پاکستانتازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا سے تمام صوبائی ٹیکس ختم کرنے کا اعلان

پشاور(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے صوبے کے زیرانتظام تمام ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق قبائلی علاقوں میں عائد تمام وفاقی ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور 10 سالہ ٹیکس استثنیٰ مکمل طور پر بحال کیا جائے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں وفاق کی جانب سے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کا خطاب

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق تمام سیاسی قوتوں کا ایک مؤقف اختیار کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے آئینی، مالی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ وفاق نے سابق فاٹا کے لیے سالانہ 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم یہ وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق جب تک ترقیاتی اور مالی وعدے پورے نہیں کیے جاتے، اس وقت تک قبائلی علاقوں میں نئے ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں۔

جرگے کی متفقہ قرارداد

گرینڈ جرگے میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام بدامنی، دہشت گردی، بے روزگاری، نقل مکانی، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ انضمام کے وقت کیے گئے ترقیاتی، مالی اور امن سے متعلق وعدے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی قبائلی اضلاع کو ان کا جائز حصہ نہیں ملا۔

وفاق سے اہم مطالبات

جرگے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ:

  • سابق فاٹا اور پاٹا میں عائد تمام وفاقی ٹیکس فوری واپس لیے جائیں۔
  • 10 سالہ ٹیکس استثنیٰ مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
  • انضمام کے وقت کیے گئے تمام مالی، ترقیاتی اور سکیورٹی سے متعلق وعدے فوری پورے کیے جائیں۔
  • قبائلی اضلاع کے تاجروں کو ملک کے دیگر شہروں کی طرح کاروباری سہولیات فراہم کی جائیں۔

قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تمام سیاسی جماعتیں، تاجر تنظیمیں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز باہمی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button