پاکستانتازہ ترینکالم

ڈنکی سے ہلاکتیں اور فتویٰ،کیا حکومت کے پاس کوئی اور حل نہیں ؟

مغربی افریقہ کے ساحل پر ایک المناک حادثے میں ایک اور کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے۔ ان میں 44 پاکستانی بھی شامل تھے، جو بہتر مستقبل کے خواب لیے، اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر، غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پچھلے چند سال میں ایسے کئی حادثے سامنے آئے ہیں، جہاں نوجوانوں نے خوابوں کی قیمت اپنی جانوں سے چکائی۔

یہ کشتی انسانی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا حصہ تھی، جو مغربی افریقہ کے راستے لوگوں کو یورپ پہنچانے کا جھوٹا وعدہ کرتا ہے۔ متاثرین نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ادا کرکے یہ خطرناک سفر اختیار کیا تھا۔ لیکن، منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے خواب سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہوگئے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مراکش کے ساحل کے قریب 13 روز تک سمندر میں بے یار و مددگار کشتی کے مسافروں کی جان بچانے میں ایک موبائل فون نے اہم کردار ادا کیا۔ کشتی میں موجود ایک نوجوان کے پاس موبائل فون بچ گیا تھا، جسے اسمگلرز کی تلاشی کے دوران چھپا لیاگیا تھا۔

رپورٹ میں لکھا گیا کہ مسافر عزیر بٹ کے مطابق، جب اسمگلرز کشتی چھوڑ کر گئے اور تمام ضروری سامان چھین لیا، تو ایک نوجوان نے اپنا موبائل فون آن کیا۔ حیرت انگیز طور پر، وہاں موجود ایک وائی فائی سگنل نے اسے فعال کر دیا۔ نوجوان نے جلدی سے کشتی میں موجود مسافروں کی تصویر کھینچ کر اپنے جاننے والوں کو بھیج دی اور ان کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

اس اطلاع کے بعد، حکام نے فوری کارروائی کی، اور مراکشی کوسٹ گارڈز نے بروقت پہنچ کر کشتی میں موجود 36 افراد کو بچا لیا۔ موبائل فون کی موجودگی اور اس کا بروقت استعمال ایک ایسے وقت میں امید کی کرن ثابت ہوا، جب مسافروں کی زندگیوں پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔

یہ واقعہ انسانی ہمدردی اور ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ چھوٹی سی چیز کس طرح جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

لیکن کیا یہ پہلا اور آخری واقعہ ہے؟جون 2023 میں یونان کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے 750 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن 209 پاکستانی تھے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق، 2023 بحیرہ روم میں 2016 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہوا، جس میں 3,100 سے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

لیکن یہ لوگ ایسے خطرناک سفر پر کیوں نکلتے ہیں؟پاکستان میں موجود اقتصادی حالات ان لوگوں کو غیر قانونی ہجرت پر مجبور کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔بیروزگاری کی شرح 8.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔خاندان کی کفالت، بچوں کی تعلیم، اور والدین کے علاج کے لیے لوگ اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں 25 فیصد نوجوان کسی بھی قسم کی تعلیم یا مہارت سے محروم ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے وہ ملک میں روزگار حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتے اور بیرون ملک مواقع کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک ایسے لوگوں کو جھوٹی امیدیں دے کر ان سے بھاری رقم بٹورتا ہے۔اسمگلرز ہر سال 10 ارب ڈالر کماتے ہیں

متاثرین میں سے صرف 30 فیصد افراد اپنی منزل تک پہنچ پاتے ہیں، اور باقی یا تو موت کا شکار ہو جاتے ہیں یا گرفتار۔

جامعہ نعیمیہ نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کے لیے "ڈنکی” کے استعمال کو غیر قانونی اور اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

فتوی تو جاری کر دیا گا ہے مگر صرف فتوی مسئلے کا حل نہیں۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آخر کیوں لوگ اتنے جان لیوا سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت معاشی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان کی صنعتی ترقی کی شرح صرف 2 فیصد رہ گئی ہے، جو ملازمتیں یا روزگار پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔بیرون ملک قانونی امیگریشن کے مواقع بھی محدود ہیں، جس کی وجہ سے لوگ غیر قانونی راستے اپناتے ہیں۔اس کے علاوہ معاشرتی طور پر بہتر زندگی کی خواہش اور کامیابی کا دباؤ نوجوانوں کو ایسے خطرناک فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی سخت امیگریشن پالیسیاں اور غیر قانونی ہجرت کے خطرات کو نظرانداز کرنا بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
تو حکومت پر بہت بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے ،حکومت کو مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔اور نوجوانوں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتیں سکھا کر ان کی ملازمت کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے کے مواقع فراہم کرنا غیر قانونی ہجرت کو روک سکتا ہے۔

تاہم انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مقامی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کی فلم ڈنکی اسی موضوع پر بنی۔ فلم نے دکھایا کہ لوگ کس طرح اپنے خاندانوں کے خواب پورے کرنے کے لیے غیر قانونی ہجرت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کوشش تو اچھی تھی لیکن یہ فلم بھی ڈنکی لگانےوالوں پیش آنے والے مسائل کی حقیقت دکھانے میں ناکام رہی تھی۔

مغربی افریقہ کے ساحل پر پیش آنے والا حادثہ ایک افسوسناک یاد دہانی ہے کہ غیر قانونی ہجرت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان کے اپنے ملک میں ایک محفوظ اور باوقار مستقبل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی اور 44 پاکستانی اپنے خوابوں کے لیے اپنی جان قربان نہ کرے۔

لیکن صرف فتوے جاری کرنے سے اس مسئلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button