بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

میں نے کیا لکھا۔۔۔

بے لگام / ستار چوہدری

یہ ملک کسی شکستہ گھڑی کی طرح ہے، جس کی سوئیاں وقت نہیں، طاقت کے گرد گھومتی ہیں ۔۔۔ ہمیں بتایا گیا، یہ نظام مقدس ہے، یہی آئین، یہی طریقہ، یہی نجات، مگر۔۔۔ بھوک کو کاغذ سے نہیں روکا جا سکتا، بیماری کو تقریروں سے نہیں۔۔۔ اور جہالت کو فیتوں سے نہیں باندھا جا سکتا۔۔۔ عدالتوں میں صدیوں پرانی فائلیں دھول اوڑھے انصاف کی لاش پر نوحہ پڑھ رہی ہیں۔۔۔ تھانوں میں قانون ہتھکڑی پہنے کھڑا ہے۔۔۔ اور مجرم کرسی پر بیٹھا چائے پی رہا ہے۔۔۔

اس ملک کا نظام لوگوں کے لیے نہیں، لوگوں پر ہے، یہ وہ مشین ہے جو انسان پیس کر مراعات نکالتی ہے۔۔۔ہم نے برسوں یہ سن کر گزار دیے کہ حالات بدل رہے ہیں، ترقی آ رہی ہے، مستقبل روشن ہے، مگر گلیوں میں کھڑا نوجوان آج بھی اپنے کل سے خوفزدہ ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہے، مگر دروازے بند ہیں۔ اس کے پاس صلاحیت ہے، مگر راستہ سفارش مانگتا ہے۔ وہ اپنے ملک میں اجنبی اور اپنے خوابوں میں مہاجر بن چکا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے نوجوان کو امید نہ دے سکے، وہ ترقی کے دعوے تو کر سکتی ہے، ترقی نہیں۔۔۔۔ہم نے اسکول بنائے، مگر۔۔۔ سوچ کو قید رکھا۔ ہم نے ڈگریاں بانٹیں، مگر۔۔۔ ضمیر نہیں۔ بچوں کو رٹایا گیا کہ سوال نہ کرو، صرف مان لو، کہ حکومت غلط نہیں ہو سکتی، نظام پر بات غداری ہے۔ یہ کیسی تعلیم ہے، جو غلامی کو تہذیب اور خاموشی کو شعور کہتی ہے۔۔۔؟

یونیورسٹیوں میں نئے ذہن، پرانے سلیبس سے قتل کیے جاتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کل کے لیے نہیں، کلون پیدا کرتا ہے، نئے انسان نہیں۔۔۔۔ہم اپنے بچوں کو تاریخ تو پڑھاتے ہیں، مگر تاریخ سے سیکھنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، زندگی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے ذہین لوگ تو نکلتے ہیں، مگر آزاد ذہن کم پیدا ہوتے ہیں۔ قومیں نصاب سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں، اور جس دن سوچ قید ہو جائے، ترقی بھی قید ہو جاتی ہے۔۔۔۔ہسپتالوں میں دوائیں کم۔۔۔ اور سفارشیں زیادہ ہیں، ایمبولینس جان نہیں، فائلیں لے جاتی ہے۔

غریب بیڈ کے نیچے مرتا ہے۔۔۔ اور امیر وی آئی پی وارڈ میں زندگی خرید لیتا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے، جہاں علاج نہیں، تعلق بکتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر بھی مجبور ہے اور مریض بھی۔ ریاست اپنے شہری کو بیماری میں اکیلا چھوڑ دیتی ہے،کسی سرکاری ہسپتال کے دروازے پر چند گھنٹے کھڑے ہو کر دیکھ لیجیے، وہاں بیماری سے زیادہ بے بسی نظر آتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو اٹھائے پھرتی ہے، ایک بوڑھا دوا کی پرچی ہاتھ میں لیے قطاروں میں کھو جاتا ہے، اور ایک مزدور علاج اور روٹی کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب ریاست انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرے تو مسئلہ وسائل کا نہیں، ترجیحات کا ہوتا ہے۔۔۔۔یہاں انصاف وقت نہیں لیتا، دام لیتا ہے۔

جج قانون سے پہلے چہرہ دیکھتا ہے۔ غریب اپنی سچائی کسی گلی میں گرا دیتا ہے، کیونکہ اس کے پاس فیس نہیں ہوتی۔ یہ عدالتیں حق کی نہیں، طاقت کی محافظ ہیں۔ یہ نظام انصاف نہیں دیتا، انصاف بیچتا ہے۔۔۔۔اور صرف عدالتیں ہی نہیں، پورا ریاستی ڈھانچہ دو پاکستانوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک پاکستان وہ ہے جہاں قوانین نرم ہیں، دروازے کھلے ہیں، اور راستے ہموار ہیں۔ دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں ہر دروازے پر سوال، ہر دفتر میں انتظار، اور ہر خواب پر مہر لگی ہوئی ہے۔ ایک ملک میں دو قومیں آباد نہیں رہ سکتیں۔

ناانصافی آخرکار دیواروں سے نکل کر سڑکوں پر آ جاتی ہے۔۔۔۔میں کہتا ہوں یہ نظام مر چکا ہے، اس کی رگوں میں خون نہیں، کرپشن دوڑ رہی ہے۔۔۔ اب ہمیں نیا نظام چاہیے، ایسا نظام جہاں بچہ اسکول جائے اور سوچ واپس لائے۔ جہاں بیمار ہسپتال جائے اور زندگی واپس لائے۔ جہاں عدالت میں غریب کی آواز بھی وزن رکھتی ہو۔ جہاں ٹیکس قوم بنائے اور قوم ٹیکس دے۔ جہاں صوبے وسائل کے غلام نہیں، اختیار کے مالک ہوں۔ جہاں سیاست روزگار ہو خدمت کا، نہ کہ لوٹ مار کا۔۔۔۔ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں عہدے انسان سے بڑے نہ ہوں، جہاں قانون طاقتور کے دروازے پر بھی اسی طرح دستک دے جیسے کمزور کے دروازے پر دیتا ہے۔ جہاں نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب نہ دیکھے بلکہ ملک بنانے کے خواب دیکھے۔

جہاں حکومت عوام سے خوف کھائے اور عوام حکومت سے نہیں۔میری نئی شائع ہونیوالی کتاب ’’ پاکستان بچاؤ ‘‘صرف الفاظی نہیں، ایک اعلان ہے۔ ایک سوال ہے جو میں نے ریاست کے دروازے پر رکھ دیا ہے۔ ایک احتجاج ہے جو خاموش رہنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ کتاب ان لاکھوں لوگوں کی آواز ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ کچھ غلط ہے، مگر جن کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔۔۔پاکستان پرانے سسٹم سے نہیں بچ سکتا۔ اگر ہمیں زندہ قوم بننا ہے تو مرے ہوئے نظام کو دفن کرنا ہوگا۔۔۔ اور ایک نیا پاکستان، ایک نیا نظام، ایک نئی شروعات خود تخلیق کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں تب نہیں مرتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، قومیں تب مرتی ہیں جب وہ تبدیلی پر یقین کھو دیتی ہیں۔’’پاکستان بچاؤ‘‘ اسی یقین کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔۔۔

( نوٹ : میری چھٹی کتاب ’’ پاکستان بچاؤ ‘‘ کی لاہورپریس کلب میں 13جون 2026کوہونیوالی تقریب رونمائی بعض ناگزیروجوہات پر ملتوی ہوگئی ہے جس کی نئی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا )

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button