پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

پہلےمعافی مانگو۔۔۔!!

بے لگام / ستارچوہدری

حالات حاضرہ پرتبصرہ کرتے وقت جوشخص اپنے بلڈ پریشراورگالی پرقابورکھ سکے، وہ یا تو ولی اللہ ہےیا پھرخود ہی حالات حاضرہ کا ذمہ دارہے۔۔۔۔
جرمن ناول نگار فرانزکافکا لکھتے ہیں۔۔۔!
‏مجھے یہ جان کربہت شرمندگی ہوئی کہ زندگی ایک نقاب پوشوں کی محفل ہے اورمیں ادھراپنے اصلی چہرے کے ساتھ آگیا۔۔۔
لیڈرکون ہوتا ہے۔۔۔؟ دیگر خوبیوں کو چھوڑو،صرف ایک خوبی پربات کرتے ہیں،وہ سچ بولتا ہے،جھوٹا آدمی کبھی لیڈرنہیں ہوسکتا اور لیڈر کبھی جھوٹا نہیں ہوتا،اگرجھوٹا ہے تو لیڈر نہیں،بہروپیا ہے،نوسربازہے۔۔۔لیڈر قوم کے رول ماڈل ہوتے ہیں،بچے انکے نقش قدم پر چلتے ہیں،ان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں،ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتےہیں۔۔۔۔
ہوش سنبھالا تو میرے سامنےملک میں دوہی لیڈر تھے، جو قوم کی رہنمائی کررہے تھے،اقتدار کے ایوانوں تک ان کی ہی رسائی تھی،یوں سمجھ لیں،ملک میں ’’ ٹو پارٹی‘‘سسٹم تھا،باقی دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتیں ’’ حصہ بقدر جثہ ‘‘ وصول کرتی تھیں، وہ تھے نوازشریف اور بےنظیر۔۔۔ہم انکی تقریریں ،انکے پارٹی ترانے سنتے،ان کے وائٹ پیپرز،ان کے منشورپڑھتے۔۔۔ جو اس وقت سنا،جو پڑھا اس پر یقین کرلیا،وہی ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہوچکا۔۔۔
ہمیں میاں محمد نوازشریف نےہی بتایاتھا۔۔۔!!
ذوالفقارعلی بھٹو نے ملک توڑا تھا،پیپلزپارٹی بنگلہ دیش کی بانی ہے،یہ ملک توڑنے والے لوگ ہیں،یہ دعویٰ نہ صرف میاں صاحب اپنی تقریروں میں کرتے تھے،بلکہ مسلم لیگ کے ترانے میں بھی یہ شعر شامل تھا۔۔۔!!
’’ تسی بنگلہ دیش بنا گئے او۔۔۔۔تسی مڑکے فیر ہن آگئے او۔۔۔۔۔‘‘
ہمیں میاں محمد نوازشریف نے ہی بتایا تھا۔۔۔!!
بھٹو خاندان انگریزوں کے کتے نہلانے والا خاندان ہے،ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،یہ صرف پاکستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے آتے ہیں۔
ہمیں میاں صاحب نے ہی بتایا تھا۔۔۔!!
بے نظیر نے تحریک عدم اعتماد کیخلاف سرکاری خزانے کے40 کروڑ سے سیاسی وفاداریاں خریدی تھیں۔۔۔ بے نظیر نے ایک کمپنی کو5ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے21لاکھ،68ہزار ڈالر دیئے،لیکن ہیلی کاپٹر نہ آئے۔۔۔بے نظیر نے امریکا سے15ارب کے3طیارےخریدے جوکبھی محو پروازنہ ہوسکے۔۔۔ایک اہم شخصیت سٹیل ملز کے چیئرمین سے ماہانہ10کروڑکمیشن لیتی تھی ۔۔۔عبدالرزاق یعقوب نے پاکستان میں سونا سمگل کرنے کیلئے ایک اہم شخصیت کو400ملین رشوت دی۔۔۔ایک اہم شخصیت کے ایک دوست نے شیخوپورہ میں سینکڑوں ایکڑ اراضی گن پوائنٹ پر حاصل کی۔۔۔ایک اہم شخصیت کے مہمانوں کو وفاقی حکومت نے ڈیڑھ کروڑ فراہم کئے۔۔۔ایک اہم شخصیت نے آٹے کا بحران پیدا کرکے کروڑوں روپے کمائے۔۔۔ایک اہم شخصیت نے5ارب نوٹوں سے بھرا سٹیٹ بینک کا ٹرک غائب کروادیا۔۔۔ایک اہم شخصیت نے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا حکم دیکر ملک بھر کی ہر فیکٹری سے5،5لاکھ بھتہ لیا۔۔۔ایک اہم شخصیت نے اپنے دوست کو نواب شاہ میں ڈیڑھ کروڑ کی سرکاری زمین6لاکھ میں دے دی۔۔۔ارسس ٹریکٹر سکیم سے ایک اہم شخصیت نے25کروڑ کمیشن کھایا۔۔۔پیپلز ورکس پروگرام کے تحت ارکان اسمبلی کو5ارب بانٹے گئے۔۔۔حاکم ایک اہم شخصیت 40لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ برطانیہ میں جمع کراتے پکڑے گئے۔۔۔بے نظیر نے600 سے زائد سی ڈی اے کے پلاٹ سیاسی کارکنوں کو تقسیم کیئے۔۔۔بےنظیر نے کمیشن کی مد میں17ہزار برطانوی پاؤنڈ میں ہیروں کا ہار خریدا۔۔۔ایس جی ایس فرم نے ٹھیکہ حاصل کرنے کیلئے بے نظیر کو4اعشاریہ3ملین ڈالر کمیشن ادا کیا۔۔۔حاکم ایک اہم شخصیت نے سانگھڑ میں دیوان میرومل سے زبردستی 1100ایکڑ اراضی حاصل کی۔۔۔بےنظیر نے حاکم ایک اہم شخصیت کا سندھ ایگری کلچر کا70لاکھ،نیشنل بینک کا50لاکھ قرضہ معاف کیا۔۔۔حاکم ایک اہم شخصیت فرانس میں ایک محل کے مالک ہیں۔۔۔بے نظیر اور زدراری برطانیہ میں335ایکڑ پر بنے سرے محل کے مالک ہیں۔۔۔بھٹو خاندان کی ایک درجن سے زائد غیر ملکی جائیدادیں ہیں۔۔۔ایک اہم شخصیت نے مرتضیٰ بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر بینک سے کروڑوں کا چیک کیش کرایا تھا۔۔۔ایک اہم شخصیت کی بیرون ملک19آف شور کمپنیاں ہیں،سوئٹزرلینڈ میں13،برطانیہ میں8،فرانس میں4،امریکا میں7خفیہ بینک اکائونٹس ہیں۔۔۔ایک اہم شخصیت کومسٹر ٹین پرسنٹ،علی بابا چالیس چور کے خطاب میاں صاحب نے ہی عطا کئے تھے۔۔۔بے نظیرکا کردارانتہائی شرمناک تھا،یہ بات میاں صاحب نے پورے لاہور میں ہیلی کاپٹر سے تصویریں گرا کر ہمیں سمجھایا تھا۔۔۔دوسری طرف آئیں۔۔۔
ہمیں بےنظیر اور ایک اہم شخصیت نے ہی بتایا تھا۔۔۔۔!!
نوازشریف نےانتخابی مہم کیلئے منشیات فروشوں سے200کروڑ حاصل کئے۔۔۔نوازشریف اور انکے خاندان نے1985 سے1993 تک مالیاتی اداروں سے قرضوں کی آڑ میں6ارب سے زائد رقم ہتھیائی۔۔۔نوازشریف نے وزرات عظمیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اتفاق شوگر ملز کو16کروڑ کا فائدہ اٹھایا۔۔۔نوازشریف نے10ارب کے قرضے معاف کرائے۔۔۔نوازشریف نے اربوں روپے کےایل ڈی اے کےپلاٹ سیاسی حواریوں میں بانٹے۔۔۔نواز شریف نے ایک اہم شخصیت کیخلاف انہڑ کیس درج کرانے والی خاتون کوڈیڑھ کروڑکا سرکاری پلاٹ تحفے میں دیا۔۔۔نوازشریف نے1991 میں سٹیل ڈیوٹی سکریپ کم کرکے50کروڑ کمائے۔۔۔شہباز شریف نے8کروڑ کی ایکسائز ڈیوٹی چرائی۔۔۔نوازشریف نے تعمیر وطن پروگرام میں اڑھائی ارب روپےاپنے حواریوں میں بانٹے۔۔۔نوازشریف نے موٹروے منصوبے سے9ارب کمیشن کھایا۔۔۔نواز شریف نے منی لانڈرنگ کرکے30کروڑ مالیت سے لندن میں فلیٹ خریدے۔۔۔شہباز شریف نے پنجاب میں اے ایس آئی بھرتی کرنےکیلئے فی کس 3 سے5لاکھ رشوت لی۔۔۔نوازشریف نےلاہورہائی کورٹ کے 100ججوں کوپلاٹ دیئے۔۔۔1987 میں نوازشریف نے ارکان اسمبلی کو ساتھ ملانے کیلے سرکاری خزانےسے34کروڑ روپے ادا کئے۔۔۔نواز شریف نے ایم ایس ایف کوسرکاری خزانے سے50کروڑ دیئے۔۔۔نواز شریف کا ساتھی سیف الرحمٰن یوبی ایل کے97کروڑ کھا گیا۔۔۔نوازشریف نے گرین ٹریکٹرسیکم سے25کروڑ کمیشن وصول کیا۔۔۔نوازشریف نےانڈسٹری لگوانے کے نام پر3500افراد کو60ارب قرضے دلوائے،یہ سارا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا گیا۔۔۔اپنے فرنٹ میں میاں منشا کو ایم سی بی’’تحفہ‘‘ میں دے دیا۔۔۔سیف الرحمٰن نے گاڑیاں درآمد کرکے2ارب کمائے۔۔۔
یہ ہے دونوں خاندانوں کی ہلکی سی جھلک،بس سمجھیں، دو سے تین فیصد۔۔۔۔جو تیس،پینتیس سالوں سے دونوں نے قوم کو بتائی،قوم نے ان پر اعتمادکیا،انہیں بارباراقتدار میں لائے،اب دونوں خاندانوں نے ’’پیکا ایکٹ‘‘ منظور کیا ہے،جس کے مطابق غلط خبر دینے پرتین سال قید اور20لاکھ جرمانہ ہوگا۔۔۔میراحکومت سے یہ سوال ہے،کیونکہ یہ حکومت ان دونوں خاندانوں کی مشترکہ ہے، کیا جو آپ لوگ ہمیں ایک عرصے سےبتا رہے تھے،اگر ہم وہ باتیں لکھیں یا پڑھیں کیا وہ فیک نیوزہوگئیں۔۔۔؟؟ اگران باتوں کو فیک سمجھاگیا توان پرپیکا ایکٹ کیسے نافذ ہوسکےگا۔۔۔؟ یہ ایک قانونی سوال ہے۔۔۔ہاں اگر ان جرائم پر پیکا ایکٹ لگانا ہے تو ایک قراردادپاس کرلیں،شریف خاندان کی بھٹو،ایک اہم شخصیت خاندان کیخلاف،بھٹو ایک اہم شخصیت خاندان کی شریف خاندان کے خلاف تمام باتیں جھوٹ،فریب،سیاسی،بلکہ بکواس قرار دے جاتی ہیں،سب الزامات ہی تھے،مقصد قوم کو بیوقوف بنانا تھا،قرار دادپیش کرنے سے پہلے ایک اہم شخصیت اور میاں نوازشریف پارلیمنٹ میں خطاب کریں، اوراعتراف کریں وہ قوم کے ساتھ پینتیس سال سے جھوٹ بولتے رہے ہیں اورمعافی مانگتے ہیں،اس کے بعدقراردادمنظورکرلی جائے۔اگرایسا نہیں کرتے تو پیکا ایکٹ میں سزائیں دینا مشکل ہوجائے گا،پیکٹ ایکٹ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ ہماری قوم کا بلڈپریشراورگالی پرکنٹرول کرنا ناممکن ہے۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button