چرانے اور غیر ضروری آمد و رفت پر مکمل پابندی ہے۔
ادھر خیبر میں پاک افغان شاہراہ نیکی خیل کے مقام پر گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار 3افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ چوتھے شخص کی تلاش جاری ہے، حکام کے مطابق رات بھر موسلا دھار بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی ہے۔ دریں اثنا پنجاب میں 24گھنٹے میں بارش اور آندھی سے مختلف حادثات میں 2افراد جاں بحق اور 18زخمی ہوگئے۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق ساہیوال میں 2مختلف واقعات میں دیواریں گرنے سے ایک خاتون اور بچہ زخمی ہوا، سرگودھا میں 2مختلف واقعات میں چھتیں گرنے سے 55سالہ عمر حیات جاں بحق ہو گیا جبکہ 4افراد زخمی ہوئے۔
ترجمان ریسکیو نے بتایا کہ چنیوٹ میں 2مختلف چھتیں گرنے کے واقعات میں 40سالہ خالدہ جاں بحق اور 2افراد زخمی ہوئے ، بھکرمیں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا، جبکہ میانوالی میں موسلادھار بارش میں بس سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئے، جس کے باعث 4افراد زخمی ہوئے۔
ریسکیو کے مطابق فیصل آباد میں 2چھتیں گرنے کے واقعات میں 3افراد زخمی ہوئے، حافظ آباد میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ ملتان میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر نے پیشگوئی کی ہے کہ ایک اور مغربی لہر کل سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ بیان کے مطابق اس کے زیر اثر6اپریل کو کراچی سمیت دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بارش ہوسکتی ہے، پیر کو کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی تا درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ سسٹم کے سبب تیز ہوائوں، آسمانی بجلی اور ژالہ باری کے نتیجے میں کمزور املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب شہر قائد کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے دوران سمندر کے اوپر ٹورناڈک واٹر سپاوٹ کا دلکش مگر خطرناک مظاہرہ دیکھا گیا۔ ٹورناڈک واٹر اسپاوٹ دراصل سمندر یا پانی کی سطح پر بننے والا گردابی طوفان ہوتا ہے جو عام واٹر سپاوٹ کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک گھومتی ہوئی ہوا کا ستون ہوتا ہے جو بادلوں سے نکل کر پانی کی سطح تک پہنچتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان سے سمندر تک ایک گردشی ستون قائم ہو گیا ہو۔ ٹورناڈک واٹر اسپاوٹ عموما انہی موسمی حالات میں بنتا ہے جن میں ٹورنیڈو تشکیل پاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندر میں اس قسم کی قدرتی سرگرمی ماہی گیر لانچوں اور کشتیوں کے لیے خطرے کی علامت ہوتی ہے، کیونکہ تیز گردابی ہوائیں پانی کی سطح پر شدید بے چینی پیدا کر سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ 28فروری 2016ء کو بلوچستان کے قریب سمندر میں بھی واٹر سپاوٹ دیکھا گیا تھا، جبکہ جنوری 2019ء میں ماہی گیروں نے سندھ کے ساحلی علاقے ٹھٹھہ گھوڑا باری سے دور سمندر میں ایک واضح واٹر سپاوٹ کا مشاہدہ کیا تھا۔



