پاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ،عالمی معیشت بے یقینی کاشکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر نئی تجارتی پابندیاں عائد کرکے عالمی معیشت میں بے یقینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ کینیڈا اور میکسیکو کو 30 دن کی مہلت دی گئی ہے، لیکن ان اقدامات کے دور رس اثرات ہوں گے۔ یہ پالیسیاں امریکہ کے قریبی تجارتی اتحادیوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گی، جبکہ چین کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ چین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے نئے ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے اور ادھر یورپ بھی اس حوالے سے حکمت عملی پر غور کر رہا ہے ۔

کینیڈا امریکہ کا سب سے بڑا غیر ملکی خام تیل فراہم کرنے والا ملک ہے۔ سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے نومبر تک امریکہ میں درآمد کیے جانے والے تیل کا 61 فیصد کینیڈا سے آیا۔ اگرچہ کینیڈا سے امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے لیکن توانائی کے شعبے کو نسبتاً کم 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس تیل کی کمی نہیں ہےلیکن اس کی ریفائنریز خاص قسم کے ہیوی یعنی گاڑھے خام تیل کو پروسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں جو زیادہ تر کینیڈا اور کچھ میکسیکو سے درآمد کیا جاتا ہے۔ امریکی فیول اینڈ پیٹروکیمیکل مینوفیکچررز کے مطابق کئی ریفائنریز کو بھاری خام تیل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زیادہ مؤثر طریقے سے پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول تیار کر سکیں۔اگر کینیڈا نے کسی بھی امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خام تیل کی برآمدات میں کمی کر دی تو اس سے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جو امریکی صارفین کے لیے براہ راست نقصان دہ ہوگا۔

کینیڈا اور میکسیکوجو امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے USMCA کے تحت منسلک ہیں ان پابندیوں کے باعث اقتصادی مشکلات کا سامنا کریں گے۔ کینیڈا میں اسٹیل المونیم توانائی اور آٹو موبائل انڈسٹری متاثر ہوگی جبکہ میکسیکو کی الیکٹرانکس زرعی اجناس اور آٹو پارٹس کی برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان ممالک بلکہ امریکی صارفین کو بھی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ درآمد شدہ اشیاء کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔

چین پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے امریکی فیصلے کے بعد بیجنگ نے بھی جوابی اقتصادی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ چین کی وزارت خزانہ نے 15 فیصد ٹیرف کوئلے اور مائع قدرتی گیس پر، جبکہ 10 فیصد ٹیرف خام تیل ، زرعی مشینری، بڑی گاڑیوں اور پک اپ ٹرکوں پر عائد کر دیا ہے۔ یہ اقدامات 10 فروری سے نافذ العمل ہوں گے۔
اس کے علاوہ چین کی وزارت تجارت اور کسٹم ایڈمنسٹریشن نے 24 سے زائد میٹلز اور ٹیکنالوجیز پر نئی برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں ٹنگسٹن شامل ہے جو صنعتی اور دفاعی استعمال کے لیے ایک انتہائی اہم ایلیمنٹ ہے۔ ٹیلیوریم بھی ان مصنوعات میں شامل ہے جو سولر سیلز کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

چین نے مزید دو امریکی کمپنیوں — بایوٹیک کمپنی Illumina اور فیشن ریٹیلر PVH Group (جو Calvin Klein اور Tommy Hilfiger کا مالک ہے) — کو اپنی ناقابل اعتماد اداروں کی فہرست میں شامل کر تے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مارکیٹ کے معمول کے تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری طرف یورپی یونین ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی سے پریشان ہے اور اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ اگر امریکہ نے یورپ پر بھی ٹیرف عائد کیے تو وہ جوابی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ فرانس اور جرمنی جیسے ممالک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے یورپی کاروں، اسٹیل اور دیگر مصنوعات پر پابندیاں لگائیں تو وہ بھی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کریں گے۔ اس میں بوئنگ کے طیارے، امریکی وسکی، ہارلے ڈیوڈسن موٹرسائیکل اور بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ، یورپ چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کر کے امریکی معیشت پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ جو ڈونلڈ ٹرمپ انتظاسیہ کے لیے پریشان کن ہوگا۔

ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے فیصلوں کے بعد جنوبی امریکہ میں بھی تجارتی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایکواڈور نے اعلان کیا ہے کہ وہ میکسیکو سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 27 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ایکواڈور کے صدر ڈینئل نوبوا نے کہا کہ یہ اقدام "مقامی پروڈیوسرز کے تحفظ” کے لیے کیا جا رہا ہے اور جب تک دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ نہیں ہو جاتا، یہ ٹیرف برقرار رہے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی چھیڑی ہوئی تجارتی جنگ کےاثرات سے انڈیا بھی متاثر ہو سکتا ہے جو دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کا خواب دیکھ ریا ہے۔
امریکہ کی جانب سے چینی اشیاء پر زیادہ ٹیرف عائد کرنے سے چینی مصنوعات تیسری دنیا کے ممالک کا رخ کر سکتی ہیں۔ چین پہلے ہی اقتصادی سست روی اور اضافی پیداوار کے مسئلے سے دوچار ہے اور وہ اسٹیل، نان فیرس میٹلز، کنزیومر الیکٹرانکس اور کیمیکلز جیسی اشیاء کو دیگر مارکیٹوں میں کم قیمت پر بیچنے کی کوشش کرے گا۔
انًڈیا اور چین کے دمیان تجارت کو دیکھا جائے تو رپورٹس کے مطابق انڈیا پہلے ہی چین کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کر رہا ہے، اور یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو روسی خام تیل کی خریداری پر ممکنہ امریکی پابندیاں ہیں۔ روس اور یوکرین جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کی طرف سے روسی تیل لگنے والی پابندیوں سے انڈیا نے پھرپور فائدہ اٹھایا
انڈیا کو سستے روسی تیل سے فائدہ ہو رہا تھا اور وہ اس خام تیل کو ریفائن کرکے امریکہ اور یورپ کو پٹرول اور ڈیزل برآمد کر رہا تھا۔ لیکن اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باعث تیل کی تجارت اب مزید سخت نگرانی میں آ سکتی ہے جو انڈیا کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بنے گی. اور اگر ڈالر انڈیا کے روپے کے مقابلے میں مہنگا ہوتا ہے انڈیا سے سرمایا کاری نکلنے کا خطرہ بھی موجود رہےگا۔

اگر عالمی تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میںمہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
درآمد شدہ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کاروباروں کے لیے لاگت بڑھ سکتی ہے اور پیداوار میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
معاشی ترقی کی سست رفتاری کی بھی پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ اگر بڑی عالمی معیشتیں تجارتی جنگ میں الجھ گئیں تو عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں بے یقینی بڑھے گی۔
مختصر یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیاں نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اگر یہ تجارتی جنگ مزید بڑھی تو دنیا کو افراطِ زر، اقتصادی سست روی اور تجارتی تنازعات کی صورت میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگلے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے جو طے کریں گے کہ آیا یہ تنازعات سفارتی حل کی طرف بڑھیں گے یا دنیا ایک نئے تجارتی بحران کی طرف جائے گی جس کے نتیجے میں ایک نیا عالمی اور تجارتی آرڈر سامنے آ سکتا ہے جس میں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کیا جاسکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button