پشاور، لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، ملکی وسائل اور معدنیات پر پہلا حق عوام کا ہے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے تو مسائل کے حل کی جانب مثبت پیش رفت ممکن ہے۔
المرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام اس وقت سب سے اہم ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو اپنے وسائل اور معدنیات پر جائز حق ملنا چاہیے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو صوبے کے بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔
پاک افغان تجارت بحال کرنے کا مطالبہ
امیر جماعت اسلامی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجر اس صورتحال سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت بحال کی جائے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پاک افغان سرحد پر باقاعدہ تجارتی زون قائم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کو اپنے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں، تاہم افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے طلبہ کے لیے سفری سہولیات آسان بنائی جائیں، کیونکہ پاک افغان تعلقات میں خرابی سے عوام، تاجر اور طلبہ سب متاثر ہورہے ہیں۔ تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کی مدد بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے افغانستان سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی ڈگریاں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ان طلبہ کی ڈگریوں کو منظور کیا جائے۔
وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی کا مطالبہ
امیر جماعت اسلامی نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلا کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ایک ماہ کے لیے گھروں سے منتقل کیا گیا تھا اور وعدہ کیا گیا تھا کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بھیج دیا جائے گا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود متاثرین اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے اور انہیں جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔
16 اگست کو چاروں صوبوں میں دھرنوں کا اعلان
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جمعہ کے احتجاج میں عوام کی بھرپور شرکت سے واضح ہوگیا ہے کہ لوگ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران اشرافیہ اور مختلف مافیاز ریاست سے سالانہ اربوں ڈالر کی مراعات حاصل کرتے ہیں، جبکہ آئی پی پیز کو گزشتہ چار برسوں میں بجلی پیدا نہ کرنے کی مد میں بھی بھاری رقوم ادا کی گئیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر ظلم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ دیگر صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے ہوں گے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دھرنوں کی حمایت کرنے پر پی ٹی آئی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
امیر جماعت اسلامی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اتحاد امت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جانی چاہیے اور ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ اسلامی ممالک مل کر بیرونی سازشوں اور خطرات کا مؤثر مقابلہ کرسکیں۔



