لاہور (زبیر اسلم خان) آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر جماعت اسلامی پاکستان نے ثالثی کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کی صورتحال، جاری بحران کے حل اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمن کو ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حافظ نعیم الرحمن صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور دیگر قومی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر مشاورت کی جا سکے اور بحران کے خاتمے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں۔
ثالثی کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل
جماعت اسلامی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کرے گی اور صورتحال کے حل کے لیے مختلف تجاویز مرتب کر کے قیادت کو پیش کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حالات کی بہتری اور کشمیری عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی پاکستان سے وابستگی تاریخی اور لازوال ہے، جس پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا۔
لاک ڈاؤن سے متاثرہ عوام کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ
اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تین ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث آزاد کشمیر کے عوام کو بنیادی ضروریات زندگی اور ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر اشیائے ضروریہ اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ
دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمت فوری طور پر کم کر کے 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچایا جانا چاہیے اور آئل کمپنیوں کے نقصانات یا دیگر وجوہات کو جواز بنا کر عوام کو معاشی ریلیف سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگا پٹرول اور ڈیزل ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، اگر حکومت معیشت کا پہیہ چلانا اور صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بحال کرنا چاہتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔
انہوں نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ٹرانسپورٹ کرایوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی یقینی بنائی جائے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔



