انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

اسرائیلی بمباری ، ایک روز میں 57فلسطینی شہید : امریکہ نے غزہ کے شہریوں کیلئے وزٹ ویزون کا اجرا روک دیا

ایک اور بچے سمیت 11افراد بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے، مرنے والوں کی کل تعداد 251ہو گئی

غزہ، تل ابیب، لندن، واشنگٹن (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری اور فائرنگ سے خوراک کے متلاشی افراد سمیت مزید 57فلسطینی شہید ہو گئے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں جاں بحق ہونے والوں میں 17افراد امداد کے منتظر تھے اور امریکی اسرائیلی امدادی مرکز کے باہر جمع تھے، مئی سے اب تک 1ہزار 760 فلسطینی خوراک کے حصول میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
دوسری طرف ایک اور بچے سمیت 11افراد بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے، بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 251ہو گئی۔المواسی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل نے ڈرون حملہ کیا جس سے دو افراد شہید اور 15زخمی ہو گئے، اسرائیل کی بربریت سے شہدا کی مجموعی تعداد 61ہزار 827ہوگئی،1لاکھ 55ہزار 275افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ ادویات کی کمی سے 200سے زائد مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس دوران اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے، تل ابیب میں مظاہرین نے اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹرز کے باہر مظاہرہ کیا اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیی حماس سے معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
غزہ پر قبضے کی پالیسی مسترد اور فوری جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے احتجاج کیا تو پورا شہر اب جنگ نہیں، امن چاہئے کے نعروں سے گونج اٹھا، مظاہرین نے نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خون ریزی بند کرو کے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ غزہ پر فوجی کارروائی نہیں بلکہ سیاسی حل چاہئے، مظاہرین نے طویل ریلی نکالی اور جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا، یرغمالیوں کے اہل خانہ بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔ ادھر غزہ میں مسلسل ہونے والے اسرائیلی مظالم کے خلاف برطانیہ میں احتجاج کیا گیا اور سیکڑوں افراد نے معصوم فلسطینیوں کے حق میں اپنی آواز بلند کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں رائل ائیر فورس بیس کے باہر سیکڑوں افراد نے حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر فن لینڈ میں فلسطین حامیوں نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والی کمپنی کے شیشوں کو سرخ رنگ سے رنگ دیا۔
اس کے علاوہ سوئیڈن میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا، اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کی یاد میں مارچ کیا گیا اور مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو وزیٹر ویزے جاری کرنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا۔ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ محکمہ کی جانب سے ویزا پالیسی کے مکمل اور جامع جائزی کے آغاز کے ساتھ کیا گیا، حالیہ دنوں میں کچھ افراد کو طبی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی ویزے ضرور جاری کیے گئے، تاہم اس کی درست تعداد فراہم نہیں کی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button