
گلبرگ لاہور کے قلب میں واقع "مین مارکیٹ چوک” کی رونقیں اپنی جگہ لیکن سیاسی شعور اور فکری بصیرت رکھنے والوں کے لیے یہ چوک ایک تاریخی شناخت کا حامل ہے۔ یہاں پاکستان کے سابق وفاقی وزیرِ خزانہ، نامور دانشور ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کا وہ بنگلہ ہے جو دہائیوں تک ملکی سیاست کا ایک خاموش مگر طاقتور مرکز رہا۔
برادرِ محترم جاوید اقبال معظم مرحوم کی وساطت سے اس تاریخی رہائش گاہ پر حاضری کا موقع اکثر ملتا رہا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو گروپ) کی چیئرپرسن محترمہ غنویٰ بھٹو سے تفصیلی نشستیں رہیں اور ان کے فکر انگیز انٹرویوز ریکارڈ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا سچا، کھرا اور اجلا کردار تھے جن کی مثال اب ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ وہ مصلحت پسندی کے دیس میں حق گوئی کے مسافر تھے۔

لگی لپٹی رکھے بغیر اقتدار کے ایوانوں کے سامنے کھری کھری بات کرنا ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ ایک یادگار نشست میں راقم کی ان سے ملکی بجٹ کے حساس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ موجودہ معاشی گورکھ دھندوں اور اچھے برے بجٹ کی بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا تاریخی اور آفاقی جملہ کہا جو آج کے حالات پر بھی حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "برے نظام میں اچھا بجٹ ممکن ہی نہیں ہوتا۔”آج کئی سالوں بعد بھی آپ موجودہ مخدوش حالات کا کسی بھی سیاسی، معاشی یا سماجی زاویے سے تجزیہ کر کے دیکھ لیں، نتیجہ سو فیصد وہی نکلے گا جو ڈاکٹر صاحب نے اس ایک جملے میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے بیان کر دیا تھا۔
جب تک پورے نظام کی سرجری نہیں ہوتی بجٹ کے نام پر الفاظ کی جادوگری اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ یہ جملہ محض ایک رائے نہیں بلکہ پاکستان کے فرسودہ نظامِ معیشت کا وہ تیکھا نوحہ ہے جس کی بازگشت آج پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے۔
پاکستان کی تاریخ کا ہر وفاقی بجٹ عوامی فلاح، معاشی ترقی اور قومی خودمختاری کا دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا باقاعدہ معاشی ڈاکہ بن چکا ہے جو آئی ایم ایف کی بند کمروں میں لکھی گئی ڈکٹیشن کے تحت غریب عوام پر ڈالا جاتا ہے۔ سالہا سال سے بجٹ کے نام پر پارلیمنٹ میں جو تماشہ رچایا جا رہا ہے، اس نے کروڑوں محنت کشوں، سفید پوش مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے کو زندہ درگور کر دیا ہے۔
یہ سالانہ میزانیہ کوئی معاشی منصوبہ بندی نہیں بلکہ ریاستی اور بین الاقوامی گٹھ جوڑ کے تحت کی جانے والی وہ معاشی دہشت گردی ہے جس کا واحد ہدف غریب کا خون نچوڑ کر بیرونی آقاؤں کے قرضوں پر چڑھے بھاری سود کی قسطیں پوری کرنا ہے۔ پاکستان ایک ایسے سنگین دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے اور حکمران اشرافیہ کی مراعات، شاہانہ شاہ خرچیوں، مفت پیٹرول اور پروٹوکول کے لشکروں پر ایک روپیہ بھی کم کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔
پورا بجٹ اس لاچار عوام کی گردن مروڑ کر بنایا جاتا ہے جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی اور بچوں کی فیس کو ترس رہے ہیں۔ یہ ظالمانہ اور بوسیدہ ڈھانچہ اب اصلاحات کے قابل نہیں رہا کیونکہ یہ صرف امیر کو امیر تر اور غریب کو قبر کے مزید قریب دھکیل رہا ہے۔اس ملک میں بجٹ سازی کا ڈھونڈورا پیٹتے ہی جو پہلا وار عوام پر کیا جاتا ہے، وہ بالواسطہ ٹیکسوں کا اندھا دھند نفاذ ہے۔ حکومتوں کی نااہلی اور ٹیکس چوری روکنے میں مجرمانہ ناکامی کا پورا ملبہ ان لوگوں پر گرا دیا جاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
جنرل سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کا دائرہ کار زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں تک پھیلا کر غریب اور امیر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ کیا دنیا کے کسی منصفانہ نظام میں یہ تصور ممکن ہے کہ ایک ارب پتی صنعت کار اور ایک یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور بازار سے آٹا، گھی، چینی یا دوا خریدتے وقت ایک جتنا ہی سیلز ٹیکس ادا کریں؟۔ یہ ٹیکسیشن کا نہیں بلکہ مجرمانہ لوٹ مار کا نظام ہے جہاں بالواسطہ ٹیکسوں کا حجم کل ریونیو کا ساٹھ فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کے نام پر تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر مہنگائی کا ایسا لامتناہی طوفان کھڑا کیا گیا ہے جس نے غریب کے چولہے ہمیشہ کے لیے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔
جب ہم انکم ٹیکس کے ڈھانچے کو دیکھتے ہیں تو معیشت کا سب سے آسان شکار تنخواہ دار طبقہ نظر آتا ہے، جس کی تنخواہ بینک اکاؤنٹ میں آنے سے پہلے ہی ٹیکس کا وہ حصہ کاٹ لیا جاتا ہے ۔ ایک عام ملازم کی آدھی سے زیادہ قوتِ خرید صرف ٹیکسوں اور افراطِ زر کی نذر ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف اس ملک کی اشرافیہ کا سب سے طاقتور حصہ جس میں بڑے زمیندار، بااثر جاگیردار، رئیل اسٹیٹ کے مافیا اور بڑے تاجر شامل ہیں، ٹیکس کے دائرے سے بالکل باہر یا برائے نام ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
زراعت جہاں بڑے بڑے وڈیرے اربوں روپے کماتے ہیں، وہاں انکم ٹیکس وصول کرنے کی ہمت کسی حکومت میں نہیں ہوتی کیونکہ یہی جاگیردار اسمبلیوں میں بیٹھ کر بجٹ کی منظوری دیتے ہیں اور خود اس ظالمانہ نظام کے سب سے بڑے بینیفشری ہیں۔وفاقی کابینہ اور پورا مقتدر حلقہ اعزازیہ لینے اور مراعات سمیٹنے میں مصروف ہے۔ ان کی اپنی تنخواہوں میں تو خاموشی سے اضافہ کر دیا جاتا ہے مگر جب باری عملی کارکردگی کی آتی ہے تو سب کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میں جہاں اوسط تنخواہ پچیس سے چالیس ہزار روپے ہو، وہاں بجلی کا بل پچاس ہزار روپے آنا عوامی استحصال کی آخری حد ہے۔ لوگ اپنے گھر کے برتن، ماؤں بہنوں کے زیور اور موٹر سائیکلیں بیچ کر بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان کے بچے اندھیرے اور گرمی سے نہ مر جائیں۔ سولر انرجی اور پاور سیکٹر کی پالیسیاں موجودہ حکومت کو عوامی سطح پر مکمل طور پر ڈبونے کے لیے کافی ہیں۔
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے فنڈز کا بڑا حصہ بھی ترقیاتی کاموں کے بجائے کرپشن، کمیشن اور بیوروکریسی کی نذر ہو جاتا ہے، جس کا کوئی آڈٹ یا احتساب کرنے والا نہیں۔ وفاقی کابینہ کے وزراء دن رات قوم کو عالمی منظرنامے کا چورن بیچنے میں مصروف ہیں، لیکن جب ان سے خود ان کی کارکردگی اور ملک کے اندرونی حالات پر اصل سوال پوچھا جائے تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ جب تک بجٹ سازی کے عمل کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا جاتا اور ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے نفاذ کے ذریعے امیروں اور بڑے رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز سے پیسہ نکال کر غریبوں پر نہیں لگایا جاتا، تب تک ہر سال پیش کیا جانے والا بجٹ عوام کے خلاف ایک کھلا اعلانِ جنگ رہے گا۔
مجموعی طور پر یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اور اعداو شمار کی جادوگری کا ایک ایسا امتزاج ہے جہاں عام آدمی کو ریلیف کے نام پر صرف طفل تسلیاں دی گئی ہیں۔ معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے مینی فیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دینے اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لیے کڑے فیصلے کرنے کی ضرورت تھی، جس سے اس بجٹ میں دانستہ گریز کیا گیا ہے۔ عوام اب اپنے بچوں کی بھوک اور اپنے مستقبل کے اس مجرمانہ سودے کو مزید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اب یہ فرسودہ اور ظالمانہ کھیل بند ہونا چاہیے۔ حکمرانوں کو اپنی مراعات چھوڑنی ہوں گی، ورنہ جب بھوک اور افلاس کی اگلی دیواریں ٹوٹیں گی تو اشرافیہ کے محلات اور اسمبلیاں بھی اس معاشی غیظ و غضب کی لپیٹ سے محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔



