بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

درخت،زندگی،رحمت اور بقا کی ضمانت

عبدالخالق چوہدری

درخت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہیں جن کے بغیر زمین پر زندگی کا تصور ادھورا ہے۔ یہ نہ صرف انسان بلکہ تمام جانداروں کے لیے حیات کا بنیادی سہارا ہیں۔ موجودہ دور میں جب ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی وسائل کی کمی جیسے سنگین مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں، درختوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ درحقیقت درخت زمین کے پھیپھڑے ہیں جو فضا کو صاف کرتے اور زندگی کو برقرار رکھتے ہیں۔درخت ایک ایسا جاندار پودا ہے جس کا مضبوط تنا، پھیلی ہوئی شاخیں، سرسبز پتے اور گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ یہ زمین سے پانی اور معدنیات حاصل کرتا ہے، سورج کی روشنی سے توانائی لیتا ہے اور فوٹو سنتھیسز کے عمل کے ذریعے آکسیجن خارج کر کے ماحول کو متوازن رکھتا ہے۔ سائنسی اعتبار سے درخت ایک کثیر سالہ پودا ہے، مگر دینی نقط نظر سے یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

قرآن مجید میں درختوں کا ذکر بارہا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کھجور، زیتون، انگور اور دیگر درختوں کا ذکر کرتے ہوئے انسان کو ان کی تخلیق اور افادیت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ زیتون کو ”شجرہ مبارکہ” قرار دیا گیا، جو اس کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح جنت کے باغات کا ذکر بھی بارہا آیا ہے جہاں سایہ دار درخت، بہتے چشمے اور پھلوں کی فراوانی انسان کے لیے انعام کے طور پر بیان کی گئی ہے۔درختوں کی عظمت کا ایک نہایت بلند مقام ”سدرۃ المنتہیٰ” ہے، جس کا ذکر شبِ معراج کے موقع پر آیا۔ یہ وہ مقدس درخت ہے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور آگے جانے کی اجازت نہ تھی، جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ اس سے آگے تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ درخت نہ صرف زمین پر بلکہ آسمانوں میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شامل ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ بھی درخت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ جنت میں ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا، مگر شیطان کے بہکانے پر اس کا پھل کھانے کے بعد انہیں اپنی برہنگی کا احساس ہوا اور انہوں نے درختوں کے پتوں سے اپنے جسم کو ڈھانپا۔ اس واقعہ سے درخت کی افادیت اور انسانی زندگی میں اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں بھی درخت انسان کے کام آتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی درخت ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب آپ کوہِ طور پر پہنچے تو ایک درخت ہی وہ ذریعہ بنا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ ایک مبارک درخت سے آواز آئی: ”اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں، رب العالمین”۔ اس واقعہ سے درخت کی روحانی عظمت اور اس کا اللہ تعالیٰ کے پیغام سے تعلق واضح ہوتا ہے۔حضرت مریم علیہا السلام کے واقعہ میں بھی درخت کا ذکر نہایت خوبصورت انداز میں ملتا ہے۔ جب آپ دردِ زہ میں مبتلا ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھجور کے درخت کے نیچے پناہ دی اور حکم دیا کہ درخت کو ہلائیں تاکہ تازہ کھجوریں آپ پر گریں۔ یہ واقعہ نہ صرف اللہ کی رحمت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ درخت انسان کے لیے رزق، سہارا اور تسکین کا ذریعہ ہیں۔اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک درخت میں پناہ لی تھی۔ اگرچہ دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا، مگر یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ درخت ہمیشہ سے انسان کے لیے پناہ اور حفاظت کا ذریعہ رہے ہیں۔بیعتِ رضوان کا عظیم واقعہ بھی درخت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ تاریخی موقع تھا جب صحابہ کرامؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر ایک درخت کے نیچے بیعت کی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بیعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ اس واقعہ نے اس درخت کو تاریخ اسلام میں ایک خاص مقام عطا کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ درخت نہ صرف فطری بلکہ دینی اور روحانی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔درختوں کے فوائد بے شمار ہیں۔ یہ فضا کو صاف کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتے ہیں اور بارش کے نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ درخت زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں، سیلاب کے خطرات کو کم کرتے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف پھل اور لکڑی فراہم کرتے ہیں بلکہ ادویات، کاغذ، ربڑ اور دیگر ضروریات زندگی کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔درخت انسانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ یہ ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں، تناؤ کو کم کرتے ہیں اور ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سبزہ اور درختوں کے قریب رہنے والے افراد زیادہ صحت مند اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔
اسلام نے درخت لگانے کی بھرپور ترغیب دی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو وہ اسے زمین میں لگا دے۔ ایک اور حدیث کے مطابق جو شخص درخت لگاتا ہے اور اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح بلا ضرورت درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام ماحول کے تحفظ کا علمبردار ہے۔دنیا بھر میں درختوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں درخت کو زندگی، خوشی اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عیسائی مذہب میں کرسمس ٹری اس کی ایک مثال ہے، جو خوشی اور جشن کا اظہار ہوتا ہے۔بدقسمتی سے آج انسان اپنی ترقی کی دوڑ میں درختوں کو بے دریغ کاٹ رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی اور شہری پھیلاؤ نے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے جہاں جنگلات کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں صاف ہوا اور صحت مند ماحول سے محروم ہو جائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس ذمہ داری کو محسوس کریں۔نوجوان نسل اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں شجرکاری مہم کو فروغ دینا، سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی پھیلانا اور عملی طور پر درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ کم از کم ایک درخت ضرور لگائے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ درخت لگانا صرف ایک دنیاوی عمل نہیں بلکہ ایک عظیم نیکی بھی ہے۔ یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جس کا اجر انسان کو زندگی کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ زمین کی اصلاح اور بہتری میں حصہ لینا دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ درخت زندگی ہیں، رحمت ہیں اور بقا کی ضمانت ہیں۔ قرآن و سنت، انبیاء کے واقعات اور سائنسی حقائق سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ درخت انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر ہم ایک سرسبز، خوشحال اور صحت مند پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی سے درخت لگانے اور ان کی حفاظت کا عہد کرنا ہوگا۔ یہی عمل نہ صرف ہمارے حال کو بہتر بنائے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور خوبصورت مستقبل کی بنیاد بھی رکھے گا۔بشکریہ سی سی پی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button