
لاہور کے ایک پرانے محلے کی چھت پر ستر سالہ چاچا نذیر انقلابی شام کی چائے ہاتھ میں لیے خاموش بیٹھا تھا۔ محلے کے لوگ اسے اس کی انقلابی سوچ، سیاسی بصیرت اور حالات کے گہرے تجزیے کی وجہ سے نذیر انقلابی کہتے تھے۔ سامنے اس کا پوتا نظام بیٹھا تھا، جو یونیورسٹی میں سیاسیات کا طالب علم تھا۔ نظام موبائل پر ملک کی سیاسی اور معاشی خبریں دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے پوچھا، "دادا جان! پاکستان میں ہر چند سال بعد سیاسی بحران کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ کبھی جمہوریت، کبھی مارشل لا، کبھی ہائبرڈ نظام اور کبھی ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات کیوں ہونے لگتی ہے؟”
نذیر انقلابی نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، تم نے پاکستان کی تاریخ کتابوں میں پڑھی ہے، میں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے گزرتے دیکھا ہے۔ ہم نے تقریباً ہر نظام آزما لیا، مگر آج بھی ایک ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو ہمارے سارے مسائل حل کر دے۔”
پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ وسائل محدود تھے، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، معیشت کی بنیاد، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل اور سرحدی مسائل نئی ریاست کے سامنے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال اور پھر لیاقت علی خان کی شہادت نے ملک کو قیادت کے بڑے خلا سے دوچار کیا۔ سیاسی عدم استحکام بڑھا، آئین سازی میں تاخیر ہوئی اور بالآخر 1956 میں پہلا آئین نافذ ہوا، لیکن صرف دو برس بعد 1958 میں مارشل لا نافذ ہوگیا۔
اگر 1947 سے 2026 تک پاکستان کے 79 سالہ سفر کو دیکھا جائے تو براہِ راست فوجی حکمرانی کے چار بڑے ادوار سامنے آتے ہیں: ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف۔ مجموعی طور پر تقریباً تین دہائیاں ملک براہِ راست فوجی حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہا۔ ہر فوجی دور میں نظم و نسق، معاشی ترقی یا قومی سلامتی کے حوالے سے کچھ اقدامات اور کامیابیاں ضرور سامنے آئیں، لیکن بنیادی مسئلہ حل نہ ہوسکا: سیاسی ادارے مستقل اور مضبوط نہ بن سکے۔ ہر فوجی دور کے اختتام پر ملک دوبارہ سیاسی بحران اور طاقت کی کشمکش کی طرف لوٹتا رہا۔
ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی، ڈیموں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہوئے، مگر سیاسی آزادیوں اور اختیارات کے ارتکاز پر سوالات اٹھے۔ یحییٰ خان کے دور میں 1970 کے عام انتخابات ہوئے، مگر اقتدار کی منتقلی پر اتفاق نہ ہوسکا اور 1971 کا سانحہ پیش آیا۔ بھٹو دور میں 1973 کا متفقہ آئین ایک بڑا قومی سنگِ میل بنا، مگر 1977 کا سیاسی بحران ایک اور مارشل لا کا سبب بن گیا۔ ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن اور افغان جنگ نے ریاست اور معاشرے پر گہرے اثرات چھوڑے۔
مشرف دور میں معاشی و انتظامی اصلاحات اور بعض شعبوں میں جدید کاری ہوئی، مگر آخرکار سیاسی بحران اور عدلیہ و حکومت کے درمیان کشمکش نے اس نظام کو بھی کمزور کر دیا۔
دوسری طرف جمہوری دور بھی ہماری توقعات پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر سکا۔ 1988 سے 1999 تک منتخب حکومتیں بار بار تبدیل ہوئیں، 1999 کے بعد ایک بار پھر فوجی اقتدار آیا، اور 2008 کے بعد جمہوری تسلسل بحال ہوا۔ 2010 کی اٹھارویں آئینی ترمیم نے پارلیمنٹ اور صوبائی خودمختاری کو مضبوط کیا، لیکن سیاسی تقسیم، معاشی بحران، مہنگائی، کمزور گورننس اور اداروں کے درمیان کشیدگی نے جمہوری نظام کی کارکردگی پر سوالات برقرار رکھے۔
پھر ہم نے نگران حکومتوں اور مختلف ادوار میں ٹیکنوکریٹس پر بھی اعتماد کیا۔ ماہرین معیشت، انتظامیہ اور مخصوص شعبوں میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں، لیکن ٹیکنوکریٹ حکومت کے پاس مستقل عوامی مینڈیٹ نہیں ہوتا۔ نگران حکومت کا بنیادی مقصد بھی مستقل حکمرانی نہیں بلکہ عبوری انتظام اور انتخابات تک نظام کو چلانا ہے۔ اس لیے ٹیکنوکریسی کو مستقل سیاسی نظام کا متبادل سمجھنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
حالیہ برسوں میں ہائبرڈ نظام کی اصطلاح بھی قومی بحث کا حصہ رہی ہے۔ اس طرزِ حکمرانی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جب منتخب حکومت اور غیر منتخب قوتوں کے درمیان اختیار اور اثرورسوخ کی حدود واضح نہ رہیں تو کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری بھی واضح نہیں رہتی۔ عوام ووٹ سے حکومت منتخب کرتے ہیں، لیکن فیصلہ سازی کے مراکز کے بارے میں سوالات باقی رہتے ہیں۔ یوں نظام میں جواب دہی کا اصول کمزور پڑ سکتا ہے۔
نذیر انقلابی نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور نظام کی طرف دیکھ کر کہا، "بیٹا! مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نے کون سا نظام آزمایا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی نظام کو اس کی آئینی روح کے مطابق مستقل طور پر چلنے ہی نہیں دیا۔ ہم کبھی ایک شخصیت سے امید لگاتے ہیں، کبھی دوسرے سے۔ کبھی سمجھتے ہیں کہ سیاست دان ناکام ہیں، کبھی فوج کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں، کبھی ٹیکنوکریٹ کو حل تصور کرتے ہیں، لیکن 79 سال بعد بھی ہماری تلاش ختم نہیں ہوئی۔”
آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ انہیں تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، توانائی اور محفوظ مستقبل چاہیے۔ یہ مسائل کسی ایک رہنما کے پاس جادو کی چھڑی ہونے سے حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ایسے ادارے درکار ہیں جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہوں، ایسا عدالتی نظام چاہیے جس پر عام شہری اعتماد کرے، ایسا انتخابی نظام چاہیے جس کے نتائج پر سیاسی فریقوں کا اعتماد ہو، اور ایسی معیشت چاہیے جہاں نوجوان اپنی قابلیت کے ذریعے اپنے ملک میں مستقبل بنا سکیں۔
یہاں سوال صرف حکمرانوں کا نہیں، عوام اور سیاسی جماعتوں کا بھی ہے۔ ہم نے شخصیت پرستی کو سیاست کا حصہ بنایا، ہر انتخابات کو زندگی اور موت کا معرکہ سمجھا اور اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنے پسندیدہ چہرے کے اقتدار کو کامیابی سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چہرے بدلتے رہے، لیکن قومی مسائل اپنی جگہ کھڑے رہے۔
نذیر انقلابی نے نظام کی طرف دیکھا اور کہا، "ہمیں اب ایسے رہنما کی تلاش چھوڑ دینی چاہیے جو ہمیں اپنا محتاج بنائے۔ ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جو عام شہری کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دے۔ ایسا پاکستان جہاں اقتدار آئین سے آئے، ووٹ سے منتقل ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود سے باہر نہ جائے۔”
شاید 79 سال کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ پاکستان کو ایک اور نجات دہندہ نہیں، مستقل آئینی نظام چاہیے۔ فوج کا کام قومی دفاع، حکومت کا کام حکمرانی، پارلیمنٹ کا کام قانون سازی، عدلیہ کا کام انصاف اور عوام کا اختیار ووٹ کے ذریعے قیادت کا انتخاب ہونا چاہیے۔ جب ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرے گا تو ریاست بھی مضبوط ہوگی اور جمہوریت بھی۔
ہم نے مارشل لا بھی دیکھے، جمہوری حکومتیں بھی، نگران سیٹ اپ بھی، ٹیکنوکریٹس کے تجربات بھی اور ہائبرڈ طرزِ حکمرانی کی بحث بھی۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ ہم ایک اور تجربے کے بجائے ایک مستقل نظام پر اتفاق کریں۔
کیونکہ 79 سال بعد سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگلا رہنما کون ہوگا؟
اصل سوال یہ ہونا چاہیے:
اب پاکستان کو کیسا ہونا چاہیے؟
اور اس سوال کا جواب کسی ایک شخص کے پاس نہیں، بلکہ آئین، قانون، مضبوط اداروں اور 25 کروڑ عوام کے اجتماعی فیصلے میں ہے۔



