بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

شتر بے مہار نوکر شاہی، بدعنوان سیاستدان اور علمی ادبی اداروں کا خاتمہ

تحریر:حسنین جمیل

فارم 47 کی حکومت نے حالیہ بجٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ 5 علمی اور ادبی اداروں کو ختم کر دیا جائے۔ جو 5 کروڑ کی گرانٹ ان کو ملتی ہے وہ شتر بے مہار نوکر شاہی اور فارم 47 کی حکومت کے کھاتے میں جائے گی جس کا مقصدبظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ رقم حکومتی عیاشیوں پر ختم کی جائےگی اور ملک سے جو علم وادب ہے وہ ختم ہو جائے تاکہ نہ کسی کو شعور کی طاقت ملے نہ کوئی ہم سے سوال پوچھنے کی جرات کرے۔

 

یہ تجویز لازمی طور پر شتر بے مہاربیورو کریسی کی طرف بجٹ میں ڈالی گئی ہو گی اور فارم 47 کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہو گا ، جن ادبی اداروں کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ان میں اکادمی ادبیات ، اردو سائنس بورڈ، اردو لغت بورڈ ، اقبال اکادمی، اور ادارہ فروغ قومی زبان شامل ہے ، یہ سارے ادارے علمی ادبی اور فکری سطح پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور صرف 5 کروڑ روپے بچانے کی خاطر ان اداروں کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، دوسری طرف دفاع کا بجٹ کئی گناہ بڑھا دیا گیا ہے۔

جس سماج میں فکری بانجھ پن میں اضافہ کرنا وہاں سے دانشوری کو ختم کیا جاتا ہے اور جنگجو کلچر پیدا کیا جاتا ہے سماج کو قابل بنانے کے لئے پہلے تعلیم اور دانش کا فروغ بہت ضروری ہوتا ہے اور اس بجٹ میں دونوں پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔

 

، دفاعی بجٹ کئی گناہ زیادہ کر دیا گیا اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی ہوئی ہےاوراب علم و دانش کے فروغ کے ادادروں کے خاتمے کی نوید سنا دی گئی ہے ، کل کو اس ملک میں کتاب اور اخبار شائع کرنے پر بھی پاپندی لگ سکتی ہے ، کیونکہ طاقت کے اصل مراکز اور انکی کٹھ پتلی سرکار صرف دولے شاہ کے چوہے رعایا کی صورت میں چاہتی ہے ، انکو سوال پوچھنے والی عوام سے خوف آتا ہے اس لئے یہ سب سے پہلے تعلیم اور پھر دانش کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔

وطن عزیز کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کو اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہونا پڑے گا کیونکہ یہ شتر بے مہار نوکر شاہی اور بدعنوان سیاستدان کل کو اخبار اور کتاب شائع کرنے پر بھی پاپندی لگا سکتے ہیں، فلم اور سنجیدہ تھیٹر تو پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں بس ٹی وی ڈرامہ بچا ہے اس کے بعد اسکی باری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button