انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ: جنگ بندی کا معاہدہ : حماس نے امریکی منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دئیے، کابینہ منظوری کے بعد سیز فائر، اسرائیل کا یو ٹرن: پیر سے قیدیوں کا تبادلہ: وائٹ ہائوس

اسرائیلی فوج متفقہ لائن تک پیچھے ہٹ جائیگی، ٹرمپ کی تصدیق: یہودی فوج غزہ شہر ، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے انخلا کریگی ، 5سرحدی گزرگاہوں سے یومیہ 600ٹرک داخل ہونگے، حماس نے معاہدے کی تفصیلات پیش کر دیں

شرم الشیخ، واشنگٹن، مقبوضہ بیت المقدس،اسلام آباد
(ویب ڈیسک ) اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے بڑا بریک تھرو سامنے آگیا، فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور امریکی منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کرلئے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اسرائیل اور حماس نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیئے گئے، تمام یرغمالیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ اسرائیلی افواج ایک متفقہ لائن تک پیچھے ہٹ جائیں گی، یہ مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی طرف پہلا قدم ہوگا، تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ برتائو کیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا، اسرائیل، تمام پڑوسی ممالک اور امریکہ کیلئے عظیم دن ہے، قطر، مصر اور ترکی کا شکریہ، اس تاریخی اور بے مثال واقعے کو ممکن بنایا۔ جبکہڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ سے خطاب میں کہا کہ میں نے دنیا کی 7جنگیں رکوائی ہیں اور اب آٹھویں بھی جلد ختم ہوجائے گی۔ غزہ امن معاہدے پر فریقین کے اتفاق کا کریڈٹ لیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ غزہ کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی تمام ممالک غزہ منصوبے کی حمایت کر رہے تھے۔ اب وہاں پائیدار امن قائم ہوجائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ایران امن کے لیے کام کرنا چاہتا ہے اور ہم اس سلسلے میں تعاون کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ پیر یا منگل تک اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہے۔ جس کے بعد غزہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔ قطری وزارت کا بھی کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور امداد کی فراہمی ممکن ہو گی۔ تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حماس نے بھی اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔ حماس نے کہا کہ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت غزہ پر جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا انخلا، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔ حماس نے امریکی صدر، عرب ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد کیلئے پابند کریں اور اسے کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی سے روکیں۔
تنظیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہے گی اور اپنے عوام کے آزادی، خود مختاری اور حق خودارادیت کے اصولوں سے دستبردار نہیں ہو گی ۔ معاہدے پر دستخط کے بعد نیتن یاہو نے مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لئے پرعزم ہے اور ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔ یہ اسرائیل کیلئے عظیم دن ہے، اجلاس بلا کر جنگ بندی معاہدے کی توثیق کرائی جائے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ سے اسرائیلی وزیراعظم کا رابطہ ہوا، یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر دستخط ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کو اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت دی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق سمجھوتے کے تحت حماس تمام یعنی 20زندہ یرغمالیوں کو بہتر گھنٹے میں رہائی دیدے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہفتہ یا اتوار کو متوقع ہے۔ ادھر اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق طے پانے کے بعد اسرائیل اور غزہ میں شہریوں کو جشن مناتے دیکھا گیا۔
رات بھر تل ابیب کے ہوسٹیجز سکوائر میں لوگ خوشی کا اظہار کرتے رہے اور اس موقع پر نعرے بھی لگاتے رہے، یرغمالیوں کے اہل خانہ اپنے عزیزوں کی ممکنہ واپسی پر امن معاہدہ ہو جانے کے بعد جشن مناتے نظر آئے۔ غزہ میں فلسطینیوں نے بھی رات بھر جشن منایا، جنوبی علاقے خان یونس کے رہائشی امن معاہدے کے اعلان کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔ مزید برآں حماس کے رہنما اسامہ حمدان اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے انخلا کرے گی، 5سرحدی گزرگاہوں سے یومیہ 600ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کا تبادلہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، عالمی برادری کو اسرائیل کے رویے پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کرے۔ اسامہ حمدان نے قطر کے العربی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی غزہ ہیومینیٹرین فائونڈیشن کے بجائے بین الاقوامی ادارے کریں گے۔ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کیلئے 40نام پیش کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی بنیادی شق غزہ پر جنگ کا خاتمہ ہے اور ثالثوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ثالثوں نے جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کا اختیار امریکہ کو دیا ہے، معاہدے کے تحت 250عمر قید یافتہ قیدیوں اور غزہ کے 1700قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، تمام اہم فلسطینی قیدی رہنمائوں کے نام رہائی کے لیے جمع کرائی گئی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ حماس کے رہنما نے کہا کہ جنگ بندی کا نفاذ اسرائیلی حکومت کی منظوری کے بعد ہوگا۔ مزید برآں فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اور دوسرے مذاکرات کاروں نے اہم کام کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ انہیں امید ہے اس معاہدے سے معاملے کے مستقل حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ سمیت تمام مذاکرات کاروں کی گراں قدر کوششوں کو سراہتے ہیں اور ان کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فلسطینی صدر نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام 4جون1967ء کے روز کی سرحدوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا۔
ادھر سعودی عرب نے بھی غزہ کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے اعلامیے میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے امریکی صدر کے فعال کردار، نیز برادر ممالک قطر، مصر اور ترکی کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے جن کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہو سکا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کہا ہے کہ امید ہے غزہ معاہدہ مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کا باعث بنے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ( سابقہ ٹوئٹر ) پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے لکھا کہ پاکستان نے منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں فوری طور پر جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ، قطر، مصر اور ترکی کی اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے لکھا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف کو دوبارہ دہراتا ہے کہ فلسطین کی ایک آزاد ریاست کا قیام 1967ء کے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ادھر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ان شا اللہ ہم اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔
صدر ترکیہ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کا ملک غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں بھرپور تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی بھی غزہ کے عوام سے زیادہ امن، سلامتی اور استحکام کا حقدار نہیں۔ دوسری طرف جنگ بندی معاہدے پر رضامندی کے باوجود اسرائیل کے غزہ میں حملے جاری ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق صیہونی فوج کی فضائی گولہ باری، ڈرون اور توپ خانے سے غیر متزلزل جارحیت جاری ہے، صیہونی حملوں میں مزید 10فلسطینی شہید، 49زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حملوں میں بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، قابض فوج نے گھروں، ہسپتالوں اور پناہ گاہوں پر دھماکے کیے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ جب تک کابینہ متفقہ طور پر غزہ جنگ بندی معاہدے کو منظور نہ کر لے تب تک یہ نافذ العمل نہیں ہوگا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کیا گیا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر کے غزہ جنگ بندی پر اسرائیل اور حماس کے متفق ہونے اور مصری میڈیا کی جانب سے اس کے نافذ العمل ہونے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بدروسیان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس سی منظوری کے بعد 24گھنٹے کے اندر غزہ میں جنگ بندی نافذ ہو جائے گی، جنگ بندی کے نافذالعمل ہونے کے بعد 72گھنٹے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ شروع ہوگا۔ مزید برآں وائٹ ہائوس حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی ممکنہ طور پر پیر سے شروع ہوجائے گی۔ جبکہ اسرائیل نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے سربراہ محمد یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار کی لاشیں واپس نہیں کی جائیں گی۔
اسرائیلی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ سنوار برادران کی لاشوں کی واپسی کسی صورت ممکن نہیں۔ یہ معاملہ قیدیوں کے تبادلے میں شامل نہیں ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے، اسرائیلی حکومت بھی تصدیق کر دے گی۔ عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے اطلاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دو سال کی تکالیف کے بعد غزہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا، دنیا امن کی فتح کے تاریخی لمحے کا مشاہدہ کر رہی ہے، دنیا ایک تاریخی لمحے کی گواہ ہے، جہاں امن کی فتح حاصل کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button