پیما :ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین مبینہ کرپشن کے باوجودعہدے پر برقرار،وزیر اعلیٰ کی زیروٹالرنس پالیسی سوالیہ نشان
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹومینجمنٹ اتھارٹی(پیما) شدید تنازع کا شکار ہوگئی۔ ایک طرف چیئرمین پیما نے ڈپٹی ڈائریکٹرامجد حسین کی مبینہ کرپشن اور مس کنڈکٹ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہےتو دوسری جانب ایڈیشنل چارج کے حامل ایم ڈی شاہد فرید چیئرمین کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کو "ادارے کا خاص فرد” قرار دے کر ہر صورت تحفظ دینے پر بضد ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق چیئرمین پیما کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کرداروں کو ادارے میں اہم عہدے پر برقرار رکھا گیا تو ادارے کی شفافیت اور ساکھ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لیکن شاہد فرید کی حمایت نے اس معاملے کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ ادارے کے اندر اختلافات کی لہر بھی تیز کردی ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ کشمکش اس بات کی عکاس ہے کہ پیما جیسے اہم ادارے میں فیصلہ سازی کس حد تک دباؤ اور ذاتی تعلقات کی نذر ہو رہی ہے۔ ادھر ملازمین اور اراکین بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور ادارے کا مستقبل سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔

پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹو مینجمنٹ اتھارٹی (پیما) میں ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کے خلاف کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کوئی نئی بات نہیں سوال یہ ہے کہ ایسے الزامات کے باوجود وہ ڈپٹی ڈائریکٹرامجد حسین ابھی بھی اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہیں اور کس کی سرپرستی میں ادارے کے مالی اور انتظامی معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ چیئرمین پیما کی واضح ہدایات اور انکوائری کے احکامات کے باوجود ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کو بدستور تحفظ حاصل ہے۔ اس سے بڑھ کر حیران کن امر یہ ہے کہ ایڈیشنل چارج رکھنے والے ایم ڈی شاہد فرید نہ صرف اس کے حق میں کھڑے ہیں بلکہ اسے "ادارے کا خاص فرد” قرار دے کر اس کے دفاع پر بضد ہیں۔ اس طرزِ عمل نے پیما کے اندر اختلافات کو ہوا دی ہے اور ادارے کی شفافیت کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

یہ معاملہ محض ایک افسر یا ایک ادارے کا نہیں، بلکہ اس نظام کی عکاسی کرتا ہے جس میں ذاتی تعلقات، دباؤ اور مفادات قانون و ضابطے پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اگر پیما جیسے اہم ادارے میں کرپشن کے مرتکب عناصر کے خلاف کارروائی ممکن نہیں تو عام سرکاری محکموں میں شفافیت کی توقع عبث ہے۔
وزیر تعلیم کی پراسرار خاموشی سوالیہ نشان ہے ؟ کیا وزیر اعلیٰ مریم نواز اس معاملے کو بطور ایک ٹیسٹ کیس دیکھتے ہوئے ادارے کی ساکھ بحال کریں گی یا یہ معاملہ بھی حسبِ روایت دب جائے گا؟
یہ وقت ہے کہ حکومت پنجاب واضح پیغام دے یا تو بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہوگی، یا پھر ادارے کرپٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال رہیں گے۔ اگر ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی تو عوامی اعتماد مزید متزلزل ہوگا اور اصلاحات کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔



