انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ہم کب آزاد ہونگے۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ انگریز چلا جائے اوراس کی جگہ ہماری اپنی حکومت آجائے،آزادی کا خواب تو بہت بڑا تھا،ایک ایسا ملک جہاں انسان کوعزت ملے۔ جہاں قانون طاقتوراورکمزور کے لیے الگ الگ نہ ہو۔ جہاں کسی غریب باپ کو اپنے بچے کی فیس کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے۔ جہاں علاج دولت مند کی جاگیرنہ ہو۔ جہاں نوجوان اپنی قابلیت کے ساتھ آگے بڑھے، سفارش کے ساتھ نہیں۔۔۔
سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان آزاد ہے یا نہیں۔۔۔؟اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کا عام آدمی کتنا آزاد ہے۔۔۔؟کیا وہ غربت کے خوف سے آزاد ہے۔۔۔؟کیا وہ ناانصافی کے خوف سے آزاد ہے۔۔۔؟کیا وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر سے آزاد ہے۔۔۔؟کیا وہ اس خوف سے آزاد ہے کہ کل اس کی نوکری رہی توکیا ہوگا، کاروبارچلا تو کیسے چلے گا، بیماری آگئی توعلاج کیسے ہوگا۔۔۔؟شاید آزادی کی اصل منزل ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔اورشاید یہی 79ویں یوم آزادی پرہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔۔۔
آج پاکستان 79 برس کا ہوگیا ہے۔لیکن آج ایک سوال باربارذہن میں آتا ہے،پاکستان آزاد ہوگیا۔۔۔ ہم کب ہوں گے۔۔۔؟ یہ سوال عجیب لگتا ہے نا۔۔۔؟ہم آزاد ملک کے شہری ہیں، ہمارے پاس اپنا پرچم ہے، اپنا آئین ہے، اپنی پارلیمنٹ ہے، اپنی حکومت ہے، اپنی فوج ہے، اپنی عدالتیں ہیں، اپنی سرحدیں ہی، دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے موجود ہے۔پھرآخر ہم کس آزادی کی بات کررہے ہیں۔۔۔؟شاید اس آزادی کی، جس کا تعلق صرف سرحدوں سے نہیں، انسان کی زندگی سے ہے۔۔۔۔
ہم نے ملک تو حاصل کرلیا، لیکن شاید اس ملک کو وہ نظام نہیں دے سکے جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔اوریہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ہم نے آزادی کے بعد بہت کچھ بنایا۔ سڑکیں بنیں، عمارتیں بنیں، پل بنے، شہر پھیلے، نئی صنعتیں آئیں، ٹیکنالوجی آئی، دنیا بھر میں پاکستانیوں نے اپنی قابلیت منوائی۔لیکن ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔۔۔
ہم نے ادارے کتنے مضبوط بنائے؟کیونکہ قومیں صرف سڑکوں اورعمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتیں،قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کا عام شہری اپنے ملک کے نظام پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔جب اسے یقین ہو کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوگی تو اسے انصاف ملے گا۔جب اسے یقین ہو کہ اس کا بچہ محنت کرے گا تو آگے بڑھے گا۔جب اسے یقین ہو کہ بیماری کی صورت میں علاج مل جائے گا۔
جب اسے یقین ہو کہ اس کی محنت کا پھل کوئی دوسرا نہیں لے جائے گا۔اور جب اسے یہ یقین ہو کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے،شاید ہماری اصل آزادی ابھی اسی مقام پر آکر رک جاتی ہے۔ہم ہر سال چودہ اگست کو اپنے گھروں پر پرچم لگاتے ہیں،لیکن کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک اور پرچم بھی اپنے اندر لہرانا ہوگا۔۔۔
’’ امید کا پرچم ‘‘کیونکہ پاکستان کے بارے میں مایوس ہوجانا بہت آسان ہے،مشکلات گنوائیں تو فہرست بہت لمبی ہے،لیکن اس ملک کی اصل کہانی صرف مشکلات کی کہانی بھی نہیں،یہ وہی ملک ہے جہاں ایک غریب گھرکا بچہ اپنی محنت سے دنیا کی بہترین یونیورسٹی تک پہنچ جاتا ہے،یہ وہی ملک ہے جہاں ہمارے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، کھلاڑی، فنکار اور کاروباری لوگ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں،یہ وہی نوجوان ہیں جو محدود وسائل کے باوجود نئی دنیا بنا رہے ہیں،تو شاید مسئلہ پاکستان کے لوگوں میں نہیں،مسئلہ اس نظام میں ہے جو اپنے بہترین لوگوں سے وہ کام نہیں لے رہا جو وہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں 79 سال بعد ہمیں آزادی کا مطلب دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان ہمیں 1947 میں مل گیا تھا۔اب ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جس میں ایک عام آدمی صبح گھر سے نکلتے ہوئے صرف یہ نہ سوچے کہ آج کا دن کیسے گزرے گا۔بلکہ یہ سوچے،آج کا دن میرے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ہے۔۔۔۔
شاید اسی لیے 79ویں یوم آزادی پر ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 79 برس ہوگئے،ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آزادی کے اگلے 79 برس کیسے ہوں گے۔۔۔؟کیا ہم وہی پرانا نظام اپنے بچوں کے حوالے کریں گے جس سے ہم خود شکایت کرتے رہے۔۔۔؟کیا ہمارا نوجوان بھی کل وہی سوال کرے گا جو آج ہم کررہے ہیں۔۔۔؟کیا ایک باپ اپنے بیٹے کو یہ کہے گا کہ محنت کرنا، لیکن سفارش بھی ڈھونڈ لینا۔۔۔؟کیا ایک ماں اپنی بیٹی کو یہ سمجھائے گی کہ خواب ضرور دیکھنا، مگر اپنے ملک میں مواقع کم ہیں۔۔۔؟اگرایسا ہے تو پھر ہمیں اپنے آپ سے سچ بولنا ہوگا،ملک آزاد ہے، لیکن آزادی کا سفرابھی مکمل نہیں ہوا۔۔۔۔
یہ سفراس دن مکمل ہوگا جب ایک عام آدمی کو اپنے ملک میں عزت کے ساتھ جینے کے لیے کسی طاقتور کے دروازے پر کھڑا نہ ہونا پڑے،جب قانون کتاب میں نہیں، زندگی میں نظر آئے ،جب نوجوان کے پاس ہجرت کا خواب نہیں، تعمیرکا خواب ہوگا،جب غریب کا بچہ صرف غریب گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے پیچھے نہیں رہ جائے گا،جب ریاست اور شہری کے درمیان خوف نہیں، اعتماد کا رشتہ ہوگا۔۔۔اورجب پاکستان کا عام آدمی چودہ اگست کو پرچم لہراتے ہوئے صرف یہ نہیں کہے گا کہ ’’ پاکستان زندہ باد ‘‘بلکہ دل سے یہ بھی کہہ سکے گا،ہاں۔۔۔ میں بھی آزاد ہوں،شاید یہی ہماری اگلی آزادی ہے۔پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوگیا تھا۔۔۔’’ اب باری ہماری ہے ‘‘۔۔۔۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button