اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، 9 سوگوار شہید، 20 زخمی
مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک): غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ نہ تھم سکا، جہاں نصیرات پناہ گزین کیمپ میں نمازِ جنازہ کے دوران ہونے والے فضائی حملے میں 9 فلسطینی شہید جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب درجنوں شہری ایک ایسے فلسطینی کی آخری رسومات میں شریک تھے جو اسی روز ایک اور اسرائیلی کارروائی میں جان کی بازی ہار گیا تھا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حملے کے بعد جائے وقوعہ پر افراتفری مچ گئی، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر العودہ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملہ براہِ راست جنازے میں شریک سوگواروں پر کیا گیا، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق جس فلسطینی کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی، اس کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کارروائی میں حماس کے ایک اہم کمانڈر انس محمود احمد حمدان کو نشانہ بنایا، جو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کے قریبی ساتھی تھے۔ اسرائیلی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب حماس نے جنازے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی سے متعلق کوششوں اور عالمی ثالثی کے باوجود شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جس سے خطے میں امن کی تمام امیدیں متاثر ہو رہی ہیں۔
حماس کے مطابق غزہ میں نہ صرف رہائشی علاقوں بلکہ اسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور جنازوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کا فوری نوٹس لیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات خطے میں صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔



