
پاکستان کے قیام کو 79 برس گزر چکے ہیں۔اس دوران ملک میں آنے والے نشیب و فرازکا جائزہ لیا جائے کہ ہم نے بحیثیت قوم اس عرصہ میں کیا پایا، کیا کھویا۔ مثبت جانب کس قدر پیش رفت کی اور کہاں کہاں غلطیاں کیں اور ٹھوکریں کھائیں جس کی قیمت ملک و قوم کو ادا کرنا پڑی۔ پاکستان ایک مقدس مقصد کی خاطر حاصل کیا گیا تھا یہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح مخصوص جغرافیائی شناخت کا حامل ایک عام ملک نہیں بلکہ اس کی شناخت جغرافیائی سے زیادہ نظریاتی ہے۔
یہ نظریہ ہی تھا جس کی خاطر کروڑوں لوگوں نے اپنے بسے بسائے گھر بار چھوڑ کر اجنبی سرزمین کی جانب بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کی۔ ان کے مال و اسباب اور ان کی آبائی سرزمین کی محبت نظریہ کی خاطر ہجرت کرتے ہوئے ان کے پاﺅں کی زنجیر نہ بن سکی اور ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اپنے مال و اسباب اور رشتہ دار و احباب کا نقصان اورجدائی ہی برداشت نہیں کی بلکہ اپنی اور اپنے اعزہ و اقربا کی عزیز ترین متاع جان اور عزت و آبرو تک قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ عظیم قربانی اپنی جان سے عزیز تر نظریہ کے علاوہ کسی اور مقصد کی خاطر دی ہی نہیں جا سکتی۔ یہ نظریہ قیام پاکستان کے وقت برصغیر کے بچے بچے کی زبان پہ تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ“۔ اسی نظریے کی خاطر ہندوستان کا ہر پیرو جوان یہ نعرہ مستانہ بلند کر رہا تھا کہ ”بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان“۔
ہندوستان کی تقسیم محض مسلمانوں کا شوق نہیں تھا بلکہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ مسلمان قائدین کی اکثریت، علامہ اقبال سے بانی پاکستان محمد علی جناح تک اور اس وقت کے دیگر ممتاز مسلم رہنماﺅں سمیت سب ہندوﺅں کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں شریک تھے مگر اس دوران خود ہندوﺅں کی قیادت اور آبادی کی اکثریت کے طور پر ان کا مسلمانوں کے ساتھ طرز عمل دیکھ کر مسلمان قائدین اس نتیجے پر پہنچے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر میں ہندوﺅں اور مسلمانوں کا مل کر رہنا ممکن نہیں ہو گا ہندو اپنی تنگ نظری کے باعث مسلمان اقلیت کو با عزت اور باوقار آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع دینے پر تیار نہیں ہوں گے اور مسلمان انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت کے تابع اور غلام بن کر رہنے پر مجبور ہوں گے۔
یہ وہ صورت حال تھی جس کو بروقت بھانپ کر مسلمان رہنماﺅں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور 23 مارچ 1940ءکو لاہور کے وسیع و عریض منٹو پارک، جو اب اقبال پارک کہلاتا ہے، میں ہندوستان بھر سے جمع ہو کر اپنے لیے ایک الگ وطن کے مطالبہ پر مشتمل ”قرار داد لاہور“ منظور کی جو بعد ازاں قرار داد پاکستان کہلائی۔
اس قرار داد کی روشنی میں مسلمانوں نے شب و روز ان تھک جدوجہد کی اور انگریز حکمرانوں اور ہندو رہنماﺅں کو مجبور کر دیا کہ وہ ہندوستان کو دو آزاد اور خود مختار ریاستوں بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنے کا مطالبہ تسلیم کریں۔ بھارت نے اپنی آزادی کے ساتھ ہی خود کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر متعارف کرایا مگر پاکستان اس کے برعکس ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ قرار پایا جہاں مسلمان آزاد فضا میں محسن انسانیت، محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ کے عطا کردہ عدل و انصاف پر مبنی نظام کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
اس ضمن میں بانی پاکستان، بابائے قوم محمد علی جناح نے جدوجہد آزادی کے آغاز ہی میں واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کا آئین و قانون اسلام کے عطا کردہ اعلیٰ وارفع اصولوں کے تابع اور قرآن و سنت کے مطابق ہو گا چنانچہ تحریک پاکستان کے دوران جب ایک غیر ملکی اخبار نویس نے قائد اعظم سے استفسار کیا کہ پاکستان کی نئی ریاست کا آئین کیسا ہو گا تو انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر واضح الفاظ میں کہا کہ ہمیں ہمارے خالق و مالک نے آج سے چودہ سو برس قبل قرآن حکیم کی شکل میں جو لاریب کتاب ہدایت عطا فرمائی تھی ، وہی ہمارا آئین ہو گا ہمیں اس مقصد کے لیے کسی دوسری جانب دیکھنے کی قطعاً کو ضرورت نہیں۔ بانی پاکستان نے قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی مختصر زندگی کے دوران بار بار یہ وضاحت کی کہ پاکستان کا نظام اسلام کے زریں اصولوں کی روشنی میں تشکیل دیا جائے گا۔
ان کے انہی ارشادات کی رہنمائی میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں ”قرار داد مقاصد“ منظور کر کے یہ طے کر دیا کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکے گی۔ ملک و قوم کی بدقسمتی کے علاوہ اسے کیا نام دیا جائے کہ بانی پاکستان کی صحت قیام پاکستان کے فوری بعد بگڑنا شروع ہو گئی اور وہ چودہ اگست 1947ءکو قیام پاکستان کے محض ایک برس بعد گیارہ ستمبر 1948ءکو قوم کو داغ مفارقت دے کر خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔
اور طویل عرصہ تک پاکستان سرزمین بے آئین رہا اور پے در پے حکمرانوں کی تبدیلیوں، ان کی خود غرضیوں اور نا اہلیوں کے سبب پاکستان اپنے قیام کے بعد ربع صدی سے بھی کم عرصہ میں اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے نتیجے میں دو لخت ہو گیا۔ بچے کھچے پاکستان کے لیے 1973ءمیں قومی اتفاق رائے سے ایک آئین تشکیل پایا جو بلاشبہ ایک نعمت کی حیثیت رکھتا ہے مگر افسوس کہ اس آئین پر بھی حکمران اور مقتدر طبقہ نے کبھی اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔
آئین کی رو سے تو پاکستان ایک ”اسلامی جمہوریہ“ ہے مگر بدقسمتی سے آج تک یہاں نہ اسلام کے قوانین نافذ کیے جا سکے ہیں اور نہ ہی جمہوریت کو پنپنے دیا گیا ہے۔ آئین کا یہ فیصلہ ہے کہ یہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون رائج نہیں کیا جا سکتا مگر یہاں دھڑلے سے سود پر مبنی معاشی نظام چلایا جا رہا ہے، شراب و کباب کی محافل کا بھی خوب دور دورہ ہے، ذرائع ابلاغ فحاشی، عریانی اور بے حیائی کے فروغ کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، آئین میں اردو کو قومی اور سرکاری زبان قرار دیا گیا ہے مگر ملک کی عدالت عظمیٰ کے واضح احکام کے باوجود یہاں سارا دفتری سرکاری نظام انگریزی میں چلایا جا رہا ہے۔
ملکی معیشت آئی ایم ایف کے تابع کر کے قوم کو بالادست اور زیر دست طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے قومی خزانے سے تمام مراعات اور سامان عیش و عشرت بالادست طبقے کا حق قرار پایا ہے جب کہ زیر دست اور کمزور طبقے کے لیے دووقت کی روٹی پوری کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ بار بار آمریتوں کے تسلط نے ”جمہوریت“ کا جو حشر کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آج بھی اسلام کے عادلانہ نظام کا دامن تھام کر اور آئین پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے ملک و قوم کو کامیابی، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔



