پاکستانتازہ ترینکالم

ایک بھولی بسری ملاقات۔۔

حسنین جمیل

آج کل سابقہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری خبروں میں ہیں ، مکس اچار حکمران اتحاد کے پچھلے دور حکومت میں بلاول وزیر خارجہ تھے انکے ساتھ پیپلز پارٹی کے دیگر وزرا بھی وفاقی کابینہ کا حصہ تھے مگر جب اس مکس اچار حکمران اتحاد کی حکمرانی کا دوسرا حصہ شروع ہوا تو وفاقی کابینہ میں پیپلز پارٹی نے شمولیت اختیار نہیں کی۔

پیپلز پارٹی نے سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں تو لے لیں ساتھ ساتھ پنجاب اورخیبر پختو نخواہ میں اپنے گورنر لگا دیئے اور صدر آصف زرداری جبکہ چیئر مین سینٹ یوسف رضا گیلانی بن گئے مگر بلاول کی وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری نہ ہوسکی کیونکہ ییت متدرہ کو جس قسم کا وزیر اعظم درکار تھا اس کیلئے پاکستان میں شہباز شریف سے اچھا سی وی کسی کے پاس نہیں تھا ، لہذا قرعہ فال انہی کے نام نکلنا تھا ، بلاول اپنی راج دھانی سندھ تک ہی محدود رہ گئے ، اس دوران پہلگام کا افسوناک واقعہ رونما ہو گیا چار دن پاک بھارت جھڑپیں رہیں دونوں اطراف سے فتح کے شادیانے بحانے کے بعد سفارتی محاذ سرگرم ہو گیا۔

بھارتی وفد ششی تھرورجیسے دانشور کی قیادت میں امریکہ پہنچ گیا جہاں انکی ملاقات امریکی نائب صدر سے ہوئی پاکستانی وفد بلاول کی قیادت میں امریکہ پہنچ گیا جہاں کسی اہم ترین امریکی حکومتی اہلکار سے انکی ملاقات نہ ہوئی وہاں بلاول نے ایک سیاسی بیان داغا کہ مودی نیتن یاہو کی کاپی ہیں اس بیان کا پاکستان کو بین الاقومی سفارتی محاذ پر کوئی فائدہ نہیں ہوا صرف سندھ کے چند ڈسٹرکٹ میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کی واہ واہ لوگوں نے سنی ۔

بلاول ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں،راقم کو چند سال قبل ہوئی بلاول سے اپنی ایک ملاقات یاد آگئی،بلاول لاہور میں ڈیرے ڈال کر بیٹھے تھے قمر زمان کائرہ پنجاب پی پی پی کے صدر تھے انہوں نے بلاول سے ترقی پسند لکھاریوں کی ملاقات کی خواشش کا اظہار کیا میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا جنرل سیکرٹری اور ڈاکٹر طاہر شبیر صدر تھے ، عابد حسین عابد پنجاب کےسیکرٹری تھے ، ڈاکٹر طاہر شبیر کے بھائی طارق شبیر جو سابقہ ایم این اے تھے انکی بڑی مہنگی گاڑی میں میں ڈاکٹر طاہر شبیر عابد حسین عابد اور دیگر بیٹھ کر روانہ ہوئے ۔

راقم کی ان دنوں افسانوں کی دوسری کتاب امرتسر 30 کلومیٹر شائع ہوئی تھی جس میں ایک طویل افسانہ ’’ صلبیں‘‘ تھا جو میں نے بھٹو خاندان پر لکھا تھا ، ڈاکٹرطاہر شبیر کو وہ افسانہ بہت پسندآیا ان کے کہنے پر میں کتاب بغل میں داب کر ساتھ لئے گیا کہ بلاول کو یہ کتاب پیش کروں گا ۔

جب ملاقات شروع ہوئی بلاول راقم عابد حسین عابد ڈاکٹر طاہر شبیر قمر زمان کائرہ اور دو تین لوگ بلاول ہائوس کے ایک لان میں بیٹھ کر بات چیت کر رہے تھے ، بلاول زرداری اس دوران اردو بولنے کی کوشش کررہے تھے مگر اس میں ربط نہیں تھاجس پر مجھے تعجب ہوا پنجاب سندھ خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر گلگت بلتستان جہاں بھی عوامی اجتماع سے موصوف خطاب کریں گے تو کیسے عوامی زبان بولیں گے مجھ میں ہمت ہی نہ ہوئی کہ ایک ایسے نوجوان کو اپنی اردو افسانوں کی کتاب پیش کروں ۔

میں چپ کر کے کونے میں بیٹھا رہا واپسی پر مجھے احمد ندیم قاسمی صاحب کا قصہ یاد اگیا جو راقم کو انہوں نے مجلس ترقی ادب کے دفتر میں سنایا تھا ، قاسمی صاحب بتاتے تھے کہ میرے جریدے ’’ فنون‘‘کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے مجھے کسی نے کہا انار کلی میں فلاں صاحب کی دوکان ہے اپ ان کے پاس جائیں وہ دوکان کا اشتہار مختلف اخبارات و جرائد میں تواتر سے دیتے ہیں ، قاسمی کہتے ہیں میں اس تاجر سے ملنے چلا گیا تاجر نے فنون الٹ پلٹ کر دیکھا اور مدیر احمد ندیم قاسمی میری طرف دیکھا اور پھر کہا ان صاحب سے کہو مجھ سے ملیں ، قاسمی صاحب کہتے ہیں میرے میں ہمت ہی نہ ہوئی کہ کہوں کہ جی میں ہی احمد ندیم قاسمی ہوں میں چپ کر کے فنون بغل میں داب کر اس دوکان سے باہر اگیا تھا ، میں بھی اپنے کتاب بغل میں داب کر بلاول ہاوس سے باہر آگیا ۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button