انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

رمضان المبارک اور نئی نسل

تحریر: راحیلہ رحمان(اسلام آباد)

رمضان کے حسین و بابرکت ساعتیں امت مسلمہ پر نور بن کر برس رہی ہیں کوئی نیکیوں کے اس سیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو کوئی موسم بہار میں نیکیوں کے درخت لگا رہا ہے کسی نے سجدوں کی کثرت سے رب کو پا لیا تو کسی نے روش کو بدل کر قرانی تعلیمات کو اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ دورہ قران اور تراویح کی صداائوں نے ماحول کو معطر کر رکھا ہے مگر ایک کمی جو شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ اس ماہ نسل نو کی تربیت ہے جس طرح مالی موسم بہار میں پودوں پر خاص توجہ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ذرا سی توجہ اس موسم میں اس کے باغ کو گلزار بنا دے گی ۔

Ramadan-for-Kids-1

اسی طرح بحیثیت والدین ہم بھی تو اپنے باغ کے مالی ہیں اور رمضان نیکیوں کا موسم بہار جو بچوں کی تربیت کے لیے نہایت موزوں ہے دین کا عملی مظاہرہ اس ماہ ذہنوں پر ایسے گہرے اثرات چھوڑے گا جو تاحیات انہیں ایک با عمل مسلمان بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہم آنکھیں بند کرکے حالات سے سمجھوتہ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم اپنی رعیت کے بارے میں اللہ کو جوابدہ ہیں،اپنے بچوں کو قران سے جوڑنا، ان کے دلوں میں ایمان کو راسخ و پختہ کرنا، دین کا صحیح فہم دینا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تربیت کیسے کی جائے جبکہ تمام اسکولز کالج معمول کے مطابق نہ صرف کھلے ہوتے ہیں بلکہ امتحانات کا آغاز بھی کر دیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی توجہ محض دنیاوی تعلیم پر مرکوز رہے۔ حیرت ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تعلیمی نظام بچوں کو ایمان افروز ساعتوں سے دور رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے تراویح اور تفسیر قرآن کی اہمیت کو کیسے روشناس کرایا جائے کہ انہیں صبح جلد اٹھنے کی وجہ سے جلد سونا پڑتا ہے، قیام اللیل کیسے ممکن ہو جبکہ شب قدر تک کی چھٹی کا کوئی تصور موجود نہیں اس ناقص نظام کی وجہ سے بچے کیا اساتذہ ،دیگر سٹاف اور بچوں کی مائیں بھی اپنی عبادات کو مختصر کرنے پر مجبور ہیں۔

لگتا ہی نہیں ہم اسلامی ملک میں سانس لے رہے ہیں اسلامی ملک کی حکمت عملی تو اس طرح ترتیب دی جانی چاہیے کہ عبادات کے مہینوں میں انسان ہر چیز کی فکر سے آزاد و پرسکون ہوکر عبادتیں کر سکے تین ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں میں تخصیص کر کے رمضان المبارک میں پورے ماہ کی چھٹی ہونی چاہیے تاکہ نہ مائیں پریشان ہوں نہ اساتذہ و بچے رحمت کی اس برسات سے محروم رہیں۔

یہ چھوٹی بات نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے ہر سال تعلیمی نظام اسی طرز پر ترتیب دیا جاتا ہے اور ہم ہر بار دنیاوی کھوکھلی تعلیم پر سمجھوتہ کرکے اپنے بچوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں پھر سارا سال ایسا موقع نہیں آتا کہ وہ دین کو سمجھیں اور پریکٹس کر سکیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے یہ بات ماننا ہی پڑے گی کہ ہم اپنے اس عمر کے بچوں میں بھی ایمان کی شمع صحیح طرح سے روشن نہیں کر پائے جس عمر میں اسامہ بن زید اور محمد بن قاسم نے فتوحات کے جھنڈے گاڑھ دیے تھے۔ حقیقت کی آنکھیں کھول کر نسل نو کا جائزہ لیں تو دل کانپ جاتا ہے خطرہ سر پر منڈلاتا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نسل دین سے کوسوں دور کھڑی ہے۔

یہی تو وہ اثاثہ ہیں جنہوں نے اسلام کا علم بلند کرنا ہے ہم کیوں انہیں ضائع ہوتے دیکھ رہے ہیں جن شخصیات نے 17 سال کی عمر میں بہادری کے جوہر دکھائے انہیں بچپن ہی سے دلیری کے گر کرسکھائے جاتے تھے تلوار ان کا کھلونا ہوا کرتی تھی جبکہ آج کے بچے بستر سے اٹھتے ہوئے بھی کراہتے ہیں۔ یہ سرمایہ اسلام جو ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں خدارا ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔ بالخصوص اس وقت جب ہم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں ہر طرف فتنوں نے گھیر رکھا ہے سوشل میڈیا زہر بن کر ہماری نسل کی رگوں میں اتر رہا ہے اس وقت انہیں اپنے اصل سے روشناس کرانا اور مقصد سے جوڑنا ناگزیر ہے جب تک مقصد سے آگاہی نہیں ہوگی تو قدم کیسے بڑھیں گے۔

آج ہمارے جوانوں کا مقصد دنیاوی تعلیم اور اس کے بعد اغیار کی چاکری تک محدود ہو کر رہ گیا ہے انہیں خبر ہی نہیں کہ کتنے عظیم مقصد کے لیے انہیں روئے زمین پر اتارا گیا ہے اس میں قصور ہمارا بھی ہے کہ ان کے ذہنوں میں اپنی زریں تاریخ کی قندیل کو روشن کیا ہی نہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس وقت امت مسلمہ دشمنان دین کے نرغے میں ہے جنگ کہیں مسلط کی جا چکی ہے اور کہیں تیار کھڑی ہے اسلام پر حملے جاری ہیں اللہ نے تو قران میں فرما دیا کہ ”مہاربند گھوڑے تیار رکھو“مگر ان گھوڑوں کی مہار تھامنے والے ایسے سپوت بھی تو درکار ہیں جنکےحوصلے بنیان مرصوص کی مانند دشمن سے ٹکرا کر انہیں پاش پاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

زرا سا رک کر اپنے بچوں کی تربیت کا جائزہ لیں تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ چند سال بعد ہمارے پاس ایسے ہیرے موجود ہوں گے جو دشمن کا قلع قمع کرنے میں لمحہ بھر تاخیر نہیں کریں گے؟ تو جواب پاکر دل تاریکی میں ڈوبتا محسوس ہوتا ہے، فتنوں کے اس دور میں جب ہر عمر سے تعلق رکھنے والے افراد سوشل میڈیا کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ انہیں اس جنگل سے نکالنا بھی ہے اور نصب العین پر جمانا بھی ہے۔ سنہری تاریخ اور آج کے درمیان جو وسیع خلیخ حائل ہوچکی ہے اسے عبور کرنا ہم سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔

میری آپ سب سے گزارش ہے کہ سب مل کر پرزور احتجاج کریں اس تعلیمی نظام کے خلاف جو رمضان المبارک کی پرنور گھڑیوں سے ہمیں دور کردینے پر کاربند ہے ہر طرح سے ہر پلیٹ فارم کا استعمال کرکے پرزور اپیل کریں کہ اس ماہ مکمل طور پر تعلیمی ادارے بند کیے جانے چاہیں۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے پہلے ہی ہم بہت نقصان اٹھاچکے ہیں اگر اب بھی اس نظام کو نہ بدلا گیا تو خدانخواستہ ایسا خسارہ ہمارے حصے میں آئے گا پھر کئی نسلیں مل کر بھی اس کو پورا نہیں کر سکیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button