پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبجرم-وسزاعلاقائی خبریں

پیما،پیف کی ملی بھگت،سکولوں کی ری ایلوکیشن،بھرتیوں میں بے ضابطگیاں

ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کا اختیارات کا ناجائز استعمال،ری ایلوکیشن، بلیک لسٹنگ کیلئے وزیراعلیٰ کا نام استعمال ہونے کا انکشاف ،متاثرین،شہریوں کا نوٹس کا مطالبہ

لاہور (سید ظہیر نقوی سے )پیما اور پیف کی ملی بھگت؟ امیدواروں کو نااہل قرار دینے پر سوالات اٹھنے لگے۔ پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹو مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) کے تحت اسکولوں کی ری ایلوکیشن اور بھرتیوں کے عمل پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ متعدد امیدواروں کو مبینہ طور پر غیر شفاف طریقے سے نااہل قرار دے دیا گیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وہ امیدوار جنہیں پیف کے پہلے مرحلے میں صرف "Low on Merit” کی بنیاد پر مسترد کیا گیا تھا، انہیں اب پیما کی نئی فہرست میں "Not Eligible” قرار دے دیا گیا ہے۔ اور وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کا CNIC پہلے سے PSRP Phase-2 میں موجود ہے۔ جبکہ پہلے ایسی کوئی بنیاد ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

متاثرہ امیدواران کا کہنا ہے پہلے راؤنڈ میں صرف کم میرٹ کی وجہ سے سکول نہیں ملا، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ PSSP میں موجود CNIC کی وجہ سے نااہل ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

ری ایلوکیشن، بلیک لسٹنگ اور نام وزیراعلیٰ کا استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے،ذرائع کے مطابق PEIMA کے تحت وہ اسکولز جو "satisfactory” کارکردگی دکھا رہے تھے۔ انہیں بھی ری ایلوکیشن میں ڈال دیا گیا اور اس فیصلے کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن سے منسوب کیا گیا۔ بعد ازاں درجنوں درخواست گزاروں کو محض اس بنیاد پر بلیک لسٹ کر دیا گیا کہ انہوں نے پیف کے ان اسکولوں میں درخواستیں کیوں دیں، چاہے انہیں سکول الاٹ ہوا ہے یا نہیں ۔

ایک درخواست گزار کے مطابق پہلے تو سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ یہ سارا عمل صرف مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے اور کرپشن کے ذریعے پیسہ کمانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

امجدحسین کی فائل فوٹو

تحقیقات کے مطالبات اُس وقت شدت اختیار کر گئے جب ایک اور معاملے میں پنجاب ایجوکیشن انیشیٹو مینیجمنٹ اتھارٹی(PEIMA) میں ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ایک وفات پانے والی لائسنس ہولڈر کی بہن کی جگہ کسی اور این جی او کو اسکول منتقل کر دیا، حالانکہ صوبائی محتسب نے اس کے خلاف فیصلہ سنایا بعد ازاں امجد حسین نے اپنے ہی ایک کولیگ کو قربانی کا بکرا بنا کر خود کو بچا لیا۔

متاثرین اور شہریوں نے کہا ہے کہ جو شخص اپنے ہی غلط فیصلوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، جو اخلاقی جرات سے خالی ہو، اُس کے ہاتھ میں پورے محکمے کی باگ ڈور کیوں دی گئی ہے؟ کیا قابل اور دیانت دار افسران کی کمی ہے؟

درخواست گزاروں، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے بھرتی اور ری ایلوکیشن کے عمل کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے۔بلیک لسٹنگ کے غیر واضح اور متضاد فیصلوں کی تحقیقات کی جائیں۔ان افسران کو جواب دہ بنایا جائے جو اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔

دریں اثنا ڈپٹی ڈائریکٹرپیما امجدحسین سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا مگرانہوں نے فون ریسیونہیں کیا ادارہ ان کا موقف من وعن اشاعت کیلئے تیار ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button