بنوں(ویب ڈیسک) سیکیورٹی فورسز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بنوں اور ملحقہ علاقوں میں 24 مبینہ خوارج کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں حالیہ دہشت گرد حملوں، پولیس پر حملوں اور گاڑی میں نصب خودکش بم دھماکے کے بعد کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر شدید فائرنگ کے تبادلوں میں 24 مبینہ خوارج مارے گئے، جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد متعدد دہشت گرد کارروائیوں اور شہریوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔
آپریشن جاری رکھنے کا اعلان
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رہیں گے اور دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بیان کے مطابق وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام پالیسی کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔
صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا خراج تحسین
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور قربانیوں کا مظہر ہیں، جبکہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بنوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت کارروائیاں قابل ستائش ہیں اور حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی آپریشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان قوم کا فخر ہیں اور خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ملک سے دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔



