پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان وہ قوت ہیں جو تحقیق اور جدت کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں تحقیق کبھی قومی ترجیح نہیں بنی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں پیچھے ہیں، ہماری صنعتیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، اور ہماری پالیسیاں زمینی حقیقتوں سے کٹی ہوئی ہیں۔
ورلڈ بینک کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے جی ڈی پی کا صرف 0.16 فیصد تحقیق پر خرچ کرتا ہے، جب کہ جنوبی کوریا 5 فیصد، اسرائیل 4.9 فیصد اور امریکہ تقریباً 3 فیصد ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر لگاتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ ہماری قومی ترجیحات کا عکاس ہے اور یہی وہ خلا ہے جو پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں مسلسل پیچھے دھکیل رہا ہے۔
SciSpace کی ایک رپورٹ کے مطابق 1947 سے 2000 تک پاکستان سے محض 819 تحقیقی مقالے شائع ہوئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے قیام اور پالیسی اقدامات کے بعد سال 2020 تک یہ تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ بظاہر یہ کامیابی دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال معیار کا ہے۔ بیشتر مقالے ایسے جرائد میں چھپتے ہیں جو کم معیار کے سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا کے بڑے تحقیقی جریدوں میں پاکستانی مقالوں کی موجودگی اب بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اسی لیے ہماری جامعات شاذ و نادر ہی عالمی ٹاپ 500 میں جگہ بنا پاتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف بجٹ یا سہولتوں کی کمی نہیں، بلکہ ذہنیت اور ترجیحات کا ہے۔ تحقیق کو ہمارے ہاں علم پیدا کرنے یا مسائل کے حل کے بجائے ڈگری حاصل کرنے کی شرط سمجھا جاتا ہے۔ طلبہ تحقیق کو محض ایک "تھیسس” کی حد تک محدود رکھتے ہیں، اساتذہ کے نزدیک یہ صرف "پبلی کیشنز کی تعداد” بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ نتیجہ یہ کہ سرقہ(Plagiarism)عام ہے۔ کاپی پیسٹ کلچر اتنا بڑھ چکا ہے کہ کئی جامعات میں طلبہ اور بعض اساتذہ اس جرم میں پکڑے بھی گئے، مگر احتسابی نظام کمزور ہونے کے باعث یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ مزید بڑھتا گیا۔
یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں کچھ ادارے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی، آغا خان یونیورسٹی، کامسیٹس یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد وہ چند ادارے ہیں جہاں تحقیق کا ماحول نسبتاً بہتر ہے۔ لیکن ان چند مثالوں کے سوا ملک کی بیشتر جامعات صرف تدریسی ادارے ہیں، جہاں تحقیق کے نام پر خاموشی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق صرف اکیڈمی تک محدود نہیں ہوتی۔ وہاں صنعت، کاروبار اور حکومت براہِ راست جامعات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، نئی ادویات اور پالیسیوں کی بنیاد تحقیق پر رکھی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس کے برعکس صنعت کار صرف فوری منافع دیکھتے ہیں، حکومت سیاسی فوائد کے پیچھے بھاگتی ہے، اور جامعات ڈگریاں بانٹنے پر خوش ہیں۔ نتیجہ یہ کہ تحقیق کا کوئی ٹھوس معاشی یا سماجی فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔
ویسے تو ہمارے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ فری لانسنگ، آئی ٹی اور سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں پاکستانی نوجوان اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہی نوجوان تحقیق کے میدان میں کیوں آگے نہیں بڑھ پاتے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور ادارے انہیں سازگار ماحول دینے میں ناکام ہیں۔ تحقیقی فنڈز کی کمی، لیبارٹریوں کی حالتِ زار، پالیسی کا غیر تسلسل اور رہنمائی کی کمی نوجوانوں کو مایوس کر دیتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں سماجی علوم کی تحقیق تقریباً نظرانداز ہے۔ سارا زور سائنسی یا میڈیکل ریسرچ پر دیا جاتا ہے، جبکہ سماجیات، ابلاغیات، سیاسیات اور تاریخ جیسے مضامین کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی شعبے براہِ راست پالیسی سازی اور عوامی شعور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی نظراندازی کے نتیجے میں پالیسیوں اور عوامی مسائل کے درمیان ایک خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر حل کیا ہے؟
1. تحقیق کو فوری طور پر قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے اور جی ڈی پی کا کم از کم 1 فیصد تحقیق پر خرچ کیا جائے۔
2. جامعات کو صنعتوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ تحقیق عملی فائدہ دے سکے۔
3. ادبی چوری (Plagiarism) کو سخت جرم قرار دے کر مؤثر احتسابی نظام قائم کیا جائے۔
4. طلبہ کو تحقیق کے لیے صرف "رٹا” نہیں بلکہ تجسس اور سوال پوچھنے کی تربیت دی جائے۔
5. بین الاقوامی تحقیقی اداروں سے اشتراک بڑھایا جائے تاکہ پاکستانی محققین عالمی معیار سے ہم آہنگ ہوں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ تحقیق ہمارے لئے کوئی آپشن نہیں بلکہ ترقی کا واحد راستہ ہے۔ اگر آج ہم نے تحقیق کو فوری قومی ترجیح نہ بنایا تو آنے والا کل ہمیں مزید پیچھے دھکیل دے گا۔
نوٹ:کالم نگار عمیر خان ایم فل سکالر، میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی ہیں جو تحقیق کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں



