پاکستانتازہ ترینکالم

فسطایت کا ایک سال ،،

حسنین جمیل

پاکستان میں عام انتحابات کو ایک سال ہو گیا جوشاید پاکستان کی تاریخ کے سب متنازعہ ترین الیکشن تھے ، خلائی مخلوق نے جو کالک اپنے چہرے پر ایک سال قبل ملی تھی ان کا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کالک دھل جاے گی مگر یہ انکی خام خیالی ثابت ہوئی۔
ایک سال بعد ان کے چہرے پر لگی سیاہی مزید نمایاں ہو چکی ہے جس نے خلائی مخلوق کا چہرہ خاصا ڈرائونا کر دیا کبھی توتنہا بیٹھ کر اپنا مکروہ چہرہ آئینے میں دیکھتے ہوں گے تو شرم سے مر جاتے ہوں گے۔

گذشتہ سال ہونے والے الیکشن نیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بنے تھے یہ قومی تاریخ کے واحد انتخابات تھے جو منعقد ہونے سے پہلے ہی اپنی شفافیت کھو چکے تھے عام طور پر الیکشن ہونے کے بعد دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں جو ہمارا قومی وطیرہ ہے مگر یہ واحد جو منعقد ہونے سے پہلے ہی سیاسی آلودگی کا شکار ہو گئے جب خلائی مخلوق کے اشارہ پر اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور ایک اور اہم شخصیت نے قومی تاریخ میں پہلی بار ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے بلے کا اتخابی نشان ہی چھین لیا عمران خان کو پابند سلاسل کر دیا گیا تحریک انصاف کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھین لئے گئے گرفتاریاں اور کیا کچھ نہیں کیا مگر اعلیٰ قاضی فائز عیسیٰ کے سرپرجوں تک نہیں رینگی۔

تحریک انصاف کے آزاد امید وار جن کو عجیب وغریب انتخابی نشان الاٹ ہوئے تھے وہ خلائی مخلوق کئ پسندیدہ جماعتوں مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ہر جگہ سے شکست فاش دیتے گئے ، کام ادھر ہی ختم نہیں ہوا الیکشن ٹربیونل کو بھی ایک سال سے فعال نہیں ہونے دیا گیا کہیں فارم 47 کا پول نہ کھول جاے ، تپن ایک غیر سرکاری تنطیم جو الیکشن کی مانیٹرنگ کرتی ہے اسکی پریس ریلیز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر شائع شدہ انتخابی نتائج برائے جنرل الیکشن 2024 کا پتن نے آڈٹ کیا جس میں انتہائی تشویش ناک رجحانات سامنے آئے۔ الیکشن کمیشن ستمبر 2024 تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کرتا رہا۔ الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 اور لیکشن رولز 2017 میں دی گئی زیادہ تر لازمی ڈیڈلائنز پوری کرنے میں ناکام رہا۔ خاص طور پر وہ رولز جو انتخابی نتائج کے اعلان کے اوقات اور تاریخوں کے بارے میں واضح ہدایات دیتے ہیں۔
ماضی کے برعکس الیکشن کمیشن نے انتخابات کے ایک سال بعد ووٹ ڈالنے والے بھی مرد اور خواتین ووٹرز کے الگ الگ ٹرن آؤٹ کا اعلان نہیں کیا۔ یا تو یہ الیکشن کمیشن کی نااہلی کا نتیجہ ہے یا کمیشن نے دھاندلی چھپانے کی کوشش کی۔ یا دونوں۔ لاہور کے متعدد قومی حلقوں کے سینکڑوں پولنگ اسٹیشنز پر رائے دہندگان کا ٹرن آوٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا۔ کچھ میں 100 فیصد سے زیادہ بھی تھا۔ جو ناممکن ہے لیکن ان کے متعلقہ صوبائی حلقوں کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آوٹ اوسطا 40 فیصد تھا۔ یہ رجحان پنجاب اور کراچی میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
پتن کے مطابق جنرل الیکشن2024 میں اول ٹرن آؤٹ مختلف تنظیموں کے مختلف اندازوں سے کہیں کم ہوا کیونکہ قومی اور صوبائی حلقوں کے ہزاروں مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ کا فرق 40 فیصد سے زیادہ پایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے احکامات کے باوجود پارلیمنٹ اور دو صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور غیر مسلموں کیلئے پانچ درجن سے زیادہ نشستیں خالی پڑی ہیں۔ اس نے وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی مساوات کو مسخ کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے 70 حلقوں میں 421 پولنگ اسٹیشنوں پر صفر یا 50 سے کم ووٹ پڑے لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملہ کی تحقیقات کرنے یا دوبارہ پولنگ کرانے کا اختیار استعمال نہیں کیا۔
قومی اسمبلی کے 70 حلقوں کے 421 پولنگ اسٹیشنوں پر صفر یا 50 سے کم ووٹ پڑے لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے یا ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرانے کے اپنے اختیار کر استعمال نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن، نگران حکومت اور موجودہ مخلوط حکومت نے موجودہ حکمران اتحاد کی جیت یقینی بنانے کیلیے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع استعمال کیے۔
ووٹوں میں دھاندلی اور ہارنے والوں کی جیت(موجودہ حکمران اتحاد) کے درمیان کئی معاملات میں براہ راست تعلق نظر آتا ہے۔ انتخابات سے پہلے اور ووٹنگ کے دن کے ذرائع اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد "مثبت” نتائج حاصل کرنا تھا۔ اور انتخابات کے بعد ہونے والی دھاندلی کا مطلب یہ ہے کہ "ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل” چوری شدہ عوامی مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں۔ مثلآ پیکا کا نفاذ اور چھبیسویں آئینی ترمیم وغیرہ۔، ان انتخابات کو نہ صرف سیاسی سماجی اور صحافتی سطح پر دھاندلی زدہ قرار دیا گیا بلکہ ادبی سطح پر ڈاکٹر غافر شہزاد کے ناول ، اگرتلا کے ذریعے بھی محرک بحث بنایا گیا ایک بیوروکریٹ لیاقت چٹھہ نے جس طرح ان الیکشن کا پول کھولا تھا غافر شہزاد اپنے ناول میں اس کردار کو فکشن میں کہہ گئے اور ادبی کسوٹی پر پرکھتے ہوے ایک بہترین تخلیقی کام کیا بلاشبہ غافر شہزاد نے واضح کیا ہے کیسے اس ملک میں طاقت کے اصل مراکز عوامی خواشات کو اپنے قدموں تلے کچل دیتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button