معاہدہ ورنہ حملہ، ٹرمپ کی دھمکی: بھرپور جواب دیں گے،ایران بھی تیار
بحری بیڑا تیزی سے بھرپور طاقت، جوش، واضح مقصد کیساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا، پہلے بھی میرے انتباہ کو نظرانداز کیا، خمیازہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کی صورت میں بھگتنا پڑا، امریکی صدر
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج ماضی سے بھی زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں،ایک بحری بیڑا تیزی سے بھرپور طاقت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے، ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے، ایران منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے۔ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑے بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی طرح یہ بحری بیڑا بھی ضرورت پڑنے پر طاقت، تشدد سے اپنے مشن کو فوری مکمل کرنے کا اہل ہے، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں لینے دیں گے، جوہری ہتھیاروں کے بغیر ایران تمام فریقوں کیلئے اچھا ہے، اگر ضروری ہوا تو بحری بیڑا اپنے مشن کو تیز رفتاری سے پورا کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو پہلے بھی کہا تھا کہ ڈیل کر لے۔
ڈیل نہ کرنے پر آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کا سامنا کرنا پڑا، آپریشن مڈ نائٹ ہیمر پہلے بھی ایران کیلئے بڑی تباہی ثابت ہوا تھا، ایران پر اگلا حملہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔ دوسری جانب دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب دبائو اور غیر معمولی مطالبات ختم ہوں، انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تاہم ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔ ادھر اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے خبردارکیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران ایسا جواب دے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہوگا۔
نیو یارک میں بدھ کو جاری بیان میں ایرانی مشن نے کہا کہ ایران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لئے تیار ہے، لیکن اگر دبائو ڈالا گیا تو ایران اپنا دفاع کرے گا اور ایسا جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہوگا، بیان میں یہ بھی کہا کہ آخری مرتبہ جب امریکہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں کودا تو اسے 7 کھرب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اس کے 7 ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے۔
ایرانی مشن نے یہ پیغام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا جس کے ساتھ صدر ٹرمپ کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں ایران کی عدلیہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ موساد کے ایک ایجنٹ کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں حمید رضا کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایرانی عدالتی ویب سائٹ میزان پر دستیاب معلومات کے مطابق عدالت نے حمید رضا ثابت کو اس جرم میں قصوروار قرار دیا تھا۔ ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے خطے میں اپنا ایک طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی صدر نے امریکی دھمکیوں کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دبائو اور مداخلت ایران کو کمزور نہیں کر سکتی۔ سعودی عرب نے ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو مسترد کردیا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ۔
خطے کی تازہ ترین صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے والی کوششوں کی حمایت میں ریاست قطر کے موقف کا اعادہ کیا اور کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو مسترد کر دیا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا زمین ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
دریں برلن میں رومانیہ کے وزیرِ اعظم الیے بولوعان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایسا نظام جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھلے تشدد اور خوف کے ذریعے اقتدار برقرار رکھے، اس کے دن گنے جا چکے ہیں، جرمن چانسلر نے مزید کہا کہ یہ چند ہفتوں کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے، اس حکومت کے پاس ملک پر حکمرانی کرنے کی کوئی اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔



