بارشوں سے مزید 15 افراد جاں بحق، چوتھے سپیل کا الرٹ جاری
جہلم میں بہہ جانیوالے کانسٹیبل حیدر کی لاش مل گئی،راولپنڈی میں امدادی سرگرمیاں جاری
لاہور ،جہلم (بیوروچیف،نمائندگان) صوبائی دارلحکومت سمیت مختلف شہروں میں گزشتہ روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ لاہورمیں کچھ علاقوں میں تیز اور بعض میں ہلکی بارش ہوئی ۔نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا رہا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پنجاب میں مون سون بارشوں کے چوتھے سپیل کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 20سے 25جولائی کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرد آلود ہوائوں اور بارش کا امکان ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم، گوجرانوالہ میں تیز ہوائوں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ جھنگ سرگودھا اور میانوالی میں بارشوں کے امکانات ہیں۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات نے بھی ملک بھر میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون ہوائیں سندھ اور بالائی علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں جو 20 جولائی سے شدت اختیار کریں گی، جبکہ 21 جولائی کو مغربی ہواوں کا نیا سلسلہ بھی ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع ت میں 18 جولائی کی شب سے 20 جولائی کے دوران تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔ 20 جولائی کی شام یا رات سے 25 جولائی تک اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، سرگودھا، شیخوپورہ، میانوالی، بھکر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، جھنگ اور دیگر شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر، سوات، کوہستان، پشاور، مردان، بنوں، چارسدہ، نوشہرہ، ہنگو، وزیرستان، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور میں 21 سے 25 جولائی کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔ آزاد کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، نیلم، راولا کوٹ، باغ، کوٹلی، میرپور، بھمبر اور گلگت بلتستان کے علاقوں اسکردو، ہنزہ، گلگت، دیامر، استور، گانچھے، غذر اور شگر میں 20 سے 26 جولائی کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بلوچستان کے شمال مشرقی اور جنوبی اضلاع کوئٹہ، خضدار، ژوب، موسی خیل، قلات، لسبیلہ، قلعہ عبداﷲ، زیارت اور لورالائی میں18 , 19اور 22 تا 25 جولائی کے دوران بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری سیلاب (Urban Flooding) کا خدشہ ہے۔پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اکاڑہ میں بارش کے باعث گھر کے کمرے کی چھت گر گئی، حادثہ میں ایک 25 سالہ خاتون رانی بی بی جاں بحق ہو گئی۔ اس کا 30 سالہ خاوند مظہراقبال اور7 سالہ بیٹی علیزہ،5 سالہ بیٹی فضا، ایک سالہ بیٹا اظہر اقبال شدید زخمی ہو گئے۔
سوات کی تحصیل کبل کے علاقے کانجو( شام بابا قونج )میں باورچی خانہ کی چھت گرنے سے ایک خاتون جان کی بازی ہار گئیں۔ پولیس کے مطابق بتیس سالہ مسما بشری بی بی زوجہ سیف اﷲ اپنے بچوں کے لیے چائے بنا رہی تھیں کہ اس دوران کچن کی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے کے نتیجے میں بشرا بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔
جہلم میں لوگوں کو ریسکیو کرنے کے دوران ریلے میں بہنے والے پولیس کانسٹیبل حیدر علی کی لاش مل گئی،سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کے دوران حیدر علی کے ہاتھ سے رسی چھوٹ گئی اور وہ ریلے میں بہہ گیا۔ راولپنڈی میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے امدادی سرگرمیاں جمعہ کے روز بھی جاری رہیں راولپنڈی میں برساتی نالوں کی نذر ہونے والے 2 افراد کی میتیں نکال لی گئیں جبکہ 8 سالہ بچے کا تاحال کچھ پتہ نہ چل سکا۔
گوجرخان کے موضع پنڈ پیاں میں ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر متعدد افراد سیلابی پانی میں محصور ہو گئے تاہم ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے محصور افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ راولپنڈی کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی گھروں مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں داخل ہونے سے مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہوگیا۔ دریں اثنا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں بارشوں کے سبب 15 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 8 بچے بھی شامل تھے، اس دوران 53 افراد زخمی ہوئے۔
مون سون بارشوں کے باعث ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک 193 افراد جاں بحق، 544 زخمی ہو چکے ہیں، پنجاب میں سب سے زیادہ 114 افراد جاں بحق، 437 زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 40 اموات، 57 زخمی ہوئے، سندھ میں 21 افراد جاں بحق، 40 زخمی ہوئے، بلوچستان میں 16 اموات، زخمیوں کی تعداد 4 ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں ایک، ایک شخص جاں بحق ہوا۔بلوچستان میں مون سون سیزن کے دوران بارشوں، سیلابی ریلوں، دیوار اور آسمانی بجلی گرنے سے 16افراد جاں بحق اور 8زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون سیزن کے دوران جاں بحق افراد میں 7بچے، 5مرد اور 4خواتین شامل ہیں۔اس کے علاوہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث11 مکانات مکمل تباہ اور 55کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔



