لاہور ( بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) پنجاب حکومت نے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے 8بڑی ٹریفک خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کر دیئے ہیں تاکہ صوبے میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترمیم شدہ ضوابط کے مطابق، فضائی آلودگی یا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان پر بھاری جرمانے عائد کئے جائینگے، موٹر سائیکلوں کے لیے 5ہزار روپے، کاروں اور جیپوں کیلئے 10ہزار روپے، پبلک سروس وہیکلز کے لیے 15 ہزار روپے اور ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکلز کے لیے 20ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح نو پارکنگ زون میں گاڑی کھڑی کرنے پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔ موٹر سائیکل کے لیے 2ہزار، کار اور جیپ کے لیے 10ہزار، پبلک سروس وہیکل کے لیے 15ہزار اور ہیوی گاڑیوں کے لیے 20ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا، چلتی گاڑی سے کچرا پھینکنے پر بھی اتنے ہی جرمانے عائد کئے جائیں گے، یعنی 5ہزار روپے موٹر سائیکل کیلئے، 10ہزار کار یا جیپ کے لیے، 15ہزار پبلک سروس وہیکل کے لیے، اور 20ہزار ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑی کے لیے۔
سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانے پر کار اور جیپ کے لیے 10ہزار، پبلک سروس وہیکل کے لیے 15ہزار، اور ہیوی گاڑی کے لیے 20ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
سب سے سخت سزا نابالغ ڈرائیونگ پر رکھی گئی ہے جس کے تحت موٹر سائیکل کے لیے 25ہزار، کار یا جیپ کے لیے 30ہزار، پبلک سروس وہیکل کے لیے 50ہزار، اور ہیوی گاڑی کے لیے 1لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال پر موٹر سائیکل سوار کو 5ہزار، کار یا جیپ کے لیے 10ہزار، پبلک سروس وہیکل کے لیے 15 ہزار، اور ہیوی گاڑی کے لیے 20ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا، موٹر سائیکل پر دو سے زیادہ افراد کے سوار ہونے پر 5ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
جبکہ فٹ پاتھ یا مرکزی سڑک پر پارکنگ کرنے والے ڈرائیوروں پر بھی 2ہزار سے 20 ہزار روپے تک جرمانے لاگو ہوں گے۔ پنجاب حکومت کے مطابق یہ نئے قوانین ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، سڑکوں پر نظم و ضبط، اور حادثات میں کمی کے لیے نافذ کئے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



