پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

تاریخی کرپشن سکینڈل بے نقاب،حکومت بتائے5300ارب کہاں گئے؟تحریک تحفظ آئین پاکستان

وزیر اعظم قوم کو فوری بتائیں آئی ایم ا یف رپورٹ سچی ہے یاجھوٹی، ذمہ داروں کوسامنے لایاجائے،رپورٹ نے نیب کو بھی بے نقاب کر دیا:تیمور جھگڑا،محمد زبیر

اسلام آباد:(سپیشل رپورٹر) تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے الزام عائد کیا ہے آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے جبکہ حکومت نے اس رپورٹ کو تین ماہ تک خفیہ رکھا،حکومت بتائے 5300 ارب روپے کہاں گئے؟،یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین مالیاتی سکینڈل ہے، اس رقم کے ذمہ داروں کی فہرست جاری کی جائے۔

وزیراعظم فوری قوم کو بتائیں آئی ایم ایف رپورٹ جھوٹی ہے یا سچی؟ اگر رپورٹ درست ہے تو حکومت بتائے اربوں روپے کی کرپشن کس نے کی؟،اگر جواب نہیں تو حکومت راستہ چھوڑ دے۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا آئی ایم ایف رپورٹ دباؤکے نتیجے میں عوام کے سامنے لائی گئی، ایس آئی ایف سی کے ذریعے من پسند ٹھیکے دیئے گئے جبکہ چینی اور گندم سکینڈلز میں ملوث عناصر کو بچایا گیا، پالیسیوں کی بدانتظامی سے 24 کروڑ عوام کو معاشی جال میں پھنسایا گیا، امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔

تحریک کے رہنما تیمور جھگڑا نے کہا پاکستان کا مکمل معاشی اور گورننس سسٹم ایک چھوٹے مگر طاقتور طبقے کے قبضے میں ہے جس میں سیاستدانوں کے ساتھ بیوروکریسی اور غیر سیاسی ایلیٹ شامل ہے، گریڈ 22 افسران شرم سے ڈوب مریں، یہ نظام چلا بھی رہے ہیں اور جواب دہ بھی نہیں۔

آئی ایم ایف رپورٹ کے 186 صفحات نے نیب کو بھی بے نقاب کر دیا، جس میں بتایا گیاکہ نیب سیاسی دباؤمیں کام کرتی ہے، 27ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کی خود مختاری کمزور ہوئی، ججز کی مرضی کے بغیر ٹرانسفر خطرناک اقدام ہے، عدالتی نظام سرمایہ کاری روک رہا ہے،نیب بھی جواب دے پانچ ہزار تین سو دس ارب کہاں سے ریکور ہوئے،تحقیقات عوام کے سامنے لےکر آئے۔

چئیرمین نیب کا اب تک کوئی رسپانس نہیں آیا،رپورٹ میں ججز اور کورٹ سٹاف کی دیانت داری پر سوالات اٹھائے گئے،رپورٹ میں لکھاہےکہ پاکستان میں سرمایہ کار اس بات سے ڈرتا ہے ملک میں عدلیہ کا نظام کرپٹ ہے،اب سپریم کورٹ سپریم نہیں ہے، اس سے اوپر بھی ایک اور کورٹ ہے ،جو جج انصاف کرتا ہے اسے بلوچستان، جی بی، یا کشمیر ٹرانسفر کردیا جاتا ہے۔

ایسے ماحول میں کوئی سرمایہ کارنہیں آئے گا،آئی ایم ایف ملک کے نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے،ملک میں سب کی اکاؤنٹیبلیٹی ہونی چاہئے اور کسی بھی پبلک سرونٹ کو تاحیات استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button