انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

بلوچستان میں دہشتگردی

بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے وسیع وعریض زمینیں، معدنیات سے مالا مال، طویل سمندری پٹی،جغرافیائی محل وقوع، مستقبل کا تجارتی دروازہ اور ان گنت وسائل سے بھرپور پہاڑ بلوچستان کو اگر سونے کی چڑیا کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا لیکن یہ پاکستان کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم بلوچستان میں موجود وسائل کو بروئے کار نہ لا سکے کچھ بین الاقوامی سازشیں کارفرما رہیں کچھ ہماری سستی کوتاہی اور غلط فیصلوں نے بلوچستان کی گھمبیرتا میں اضافہ کیا پاکستان کے دشمنوں کی نظریں ہمیشہ بلوچستان کی چھپی دولت پر رہیں پاکستان کے دشمنوں نے ہمیشہ بلوچستان میں امن وامان کی خرابی پر سرمایہ کاری کی لیکن پاکستان نے بھی لوگوں کی محرومیوں کا مداوا نہ کیا ۔

balochistan gold and minerals 2

بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ڈنگ ٹپاو پالیسیوں سے کام چلایا جاتا رہا ہر کسی نے اپنی مرضی ومنشا کے مطابق تجربات کیے طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اپنے من پسند سیاستدانوں کو نوازا جاتا رہا عوام کے حقیقی نمائندوں کو لاتعلق رکھا کبھی ایک سردار کو خوش کرنے کے لیے دوسرے کے خلاف کارروائی کی گئی تو کبھی دوسرے کو خوش کرنے کے لیے تیسرے کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی بلوچستان میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی نہ عوام کی حالت بدلی نہ انتظامی ڈھانچہ موثر بنایا جا سکا ہم قبائلی سرداروں کو روٹھنے اور منانے میں لگے رہے جبکہ دشمن اپنے گہرے روٹس بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

آج دشمن نے وہاں ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے چونکہ بلوچستان کا وسیع وعریض رقبہ ہے ہر جگہ کی نگرانی ممکن نہیں اوپر سے پہاڑوں میں غاریں ہیں دہشتگرد پہاڑوں سے نکلتے ہیں کارروائیاں کرکے دوبارہ پہاڑوں میں چھپ جاتے ہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد پھیلا رکھے ہیں بھارت کے ذمہ دار افراد اس کا برملا اظہار کر چکے ہیں وہ بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشتگردانہ کارروائیوں پر سرمایہ بھی لگا رہا ہے اور اب تو اسرائیل بھارت اور افغانستان کا گھٹ جوڑ دہشتگردوں کو دنیا کا جدید ترین اسلحہ انٹیلیجنس نیٹ ورک مواصلاتی روابط سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔

operation

دہشتگردوں کے پاس امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ موجود ہے جو انھیں ہر قسم کی کارروائیوں میں مدد دیتا ہے
ہفتہ کے روز بلوچستان کے متعدد اضلاع میں دہشتگردوں کی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کسی بڑی جنگ سے کم نہ تھی اس حوالے سے تمام تر خبروں سے قارئین آگاہ ہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں تشویشناک امر یہ ہے کہ کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے بی ایل اے کی سفاکیت کا اندازہ یہاں سے سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے عورتوں اور معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا پاکستانی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں پر قابو پا لیا کوئی 145 کے قریب دہشتگردوں کو واصل جہنم بھی کیا

pak-army
فائل فوٹو

لیکن سوال اٹھتا ہے کہ دہشتگردوں کی اتنی بڑی کارروائی کا ہمیں قبل از وقت علم کیوں نہ ہو سکا اتنے شہروں میں ایک ہی روز میں ہونے والی کارروائیوں کی آخر کہیں تو منصوبہ بندی ہوئی ہو گی لیکن حیرانی تو یہ ہے کہ وہ بیک وقت اتنی جگہوں پر حملہ آور کیسے ہو گئے ہمیں دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے ازسرنو حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے بہت بڑے پیمانے پر جنگی بنیادوں پر بہت بڑے آپریشن ناگزیر ہو چکے، دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا بہت ضروری ہے لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہمیں ہر حال میں سرداروں کو اعتماد میں لینا ہو گا ناراض لوگوں کو منانا ہو گا ان کی جائز شکایات دور کرنا ہوں گی اور ان کے مقام اور مرتبہ کے مطابق ان کی عزت وتوقیر بحال کرکے انھیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہو گا ۔

دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ فضائی کارروائیاں زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہیں بلوچستان کے عوام کی محرومیاں ختم کر کے انھیں باعزت روزگار فراہم کرنا ہو گا مقامی انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانا ہو گا اور پبلک کو دہشتگردوں کے مقابلہ کے لیے تیار کرنا ہو گا انتظامیہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور آلات سے لیس کرنا ہو گا ۔

pak army
فائل فوٹو

پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے پر بین الاقوامی اداروں کو باور کروانا ہو گا کہ کس طرح یہ دونوں ملک مداخلت کررہے ہیں بھارت اور افغانستان کو دہشتگرد ملک قرار دلوانے کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے سفارتی سطح پر آواز اٹھائی جائے لیکن یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اپنی جنگ خود لڑنا ہے اس لیے ہمیں اس کی بھرپور تیاری کر کے دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملانا ہو گا بعض لوگ دہشتگردی کی ٹائمنگ بارے سوال اٹھاتے ہیں دراصل اس وقت پاکستان بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ریاست بن کر ابھر رہا ہے بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی معدنیات میں دلچسپی رکھتے ہیں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کا ماحول بن رہا ہے جو کہ بھارت اور اس کی پراکسی کو ہضم نہیں ہو رہا اس لیے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کر رہے ہیں جنھیں بطور قوم ہم نے ناکام بنانا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button