پاکستانتازہ ترینکالم

نہ جھکنے والا قیدی

تحریر:عاطف عارف

پاکستان کی سیاست میں اس وقت جو ہلچل ہے، وہ کسی طوفان سے کم نہیں۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ایک شخص، عمران خان، آج بھی اقتدار کی راہداریوں میں سب سے بڑی سیاسی حقیقت بنا ہوا ہے۔ وہ بولتا ہے تو ایوان لرزتے ہیں، وہ خاموش ہوتا ہے تو افواہوں کی گرد اُڑتی ہے۔ اڈیالہ جیل کی تنگ دیواریں شاید اس کی آواز کو قید نہ کر سکیں، کیونکہ اس کی سوچ، اس کا بیانیہ، اور اس کا عزم آج بھی آزاد ہے۔
عمران خان نے واضح کر دیا ہے: ’’جو مرضی کرلو، میں نہیں جھکوں گا۔‘‘ وزیرستان میں جاری آپریشن پر اس کی تنقید صرف ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک انسانی درد کی جھلک ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس آپریشن میں بے گناہوں کی جانیں جا رہی ہیں، اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ملک کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ ایک قیدی کی یہ آواز دراصل اس قوم کے ان سوالات کی نمائندگی کرتی ہے، جو عرصہ دراز سے جواب کے منتظر ہیں۔

محسن نقوی اور دیگر شخصیات پر اس کی تنقید اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عمران خان اب صرف ایک سیاستدان نہیں رہا، بلکہ ایک مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ "کرکٹ کو جس طرح تباہ کیا گیا، پاکستان کو بھی اسی روش پر دھکیلا جا رہا ہے” یہ کہنا دراصل موجودہ حکومتی پالیسیوں پر ایک گہرا سوال ہے۔

عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ٹرائلز، اور 190 ملین پاؤنڈز کا کیس بظاہر قانونی جنگ ہے لیکن پس پردہ یہ ایک سیاسی محاذ بن چکا ہے۔ علیمہ خان کو آخرکار بھائی سے ملاقات کی اجازت ملی، یہ صرف ایک انسانی لمحہ نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا بھی تھا، جس کی تکمیل دیر سے سہی مگر بالآخر ہو ہی گئی۔

تحریک انصاف کو عمران خان نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹیوں سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے، ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ پر بھی سخت مؤقف سامنے آ رہا ہے۔ ان کے نزدیک، ان انتخابات میں حصہ لینا اس نظام کو جواز دینا ہے جو ان کے مطابق ’’رول آف لاء‘‘ کو دفن کر چکا ہے۔

سیاسی کمیٹیوں کے اجلاس، سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ، اور محمود خان اچکزئی کا دوبارہ نام پیش کیا جانا، سب ایک بڑی سیاسی شطرنج کا حصہ ہے، جس کے بادشاہ کی جگہ ایک قیدی نے لے رکھی ہے، اور باقی سب مہرے ہیں کچھ اپنی چالوں میں مصروف، کچھ لاچار، اور کچھ بے سمت۔
اس سارے منظرنامے میں میڈیا کا کردار بھی قابلِ افسوس ہے۔ عمران خان کے بقول، میڈیا پر ایسا کنٹرول ہے کہ قوم کا اعتبار اس سے اُٹھ چکا ہے۔ بلاشبہ ایک آزاد میڈیا، ایک جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، لیکن جب یہی میڈیا ریاستی مداخلت کا شکار ہو، تو پھر سچائی دب جاتی ہے، اور افواہیں خبروں کا روپ دھار لیتی ہیں۔

آپ جسے چاہیں قید میں ڈال دیں، میں نہیں جھکوں گا، میں ظلم کو قبول نہیں کروں گا۔یہ پیغام صرف ایک فرد کی مزاحمت نہیں بلکہ ایک نظریے کی بقا کی جنگ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عمران خان جیل سے کب باہر آئے گا، سوال یہ ہے کہ کیا وہ بیانیہ جو اس نے زندہ رکھا ہے، وہ اس قوم کے شعور کا حصہ بنے گا یا نہیں؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button