اور وہ ’’ ڈچ جادوگر‘‘ جب ٹی وی سکرین پر آکرکہتا ہے پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے،خون کھول اٹھتا ہے،دل کرتا ہے اس کا منہ نوچ لوں، اس کی زبان کھینچ لوں، اس کو مکمل ’’ فارغ البال‘‘ کردوں، ،اس کے گلے میں رسہ ڈالوں اور کھینچ کرسڑک پر لے آؤں،اسے ملاؤں ،اسے دکھاؤں،شیدا رکشے والا،پانچ،سات سال پرانے کپڑے پہنے ہوئے، جو اس نے لنڈے سے خریدے تھے،ہڈیوں کا ڈھانچہ،صبح سے شام تک کوئی چھ پھیرے لگاتا ہے،ایک پھیرے میں ایک لیٹر پٹرول خرچ ہوتا ہے،ایک لیٹر پٹرول خرچ کرنے کا مطلب 130روپے ٹیکس دینا ہے۔

چھ پھیرے کا مطلب روزانہ 780روپے ٹیکس دیا،ماہانہ ٹیکس بنا23ہزار400 روپے،آگے چلیں،روزانہ200 روپے کی ادویات بیمار بوڑھی والدہ کیلئے لیکرجاتا ہے،200 کی میڈیسن پرتقریباً50 روپے ٹیکس بنتاہے،ماہانہ1500ٹیکس دیا،بجلی بل کی طرف آئیں،200یونٹ سے آگےنہیں جانے دیتا،چاہے شدید گرمی میں بغیر پنکھے کے سونا پڑے،2 سے3ہزار تک بل آجاتا ہے،جس میں آدھے پیسے ٹیکسز کے ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ماہانہ ایک ہزار روپے ٹیکس لگا لیں،گیس کے بل کی طرف آئیں، وہ 1500 سے 2000 تک آتا ہے،اس میں ٹیکس ہوتا ہے،800 سے 1000 تک ،شیدا سگریٹ بھی پیتا ہے،سستا سا برانڈ استعمال کرتا ہے،روازنہ30 روپے اس کا ٹیکس دیتا ہے،ماہانہ900 ہوئے،کلو چینی پر20 روپے ٹیکس،تقریبا ً4کلو استعمال ہوجاتی ہے،یعنی کہ ماہانہ80روپے ٹیکس،گھی کی طرف آئیں،ایک کلو گھی،آئل پر100 روپے ٹیکس ہے،ایک ماہ میں5کلو استعمال ہو ہی جاتا ہے،ماہانہ500 روپے ٹیکس بنا،بچوں کی کتابیں،کاپیاں،پنسلیں،بسکٹ،ٹافیاں ،سرف،صابن ودیگر اشیا خورونوش پرایک اندازے کے مطابق ماہانہ400 سے500 روپے تک ٹیکس بن جاتا ہے۔
مجموعی طور پرایک رکشہ ڈرائیورتقریباً28ہزار580روپے ماہانہ ٹیکس دے رہا ہے،حکومت اس کو کیا دے رہی۔۔۔؟ صرف ایک شناختی کارڈ،آئےروز ٹریفک وارڈن کےچالان،ساتھ بدتمیزی۔۔۔ اوپر سے’’ڈچ جادوگر‘‘ کہتا ہے عوام ٹیکس نہیں دیتے،دل کرتا ہے اس کا منہ نوچ لوں،اس کی زبان کھینچ لوں،سڑکوں پر لے آئوں،اسے دکھاؤں،ہزاروں سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیاں،جو روزانہ اربوں کا تیل پھونک رہیں، اس کو دکھاؤں،اے سی،ڈی سیز کے محلات،اس کو دکھاؤں بیوروکریٹس کے عیاشیاں،اس کو دکھاؤں ارکان اسمبلی کے چونچلے،اس کو دکھاؤں وزرائے اعلیٰ کے بسکٹوں کا بجٹ،پھر پوچھوں یہ پیسا کہاں سے آتا ہے۔۔۔؟
ڈچ جادوگر۔۔۔!! یہ پیسہ کروڑوں شیدوں کا ہے،جو دن رات خون پسینہ ایک کرکے ایلیٹ کلاس،بیوروکریٹس کو عیاشیاں کروارہے ہیں۔۔۔ڈچ جادوگر !! آپ وزیرخزانہ نہیں، آپ فرعونوں کے منشی ہیں،جو انہیں عوام کا خون نچوڑنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔۔۔کیا خون نچوڑنے کے یہ طریقے آپ نہیں بتائے۔۔۔؟
(1) انکم ٹیکس (2) جنرل سیلز ٹیکس (3) کیپیٹل ویلیو ٹیکس (4)ویلیو ایڈد ٹیکس (5)سینٹرل سیلز ٹیکس (6)سروس ٹیکس (7) فیول ایڈجسمنٹ چارجز(8) پٹرول لیوی (9)ایکسائز ڈیوٹی (10) کسٹمز ڈیوٹی (11)اوکٹرائی ٹیکس (12)ٹی ڈی ایس ٹیکس (13) ای ایس آئی ٹیکس (14)پراپرٹی ٹیکس (15) گورنمنٹ اسٹیمپ ڈیوٹی (16) آبیانہ (17) عشر (18) زکوٰۃ (19)ڈھال ٹیکس(20) لوکل سیس(21) پی ٹی وی فیس،سنا ہے حاتم طائی نے اسے ختم کردیا ہے (22)پارکنگ فیس(23) ایس جی ٹی (24)واٹرٹیکس(25)فلڈ ٹیکس(26)پروفیشنل ٹیکس(27)روڑ ٹیکس (28) ٹول گیٹ فیس (29) سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (30) ایجوکیشن سیس (31) ویلتھ ٹیکس(32) ٹرانزیئنٹ اوکیوپینسی ٹیکس(33) کنجیشن لیوی لازمی کٹوتی (34)سپر ٹیکس (35) ودہولڈنگ ٹیکسز(36)ایجو کیشن فیس۔
یہ ہیں وہ ٹیکس جو عام آدمی سے زبردستی وصول کیے جارہے ہیں۔۔۔ایک اور زبردستی دیکھیں، پچھلے11ماہ میں تنخواہ دار طبقے سے600ارب ٹیکس لیا گیا اور تاجر طبقے سے صرف65ارب ٹیکس لیا گیا۔۔۔ڈچ جادوگر !! آپکے فرعونوں نے قوم کو دیا کیا ہے۔۔۔؟ ساڑھے 7لاکھ عوام کیلئے صرف ایک ڈاکٹر ہے،38فیصد بچے کو سکول نصیب نہیں،شرح خواندگی صرف60فیصد ہے،سری لنکا کی شرح خواندگی93فیصد ہے،لوگ آپکی فرعونیت،بربریت سےتنگ آکر ہجرت کرنے لگے ہیں،2024 ،صرف ایک سال میں7لاکھ27ہزار381افراد ملک چھوڑ گئے ہیں۔روسی افسانہ نویس،ڈرامہ نگار انتون چیخوف کے لکھے ہوئے سب سے ظالمانہ الفاظ ۔
میرا یہ خیال ہے کہ اس وطن میں سوائے موت کے اور کوئی سکون دہ چیز نہیں ہے۔
چیخوف کہتے ہیں۔۔۔!!
’’موت کے بعد آپ سب سے بڑے کامیاب فاتح بن جائیں گے، کیونکہ پھر آپ کو کھانے پینے کے لیے دن رات بھاگنے تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، ناجائز ٹیکسز ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، اور پھر کبھی دوسروں سے کسی بھی معاملے میں گفتگو یا بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، اور چونکہ آپ سینکڑوں یا ہزاروں سال تک اپنی قبر میں رہیں گے۔ لہٰذا آپ کو موت سے حاصل ہونے والا فائدہ زندگی کی نسبت بہت نایاب اور انمول ہے‘‘۔۔
دنیا نے غلامی کے طریقے بدل دیے ہیں۔۔۔زنجیریں اب لوہے کی نہیں۔۔۔تنخواہوں اور قرضوں کی ہیں۔۔۔ وہ تمہیں اتنا کچھ ضرور دیتے ہیں۔۔۔کہ تم بھوکے نہ مرو۔۔۔مگر اتنا کچھ نہیں دیتے۔۔۔کہ تم آزاد ہوکر جینا شروع کردو۔۔۔تم ہر صبح اٹھتے ہو۔۔۔دفتر جاتے ہو۔۔۔تنخواہ کے وعدے پر دن بھر اپنا وقت،اپنی توانائی۔۔۔اپنے خواب،اپنی جوانی۔۔۔قسطوں میں گروی رکھ دیتے ہو۔۔۔ اورشام کو۔۔۔؟ تم بس اتنا پاتے ہو۔۔۔کہ اگلی صبح دوبارہ کام پر جاسکو۔۔۔یہ زندگی نہیں۔۔۔یہ بقا ہے۔۔۔ اور بقا آزادی نہیں۔



