اسرائیل کا حملہ : 86 شہید، ایران کا بھرپور جواب : 2طیارے مار گرائے، 150میزائل فائر، تل ابیب، یروشلم میں تباہی
اسرائیل نے اپنے لئے تلخ قسمت کا انتخاب کیا، بھاگنے نہیں دینگے، سخت ضربیں لگائیں گے، آیت اللہ خامنہ ای، قم میں واقع مسجد جمکران پر انتقام کی علامت سرخ پرچم لہرا دیا گیا: پوتن کی ثالثی کرانیکی پیشکش، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
تہران، تل ابیب، واشنگٹن، ماسکو (ویب ڈیسک ) اسرائیل نے ایران پر بڑا فضائی حملہ کرتے ہوئے اس کے جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جسے ’’ آپریشن رائزنگ لائن‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور محافظ کمانڈر شمخانی سمیت متعدد فوجی کمانڈرز، 6جوہری سائنسدان اور متعدد عام شہری شہید ہو گئے، ایران نے بھی بھرپور جوابی وار کرتے ہوئے اسرائیل پر 150میزائلوں اور 100سے زائد ڈرونز سے حملہ کر دیا، اسرائیلی بھر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کئے، دارالحکومت تہران کے شمال مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔
ایرانی ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقری بھی حملے میں شہید ہوچکے ہیں، پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی شہید ہوگئے، پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر غلام علی راشد شہید ہوگئے، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر تہرانچی ڈاکٹر فریدون عباسی بھی شہید ہوگئے، القدس فورس کے سینئر کمانڈر اسماعیل قانی بھی شہید ہوگئے، ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ علی شمخانی بھی شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں86افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا نے دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے۔
تہران کے اتحادی ایرانی اور عراقی پیرا ملٹری گروپس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ، چاہے وہ اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے ہو، خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو خاص طور پر عراق میں جائز اہداف بنا دے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے 5مرحلوں میں ایران کے 8مقامات پر حملے کیے اور ان حملوں میں دارالحکومت تہران اور اطراف کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تہران کے جنوب میں اصفہان،جنوب مغرب میں اراک شہر پر حملے کیے گئے جبکہ اسرائیلی فوج نے کرمان شاہ شہر کو بھی نشانہ بنایا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے نطنز میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ تبریز اور احواز میں بھی حملے کیے گئے۔
بی بی سی کے مطابق اس مرتبہ اکتوبر اور اپریل 2024ء میں ہونے والے ماضی کے حملوں کے برعکس تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ حملے تہران میں رہائشی عمارتوں پر کیے گئے۔ ایران کی مسلح افواج کے ایک ترجمان نے اسرائیلی کارروائی پر ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ ترجمان ابوافضل شیخرچی نے کہا ہے کہ مسلح افواج یقینی طور پر اس صیہونی حملے کا جواب دیں گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے۔ ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اصفحان صوبے میں بھی دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ ایران نے تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
ایرانی بریگیڈئیر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران پر حملہ کرکے سنگین غلطی کی ہے، اسرائیل نے یہ حملے امریکہ کی مدد سے کیے، اب دشمن ایران کے جواب کا انتظار کری۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیردفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے ایران میں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیلی فضائیہ کے 200لڑاکا طیاروں نے حملے میں حصہ لیا۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا تصدیق کی ہے اور بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران کے پاس اتنا جوہری مواد موجود تھا کہ وہ چند دن میں ایک جوہری بم بنا سکتا تھا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے ہمدان میں واقع نوجہ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ حملے تب تک جاری رکھے جائیں گے جب تک اسرائیل کی بقا کے لیے موجود خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔ اسرائیل نے ایرانی شہر نطنز میں ایران کی مرکزی جوہری افزودگی کے سینٹر کو نشانہ بنایا جو ایران کے دارالحکومت سے 225کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایرانی ایٹمی بم پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کی بقا کو خطرہ تھا۔ ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے لیے تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے اسرائیل کی قبیح فطرت کا پتہ چلتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست نے ہماری سرزمین پر شیطانی اور خون آلود ہاتھوں سے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ دشمن نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی فطرت کو پہلے سے زیادہ بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران کی 3ملٹری سائٹس پر حملے کئے، ان حملوں میں کئی اہم کمانڈر اور سائنسدان شہید ہو چکے ہیں۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ اسرائیل سزا کے لیے تیار رہے، ایران کی مسلح افواج دشمن کے اس حملے کا جواب دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج تیار ہیں، ملک کے حکام اور عوام کے تمام ارکان مسلح افواج کے پیچھے ہیں، آج ہر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ ہمیں صیہونی دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے، ہمیں طاقت سے کام کرنا چاہیے، اور ہم طاقت سے جواب دیں گے، ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں پر زندگی بلاشبہ تلخ ہو جائے گی، یہ مت سوچیں کہ انہوں نے یہ کیا اور بس، نہیں یہ جنگ انہوں نے شروع کی، اب ان کو بھاگنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہماری مسلح افواج اس دشمن پر سخت ضربیں لگائے گی۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ایران کی مسلح افواج اللہ کے حکم سے صیہونی حکومت کو شکست دے گی، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوگی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی کی اسرائیلی حملوں میں شہادت کے بعد ایرانی سپریم لیڈر نے جنرل احمد وحیدی کو پاسداران انقلاب کا سربراہ اور جنرل عبد الرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا کمانڈر تعینات کر دیا ہے۔ ادھر جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اٹامک انرجی ایجنسی کہا ہے کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات میں ریڈی ایشن معمول کے مطابق ہے، ایرانی حکام نے بتایا کہ بو شہر میں ایٹمی ریکٹر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ دریں اثنا اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی شہر مشہد، قم میں مقاماتِ مقدسہ پر ہزاروں افراد جمع ہو گئے اور قم میں واقع مسجد جمکران پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا جو کہ انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایران نے بھرپور جوابی وار کرتے ہوئے رات گئے اسرائیل پر 150میزائلوں اور 100سے زائد ڈرونز سے حملہ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جوابی کارروائی کے بعد نامعلوم مقام پر روانہ ہوگئے۔ نیتن یاہو کے طیارے ونگ آف زاین نے بن گورین ایئرپورٹ سے اڑان بھری۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے طیارے کی منزل مقصود کا علم نہیں ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا بھی کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 150سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کئے گئے۔ اس دوران اسرائیل بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
ایرانی حملے کے بعد تل ابیب، یروشلم اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ تل ابیب میں 20مقامات پر آگ لگ گئی اور دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔ وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک بھی آگ اور دھواں دیکھا گیا۔ سائرن بچتے ہی اسرائیلی شہری فضائی حملوں سے بچنے کے لئے زیر زمین بنے بنکرز کی جانب دوڑ پڑے۔ اس موقع پر شہریوں کی چیخ و پکار کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ حملوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حملوں میں تل ابیب میں عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ مزید برآں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام نے 2اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک کی خاتون پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔
اسرائیلی حکام نے طیاروں کی تباہی کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر اپنے جوابی حملوں کو آپریشن وعدہ صادق 3کا نام دیا ہے۔ پاسداران انقلاب فورس نے اسرائیل میں درجنوں اہداف، فوجی مراکز اور فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کی تصدیق کی ہے۔
پاسداران انقلاب فورس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن وعدہ صادق 3 کا نام دیا ہے۔ جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ہزاروں ایرانی شہریوں نے سڑکوں پر جشن شروع کر دیا اور افواج کے حق میں نعرے لگائے۔ دوسری جانب روسی صدر پوتن نے لڑائی روکنے کے لئے ثالثی کرانے کی پیشکش کر دی ہے۔ ادھر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی بلا لیا گیا۔
سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلسل جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، صیہونی ریاست کے اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس یو این چارٹر کے تحت حق دفاع موجود ہے، ایران کے ایٹمی معاملے کا پرُامن حل نکالا جانا چاہیے۔



