ٹرمپ کے درباری سیاست کی بنیاد پر فیصلے ، بھاری قیمت چکانا پڑ رہی
امریکہ کو اتنا گہرا گڑھا کھودنے کی ضرورت نہیں تھی،اب بھی اتنا وقت ہے کہ وہ کُدال رکھ دے اور اپنی غلطیوں سےتلخ سبق سیکھے،پوٹن کو نئی زندگی مل گئی، شی جن پنگ کی تزویراتی پوزیشن بہتر:برنز

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) سی آئی کے سابق ڈائریکٹر اور روس میں امریکی سفیر ولیم جے برنز نے اپنے کیریئر میں ایران کے ساتھ مخاصمت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں اس کی اکثر بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔
نیویارک ٹائمز میں شائع اپنے مضمون میں ولیم برنز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ ’مرضی کی جنگ‘ ماضی کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے نئی غلطیوں میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے فرض کر لیا کہ بمباری اور ٹارگٹڈ ہلاکتیں حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں، محض عسکری کامیابی کو پائیدار حکمت عملی سمجھنے کی غلطی کر دی، انہوں نے فیصلے ذاتی رجحان اور درباری سیاست کی بنیاد پر کیے۔ولیم برنز نے مزید لکھا کہ غیرضروری غلطیوں سے پہلے ہی بہت تزویراتی نقصان ہو چکا ہے، تاہم تین اہم معاملات امریکی مفادات کو بچانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ خارجہ پالیسی کے پیچیدہ مسائل سلجھانے کیلئے وقت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سفارت کاری میں ’’کمال‘‘ کا حصول شاذ و نادر ہی ممکن ہوتا ہے۔ قیادت کا خاتمہ ایک پرکشش شارٹ کٹ معلوم ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پتہ چل گیا کہ، یہ محض ایک سراب ہے۔سابق صدر اوباما نے اپنے پیشرو جارج ڈبلیو بش کی طرح، منطق اپنائی کہ ایران کے ساتھ طویل مدتی کھیل کھیلا جائے، اس کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو روکا جائے اور بداعتمادی کو ختم کرتے ہوئے ایرانی عوام کی سیاسی آزادیوں کی حمایت کی جا سکے، اوباما نے جنگ کے دور رس نتائج کا بغور جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جنگ کے نقصانات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے آپریشن سے شہ پا کر المناک انتخاب کیا، تاہم اب بھی موقع ہے کہ وہ ’’فوری حل‘‘ کی خواہش پر قابو پا لیں تو ایران کی جانب سے لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔دوسرا یہ کہ عسکری اور معاشی دباؤ کے بغیر سفارت کاری نتیجہ خیز نہیں ہوتی، محض طاقت نتائج نہیں دیتی۔ مذاکرات ’’حکم چلانے‘‘ کا نام نہیں ہے، یہ ہمیشہ لین دین کا ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہوتا ہے جس میں مہارت اہمیت رکھتی ہے اور دباؤ کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دو بنیادی چیلنجز انتہائی اہم ہیں یعنی جوہری مسئلہ اور آبنائے ہرمز۔ امریکہ کے پاس پتے مضبوط ہیں لیکن پائیدار معاہدے کیلئے باریک بینی سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔تیسرا اور اہم سبق یہ ہے کہ محض ’گھاس کاٹنا‘‘ مسائل کی نئی پنیری لگانے کے مترادف ہوگا، یعنی طویل مدتی منصوبے کے بغیر فوری خطرات کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے مسائل حل بھی نہیں ہوتے۔ایرانی حکومت زخم خوردہ ہے لیکن برقرار ہے اور پہلے سے زیادہ سخت ہو گئی ہے۔
امریکہ نے خلیجی اور یورپی اتحادیوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔ انڈو پیسفک میں ہمارے دوست ممالک معاشی طور پر شدید متاثر ہیں اور امریکی قیادت پر ان کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔اس جنگ نے روسی صدر پوتن کو بھی نئی زندگی عطا کر دی ہے، انہیں توانائی کی مد میں زیادہ آمدن مل رہی ہے جبکہ امریکہ کے عسکری ذخائر میں کمی ہو رہی ہے۔چینی صدر شی جن پنگ سمجھتے ہیں کہ اس تنازع نے چین کو ایک برتر تزویراتی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس جنگ کے عالمی معیشت پر بھی طویل مدتی اثرات اور چیلنجز ہوں گے، اس کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی بہت دیر سے زائل ہوں گے۔
امریکہ کو اس گڑھے کو اتنا گہرا کھودنے کی ضرورت نہیں تھی، خوش قسمتی سے اب بھی اتنا وقت ہے کہ امریکہ کدال رکھ دے، کچھ تلخ اسباق سیکھے اور تھوڑی عاجزی کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔



