سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: شہباز شریف
جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں پاکستانیوں کی آواز دنیا تک پہنچائی، سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس
نیویارک، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں پاکستانیوں کی آواز دنیا تک پہنچائی، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک موسمیاتی تبدیلی سے آنے والی قدرتی آفات سے مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے فوری بعد ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال اور بحالی کے جاری اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ دوران اجلاس وزیر اعظم نے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف اور بحالی کی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وزیراعظم نے وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کو امداد و بحالی کے آپریشنز کی کڑی نگرانی اور اس حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کو مکمل تعاون فراہم کرنے اور ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب کے بعد فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ امدادی کارروائیوں و بحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی میں آسانی ہو۔ وزیراعظم نے ایم۔5کے دریائے ستلج میں سیلاب سے متاثرہ حصے کی بحالی کیلئے این ایچ اے کو اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ موٹروے پر جلال پور پیر والا کے مقام پر پڑنے والے شگاف کی فوری مرمت کی جائے، سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ ایفوری طور پر ایم۔5کے متاثرہ حصے پر پہنچ کر نقصان کا جائزہ لیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچائو کے حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات لیے جائیں، سیلاب زدہ علاقوں میں موزوں فصلوں کی کاشت کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعظم نے نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے حالیہ سیلابی صورتحال اور جاری امدادی کارروائیوں و بحالی کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نی وزیرِ اعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور بحالی کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ متاثرہ لوگ امدادی کیمپس و خیمہ بستیوں سے واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ سندھ میں اس وقت کچھ کیمپس میں لوگ مقیم ہیں، سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے جس کے بعد جلد ان لوگوں کی بھی اپنے گھروں میں واپسی ہوجائے گی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ متاثرین کو راشن و امداد کی فراہمی جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب متاثرین کی بحالی کیلئے مثالی اقدامات کر رہی ہے، فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔ دوران اجلاس وزیر اعظم نے آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کے جائزے پر ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملائیشیا نے پاکستان کا ہر مصیبت میں ساتھ دیا جس کو پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاک۔
ملائیشیا تجارت کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستانی بیف کی ملائیشیا میں برآمد کیلئے متعلقہ ادارے قابل عمل و ٹھوس منصوبہ بندی تشکیل دیں۔ شہباز شریف نے نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان اور ملائیشیا کے مابین تجارت کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور ملائیشیا کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو دہائیوں پر محیط ہیں، ملائیشیا نے پاکستان کا ہر مصیبت میں ساتھ دیا جس کو پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اجلاس میں پاکستان اور ملائیشیا کے مابین تجارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کو ملائیشیا میں پاکستانی برآمدی استعداد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ق



