انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

5جنوری ،قرارداد حق خوداردیت کشمیراورپاکستان کا اصولی موقف

لاہور:(رپورٹ/عقیل انجم اعوان)5 جنوری 1949 تاریخ کا وہ دن ہے جب اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نےایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں واضح طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ وہ دن تھا جب عالمی برادری نے پہلی بار باضابطہ طور پر کشمیری عوام کی آواز کو سنا اور یہ اعتراف کیا کہ یہ مسئلہ کسی دو ریاستوں کے درمیان زمین کے ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے حقِ خود ارادیت کا سوال ہے۔ مگر افسوس کہ اس تاریخی قرارداد کو منظور ہوئے پچھتر برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی، سیاسی چالاکیوں اور طاقت کے استعمال نے اس قرارداد کو صرف کاغذی دستاویز بنا کر رکھ دیا ہے۔

aqeel anjum awan

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ بن کر سامنے آئی۔ مہاراجہ ہری سنگھ کی آمرانہ حکمرانی، مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک اور بالآخر بھارت کے ساتھ مشروط الحاق نے اس خطے کو آگ و خون کے دریا میں دھکیل دیا۔ کشمیری عوام نے اس الحاق کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا کیونکہ یہ ان کی مرضی اور خواہشات کے خلاف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسئلہ کشمیر جلد ہی بین الاقوامی سطح پر اٹھایا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں سب سے اہم 5 جنوری 1949 کی قرارداد تھی۔

FIELD-MARSHAL

اس قرارداد میں صاف لفظوں میں کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کرائی جائے گی جس کی نگرانی اقوام متحدہ کرے گی تاکہ کشمیری عوام خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ یہ قرارداد نہ کسی مذہبی تعصب پر مبنی تھی نہ کسی طاقت کے زور پر بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق تھی۔ مگر بھارت نے ابتدا ہی سے اس قرارداد کو دل سے قبول نہیں کیا۔ اس نے کبھی سیکیورٹی کے نام پر، کبھی داخلی معاملات کا بہانہ بنا کر اور کبھی حالات کو سازگار نہ ہونے کا جواز پیش کر کے اس پر عمل درآمد سے انکار کیا۔

INDIA

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کیا بلکہ کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ لاکھوں بھارتی فوجی، نیم فوجی دستے اور خفیہ ایجنسیاں کشمیری عوام پر مسلط کر دی گئیں۔ آئے دن کرفیو، گھروں کی تلاشی، گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں نے کشمیری معاشرے کو خوف اور اذیت کی علامت بنا دیا۔ مائیں اپنے بیٹوں کی راہ دیکھتی رہیں، بیویاں اپنے شوہروں کی واپسی کی امید میں آنسو بہاتی رہیں اور بچے کم عمری میں ہی ظلم و جبر کے مناظر دیکھ کر بڑے ہوتے رہے۔
5 جنوری 1949 کی قرارداد دراصل کشمیریوں کے لیے امید کی ایک کرن تھی مگر یہ کرن وقت کے ساتھ دھندلا گئی۔ بھارت نے نہ صرف رائے شماری سے انکار کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ خوش ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر وہ آواز جو حقِ خود ارادیت کی بات کرتی ہے اسے ریاست دشمن قرار دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔صحافیوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور سچ بولنے کی قیمت جان سے ادا کرنی پڑتی ہے۔

INDIAN-ARMY
2019 میں بھارت نے ایک اور سنگین قدم اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے ذریعے نہ صرف کشمیریوں سے ان کی شناخت چھینی گئی بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کھلے عام پامال کیا گیا۔ اس اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، مواصلاتی نظام بند کر دیا گیا اور پوری وادی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ دنیا نے یہ سب دیکھا مگر عالمی ضمیر ایک بار پھر خاموش رہا۔
کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی داستان طویل اور دل دہلا دینے والی ہے۔ پیلٹ گنز سے معصوم آنکھوں کو نشانہ بنانا، نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنا، اجتماعی قبریں دریافت ہونا اور خواتین کی بے حرمتی جیسے واقعات اس خطے کا روزمرہ معمول بن چکے ہیں۔ یہ سب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ بھارت صرف طاقت کے بل بوتے پر کشمیری عوام کو ان کے جائز حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ اگر کشمیری واقعی بھارت کے ساتھ خوش ہوتے تو اتنی بڑی فوج کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ اگر یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا تو آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں موجود ہوتا؟

INDIAN-ARMY-1
پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح اور اصولی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دیا جائے جیسا کہ 5 جنوری 1949 کی قرارداد میں وعدہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش کی مگر طاقتور عالمی مفادات، سیاسی مصلحتوں اور معاشی تعلقات نے اس مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی تو پھر عالمی انصاف کا تصور کس حد تک معتبر ہے؟ کشمیر کا مسئلہ آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے مگر عملی طور پر اس پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ یہ عالمی ادارے کی ساکھ پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
5 جنوری کو ہر سال یومِ حقِ خود ارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ کشمیریوں سے ایک وعدہ کیا گیا تھا، جو آج تک پورا نہیں ہوا۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ کشمیریوں کی جدوجہد، قربانیوں اور استقامت کی علامت ہے۔ یہ دن اس بات کا اعلان ہے کہ کشمیری عوام نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور وہ آج بھی اپنے حق کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اپنی خاموشی توڑے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے۔ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت، جبر یا یکطرفہ فیصلوں میں نہیں بلکہ کشمیری عوام کی مرضی کے احترام میں ہے۔ جب تک کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
5 جنوری 1949 کی قرارداد آج بھی زندہ ہے یہ کشمیریوں کے حق کی ایک تحریری ضمانت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ قرارداد موجود ہے یا نہیں ۔سوال یہ ہے کہ دنیا کب اس پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ قدم اٹھائے گی۔ کشمیری عوام کا صبر آزمائش کی انتہا کو پہنچ چکا ہے مگر ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ حق کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اور وہ دن 5 جنوری 1949 کی قرارداد کی حقیقی تکمیل کا دن ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button