لاہور:(بیوروچیف/سیدظہیرنقوی)ڈینگی مچھر کنٹرول کرنے کے لیے نجی کمپینوں کی جانب سے سپرے اور دیگر ادویات کی فراہمی میں جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے۔
کمپنیوں کے ریکارڈ اور امپورٹ ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں دستاویزات کے مطابق جعلی ، ملاوٹ شدہ اور زائد المعیاد ڈینگی سپرے کی فراہمی سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
ڈینگی کنٹرول پروگرام نے صرف عالمی ادارہ صحت سے منظورہ شدہ ڈینگی سپرے مالی سال 2022-23 اور مالی سال 2023-24 میں خریدنا تھی ۔

نجی کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک امپورٹ اور ڈینگی پروگرام کو فراہم کردہ سپرے میں خاصا فرق پایا گیا ،سپلائی چین میں ردوبدل بھی کی گئی،کمپنیوں پر ڈینگی سپرے میں ملاوٹ شدہ مال سپلائی کرنے کا بھی الزام ہے ۔
کمپنیوں نے زائد المعیاد سپرے کو بھی سپلائی میں لیبل تبدیل کر کے فراہم کیا،مقامی طور پر سپرے حاصل کر کے اس پر بیرون ملک سے امپورٹ کے بھی لیبل لگائے گئے۔
کمپنیاں محکمہ صحت کو عالمی ادارہ صحت سے منظورہ شدہ بیرون ملک سے سپرے امپورٹ کرنے کے مکمل کاغذات فراہم نہیں کرسکیں،
جعلی اور ملاوٹ شدہ سپرے فراہم کرنے والے تین کمپنیوں سے ایک ارب 46 کروڑ روپے ریکور کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
ڈی جی ہیلتھ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے تین کمپنیوں کو د س ، دس سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیا۔



