انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکالم

پنج شیر سے چترال تک براہ راست سڑک کا قیام

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے پنج شیر کی پاکستان کے ساتھ سڑک کے ذریعے براہ راست رابطے کی خبر ایک تاریخی پیش رفت ہے جو نہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بنائے گی بلکہ پورے خطے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔ بدخشاں کے ضلع زیبک سے پاکستان کے چترال تک بننے والی یہ 194 کلومیٹر طویل سڑک تاریخ کے ایک ایسے خواب کی تعبیر ہے جو طویل عرصے سے سرحد کے دونوں طرف کے باسیوں نے دیکھا تھا۔

پنج شیر ، بدخشاں، واخان، اور چترال کے علاقے صدیوں سے ایک دوسرے سے ثقافتی، لسانی، تجارتی اور تمدنی لحاظ سے جڑے رہے ہیں۔ شاہراہِ ریشم کے قدیم راستے انہی پہاڑی خطوں سے ہو کر گزرتے تھے جن سے چین، وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کے درمیان تجارت اور سفارتکاری کی راہیں کھلتی تھیں۔ چترال کے راستے واخان، زیبک اور بدخشاں کے قدیم قافلے نہ صرف اجناس بلکہ تہذیب و تمدن کا تبادلہ کرتے رہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد ان علاقوں کے درمیان آمد و رفت بند ہو گئی اور سیاسی سرحدوں نے تاریخی روابط کو ماند کر دیا۔ افغانستان میں طویل جنگی صورتحال اور عدم استحکام نے ان خطوں کو مزید تنہائی کا شکار بنا دیا۔ تاہم اب جب کہ افغانستان نسبتاً استحکام کی طرف گامزن ہے، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کے ذریعے دوبارہ روابط بحال کیے جا رہے ہیں، تو یہ ایک نہایت خوش آئند تبدیلی ہے۔

بدخشاں اور پنج شیر کے درمیان سنگلاخ پہاڑ، گہری وادیاں اور برف پوش راستے ہمیشہ سے انسانی آمد و رفت کے لیے رکاوٹ رہے ہیں۔ صوبائی گورنر کے دفتر کے مطابق، اس سڑک کی تعمیر افغان وزارت دفاع کے بریگیڈ کی نگرانی میں عمل میں آئی۔ یہ نہ صرف ایک انجینئرنگ چیلنج تھا بلکہ سیکیورٹی، موسمی حالات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔

یہ سڑک پاکستان کے وادی چترال سے زیبک کے راستے پنج شیر کو جوڑتی ہے اور اس طرح شمال مشرقی افغانستان کو جنوبی ایشیا کی منڈیوں سے جوڑنے والا ایک نیا راہداری راستہ مہیا کرتی ہے۔ علاقائی رابطے کے تناظر میں یہ منصوبہ مستقبل میں چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور جنوبی ایشیا کے مابین اہم تجارتی شاہراہ بن سکتا ہے۔

نئی سڑک سے نہ صرف پنج شیر ، بدخشاں اور چترال کے مقامی باشندوں کو روزمرہ آمد و رفت میں سہولت میسر آئے گی بلکہ تجارت، سیاحت، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی بہتر ہوگی۔ خصوصاً پنج شیر کی مشہور زمرد کی کانیں اور چترال کی دستکاریاں، قیمتی پھتر، جواہرات اور سرمہ بین الاقوامی منڈیوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ، سرحدی علاقوں کے عوام کے درمیان خاندانی و ثقافتی روابط جو طویل عرصے سے محدود تھے، اب بحال ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ یوں، سڑک نہ صرف مادی ترقی بلکہ تمدنی احیاء کی بھی ضامن بن سکتی ہے۔

چترال کے زیوار گول اور اوجنو گول کے راستے بھی تاریخی طور پر افغانستان کے واخان کوریڈور تک رسائی کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ان قدرتی راستوں کو اگر حکومتی سطح پر ٹنل کے ذریعے جدید سڑکوں میں بدلا جائے تو یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اضافی تجارتی و سیاحتی راہداری کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان اور افغانستان دونوں کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے ان متبادل راستوں کو کھولنے پر غور کرنا چاہیے تاکہ پورے خطے میں خوشحالی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

پنج شیر سے چترال تک براہ راست سڑک کا قیام صرف ایک بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک تاریخی، ثقافتی اور معاشی انقلاب کا آغاز ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف سرحد پار تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان پُل کا کردار بھی ادا کرے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سڑک کو پائیدار، محفوظ اور فعال بنایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ دیگر قدیم راستوں کو بھی مرمت کرکے ایک مربوط علاقائی نیٹ ورک قائم کیا جائے جو دیرپا امن، خوشحالی اور تعاون کی بنیاد بن سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button