پاکستانتازہ ترینکالم

اقبال کا فلسفۂ خودی: انسان کے وجود کی معراج کا اعلان

عقیل انجم اعوان

اقبال کی فکر کا محور خودی ہے وہ خودی جو انسان کو اپنی حقیقت سے آشنا کرتی ہے اپنی تقدیر خود رقم کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اور اس کے اندر وہ آگ بھرتی ہے جس سے وہ کائنات کی تسخیر پر قادر ہو جاتا ہے۔ 9 نومبر کو جب ہم اقبال کا یومِ پیدائش مناتے ہیں تو دراصل ہم اس پیغام کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے سوئی ہوئی امت کے دل میں جگانے کے لیے دیا تھا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا جادو نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو غلام ذہنوں کو آزاد کرنے آئی۔اقبال کے نزدیک خودی کوئی خودغرضی نہیں یہ وہ باطنی قوت ہے جو انسان کو اپنی اصل پہچان دلاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ ایک معمولی شعر نہیں بلکہ انسان کے وجود کی معراج کا اعلان ہے۔ اقبال انسان کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ اپنی روح کے جوہر کو پہچانے اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلے اور خدا کی نیابت کا حق ادا کرے۔ ان کے نزدیک خودی دراصل ایمان، کردار، عمل اور عشق کا امتزاج ہے۔ یہ وہ نور ہے جو انسان کو تاریکیوں میں راستہ دکھاتا ہے۔اقبال کے زمانے میں برصغیر غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ قوم مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبی تھی۔ ایسے میں اقبال نے قوم کو یاد دلایا کہ غلامی انسان کی فطرت کے خلاف ہے کیونکہ خدا نے اسے آزاد پیدا کیا ہے۔ ان کی شاعری نے غلام ذہنوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو کسی آقا کی محتاجی باقی نہیں رہتی۔ ان کا کہنا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ پیغام قوموں کے لیے زندگی کا پیغام ہے۔ اقبال نے فرد کو ملت کی بنیاد قرار دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب تک فرد اپنی خودی کو بیدار نہیں کرتا کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کے نزدیک حقیقی آزادی اس وقت آتی ہے جب انسان خود پر قابو پا لے اپنے ضمیر کو زندہ رکھے اور خدا کی مرضی کے مطابق عمل کرے۔اقبال نے خودی کو تین مراحل میں بیان کیا۔ پہلا درجہ ہے
اطاعت یعنی بندگیِ خدا۔ دوسرا درجہ ہے ضبطِ نفس یعنی اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔ تیسرا اور بلند ترین درجہ ہے نیابتِ الٰہی یعنی خدا کی صفات کو اپنے اندر جذب کرنا اور اس کی زمین پر اس کا نائب بننا۔ اس خودی کا تصور صرف مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی بنیاد بھی رکھتا ہے۔اقبال کی خودی مغربی فلسفے کے ان تصورات سے بالکل مختلف ہے جو فرد کو خدا سے کاٹ کر محض اپنی ذات کا اسیر بنا دیتے ہیں۔ مغرب میں فردیت کا مطلب خود غرضی، ذاتی مفاد اور انا پرستی ہے لیکن اقبال کے ہاں خودی کا مطلب ہے اپنی حقیقت کا شعور اور اپنی روحانی قوتوں کا ادراک۔ وہ کہتے ہیں کہ خودی اگر بےعمل ہو جائے تو وہ خودی نہیں رہتی بلکہ ناتوانی بن جاتی ہے۔ ان کے نزدیک خودی عمل سے پروان چڑھتی ہے، قربانی سے مضبوط ہوتی ہے اور عشق سے جلا پاتی ہے۔عشق اقبال کے فلسفہ خودی کا مرکز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل انسان کو تدبیر سکھاتی ہے لیکن عشق اسے تقدیر بدلنے کی جرات دیتا ہے۔ عشق کے بغیر خودی ادھوری ہے کیونکہ عشق ہی وہ قوت ہے جو انسان کو خدا سے جوڑتی ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق محض جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے ایک جہد مسلسل۔ وہ فرماتے ہیں:
عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلا ہے، نہ زاہد، نہ حکیمی
جب انسان عشق کے رنگ میں ڈوب جاتا ہے تو وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر کائنات سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خودی فنا نہیں ہوتی بلکہ بقا پاتی ہے۔اقبال کے فلسفہ خودی میں قرآن کا گہرا اثر نمایاں ہے۔ وہ قرآن کو انسان کی رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں کئی مقامات پر قرآن کے پیغام کی جھلک ملتی ہے جیسے:
خودی کی جلوتوں میں مصطفیٰ سے ہے ظہور اس کا خودی کی خلوتوں میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اس کایہ اشعار بتاتے ہیں کہ خودی کا سفر رسولِ اکرم ﷺ کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ اقبال کے نزدیک نبی اکرم ﷺ کی سیرت خودی کی تکمیل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی پیروی انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے۔اقبال کے فلسفے میں نوجوانوں کے لیے ایک خاص پیغام ہے۔ وہ انہیں شاہین کی مثال دیتے ہیں وہ پرندہ جو بلند پرواز ہے جو زمین پر نہیں بیٹھتا جو مردہ شکار نہیں کھاتا۔ شاہین خودی کی علامت ہے، خود انحصاری، حوصلے اور عزتِ نفس کی علامت۔ وہ نوجوان کو یاد دلاتے ہیں کہ غلام قوموں کے نصیب میں شاہین نہیں بلکہ کوّا ہونا لکھا ہوتا ہے۔ اگر وہ شاہین بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی خودی کو بیدار کرنا ہوگا۔اقبال کا شاہین دراصل وہ نوجوان ہے جو بلند سوچتا ہے جو اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرتا ہے جو دنیا کے خوف سے آزاد ہے اور جس کے سامنے صرف خدا کا خوف باقی رہتا ہے۔ وہ کہتے
ہیں:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
یہ فرق ہی اقبال کے فلسفے کا نچوڑ ہے۔ انسان اگر اپنی خودی کو پہچان لے تو وہ شاہین بن جاتا ہے اگر بھول جائے تو کرگس۔اقبال کا فلسفہ خودی ایک انقلابی نظریہ ہے۔ اس نے برصغیر کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا انہیں ان کی اصل پہچان یاد دلائی۔ یہی فکر آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی فکری بنیاد بنی۔ محمد علی جناح خود اقبال کے خیالات سے متاثر تھے۔ اقبال کی خودی نے قوم کے اندر آزادی کا جذبہ پیدا کیا انہیں بتایا کہ تقدیر لکھی نہیں جاتی بنائی جاتی ہے۔اقبال کے نزدیک خودی کی تعمیر کے لیے تین عناصر لازمی ہیں: ایمان، عمل اور محبت۔ ایمان انسان کو یقین دیتا ہے عمل اسے قوت دیتا ہے اور محبت اسے مقصد۔ یہ تینوں عناصر مل کر وہ انسان پیدا کرتے ہیں جو اپنی دنیا خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ دنیا کے دھارے کے ساتھ نہیں بہتا بلکہ دھارا بدل دیتا ہے۔لیکن آج کے دور میں جب ہم اقبال کو یاد کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے ان کے فلسفہ خودی کو سمجھا بھی ہے؟ ہماری قوم آج بھی ذہنی غلامی میں مبتلا ہے۔ ہم دوسروں کی تقلید میں اپنی پہچان کھو چکے ہیں۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان فکر و عمل میں خودمختار ہوں لیکن ہم نے ان کے پیغام کو کتابوں تک محدود کر دیا۔ ان کی شاعری ہمارے نصاب میں تو ہے مگر ہمارے کردار میں نہیں۔اگر ہم اقبال کی خودی کو سمجھنا چاہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں مقصد، اخلاق اور ایمان کو جگہ دینا ہوگی۔ خودی کا مطلب صرف خود پر یقین نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کا شعور بھی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ انسان اپنی قسمت کا خالق ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خودسر ہو جائے۔ بلکہ وہ اپنی خودی کو خدا کی رضا کے تابع کرے تب ہی وہ حقیقی آزادی پاتا ہے۔اقبال کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے کیونکہ یہ انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ جب تک دنیا میں غلامی، ناانصافی اور جمود موجود ہیں اقبال کا پیغام تازہ رہے گا۔ وہ انسان کو بیدار کرنے آئے تھے اور ان کا یہ پیغام آج بھی ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ اٹھو اپنی خودی پہچانو اور اپنی دنیا خود بنائو۔ان کی شاعری کا ہر مصرع ایک آگاہی ہے، ایک صدا ہے جو ہر دل میں گونجتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم وہ امت ہیں جس کے پاس قرآن ہے جس کے پاس نبی کی سیرت ہے اور جس کے اندر وہ چنگاری ابھی باقی ہے جس سے تاریخ کے دھارے بدلے جا سکتے ہیں۔9 نومبر کا دن صرف اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ عہدِ نو کے آغاز کی یاد دہانی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اپنی خودی کو زندہ کر لیں تو ہمارے لیے کوئی ناممکن نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button