بلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیکالم

ٹرمپ کی نئی ویڈیو ،مصنوعی ذہانت اور نوآبادیاتی ایجنڈا

ایاز خان

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل” پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں غزہ کو ایک مکمل طور پر تبدیل شدہ سیاحتی مقام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ویڈیو میں جو منظرنامہ پیش کیا گیا ہے، اس میں فلسطینی آبادی کا مکمل انہدام دکھایا گیا ہے، اور اس کی جگہ ایک لگژری ریزورٹ نے لے لی ہے، جسے "ٹرمپ غزہ” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بیانیہ کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ آیا یہ محض ایک طنزیہ سیاسی بیانیہ ہے یا کسی وسیع تر نوآبادیاتی تصور کی پیش گوئی۔ اگر اس تصور کو عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ کسی بھی قابض طاقت کے لیے یہ غیر قانونی ہے کہ وہ مقامی آبادی کو زبردستی بے دخل کرے اور وہاں اپنی پسند کے نئے بسنے والوں کو آباد کرے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کی نسل کشی کے خلاف کنونشن (1948) بھی انتہائی اہم ہے، جس کے مطابق کسی مخصوص قوم یا گروہ کو ختم کرنے کی کوشش نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے۔
اس ویڈیو میں جو مستقبل دکھایا گیا ہے، اس میں فلسطینیوں کی مکمل غیر موجودگی ایک ایسے نظریے کی عکاسی کرتی ہے جو نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق بلکہ سامراجی تاریخ کے مخصوص رجحانات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔

یہ ویڈیو نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں بھی انتہائی اہم ہے۔ امپیریلسٹ طاقتوں کا ہمیشہ یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ پہلے کسی علاقے کی مقامی آبادی کو بے دخل کرتی ہیں، پھر وہاں غیر مقامی آبادکاروں کو بساتے ہیں، اور بعد میں اس جگہ کو اقتصادی ترقی یا سیاحتی منصوبوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں ریڈ انڈین قبائل کی بے دخلی، برطانوی و فرانسیسی نوآبادیاتی منصوبے، اور اسرائیل میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر اس کی کلاسیک مثالیں ہیں۔ ویڈیو میں دکھائے گئے "ٹرمپ غزہ” کا تصور اسی نوآبادیاتی حکمت عملی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جہاں ایک تباہ شدہ علاقے کو فلسطینیوں سے خالی کر کے اسے امریکی اور اسرائیلی سرمایہ داروں کے لیے ایک منافع بخش سیاحتی مرکز میں بدلنے کا خواب دکھایا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ صرف جغرافیائی یا امپیریالسٹ سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرناک استعمال کا بھی ایک نمایاں پہلو سامنے آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو پروپیگنڈے کے طور پر کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جو نہ صرف حقیقت کو مسخ کر سکتی ہے بلکہ ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے سکتی ہے جو مستقبل میں نسلی یا جغرافیائی کشمکش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تخلیق کردہ اس ویڈیو میں ایسی "حقیقت” پیش کی گئی ہے جس کا کوئی وجود نہیں لیکن اسے ایک ناگزیر مستقبل کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ایک مخصوص امپیریالسٹ ایجنڈے کی تشہہیر کی جا رہی ہے، جس میں مقامی آبادی کی جبری بے دخلی کو معمول کی چیز بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) کے اس طرح کے استعمال کے کئی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ ٹیکنالوجی کسی بھی تاریخی حقیقت کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جہاں جنگ، قبضے اور نسل کشی کو ترقی اور خوشحالی کے طور پر پیش کیا جائے۔ دوسرے، یہ مستقبل میں سیاسی اور سماجی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے مخصوص عالمی قوتیں اپنے بیانیے کو تقویت دے سکتی ہیں۔ تیسرے، اگر اس طرح کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی بیانیے کو چیلنج نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف حقیقی تاریخ کو مٹانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ ایک ایسی پالیسی کے آغاز کا عندیہ بھی دے سکتا ہے جو بعد میں عملی اقدامات کی بنیاد بنے۔

عالمی سطح پر اس ویڈیو کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین پہلے ہی اس قسم کے نظریات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی جبری بے دخلی عمل میں لائی جاتی ہے، تو یہ نہ صرف جنگی جرم ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کا باعث بھی بنے گا۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں نے بھی اس ویڈیو کو "نوآبادیاتی نسل کشی کے تصور” سے تعبیر کیا ہے، جس میں فلسطینیوں کی زمین پر سیاسی اور معاشی قبضے کو ایک مثالی ترقی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ ویڈیو مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اگر اس میں دکھائے گئے خیالات کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے، تو فلسطینی مزاحمت میں مزید شدت آ سکتی ہے، اور عرب ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ ویڈیو عالمی سطح پر دیگر متنازعہ علاقوں کے لیے بھی خطرناک مثال بن سکتی ہے
مثال کے طور پر کشمیر ،جہاں پہلے ہی مودی سرکار سپریم کورٹ کے متنازع جج چندرہ کی مدد سے آرٹیکل 370 کو ختم کر کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کی حرکتوں سے مودی سرکار کو مزید بڑھاوا مل سکتا ہے ۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ویڈیو محض ایک سوشل میڈیا سٹنٹ ہے یا کسی وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا اشارہ۔ لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک مخصوص بیانیے کو تقویت دے رہی ہے، جس میں فلسطینیوں کے وجود کو مکمل طور پر مٹانے اور ان کے علاقوں کو عالمی سرمایہ داروں کے لیے ایک "کاروباری موقع” میں بدلنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا اس ٹیکنالوجی کے خطرناک پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کو محض تخلیقی یا سائنسی ترقی کے بجائے سیاسی اور امپیریالسٹ مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس ویڈیو کو صرف ایک "ڈیجیٹل طنز” کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اس میں دیے گئے نظریے کے ممکنہ نتائج پر سنجیدگی سے غور کرے۔ اگر اس قسم کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی بیانیے کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ بین الاقوامی سفارتی پالیسیوں میں شامل ہو سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے پر فوری ردعمل دینا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی شکل میں فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی سرزمین پر ان کے جائز دعوے کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

یہ ویڈیو ایک سنگین سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت (AI) مستقبل میں نوآبادیاتی اور امپیریلسٹ ایجنڈوں کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا ہتھیار بننے جا رہی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک ایسا خطرہ ہوگا جو جنگوں اور قبضوں کو محض میدان جنگ تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ انہیں عوام کے شعور اور تاریخی حقائق میں بھی تبدیل کر دے گا۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button