انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

پاکستانی تاریخ کے سپیڈبریکر

(سپیڈبریکر، میاں حبیب )

سپیڈبریکر کا بنیادی مقصد رفتار کو کنٹرول میں رکھنا، حادثات سے بچنا، اعتدال میں رہنا،ہوش وحواس برقرار رکھنا، الرٹ کرنا اور احتیاط کے ہیں لیکن جہاں ضروری سپیڈبریکر من مانی سے روکتے ہیں، احساسات وجذبات پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں وہیں بےجا سپیڈبریکر رفتار کے تسلسل کو ختم کرنے، ترقی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور رفتار کو ڈسٹرب کرنے کا کام بھی کرتے ہیں لہذا جہاں ضرورت ہو وہیں سپیڈبریکر لگانے چاہیں وہی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں بدقسمتی سے ہم نے جہاں ضروری تھا وہاں سپیڈبریکر لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی جس کی وجہ سے ہم اکثر حادثات کا شکار ہوتے رہے اور جہاں ضرورت نہیں تھی وہاں سپیڈبریکر قائم کرکے رکاوٹوں الجھنوں کا باعث بنتے رہے ۔

1947 کے بعد پاکستان کا سفر صرف بیرونی خطرات سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی، فکری اور سیاسی حفاظتی انتظام کی کمزوریوں سے بھی متاثر ہوا قیام پاکستان کے بعد وسائل کی درست تقسیم کے لیے ہم خاطر خواہ انتظام نہ کر سکے جعلی کلیموں اور آلاٹمنٹوں کے راستے میں ہم کوئی سپیڈبریکر کھڑا نہ کر سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بےشمار حق داروں کو ان کا حق نہ مل سکا اور لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہوا جس پر آج تک قابو نہیں پایا جاسکا۔

جعلی کلیموں اور آلاٹمنٹوں سے شروع ہونے والے سفر نے میرٹ کا بیڑہ غرق کردیا اور ساتھ ہی ساتھ جعلی ذاتوں نے بھی معاشرتی شناخت کو گڈ مڈ کر دیا اچھے بھلے صاحب کردار عزت دار لوگ اپنی شرافت میں مارے گئے وہ ٹکے ٹوکری ہو گئے جبکہ چاپلوس فراڈیے اور رنگ باز وسائل پر قابض ہو کر صاحب عزت بن گئے ۔

ہم نے قیام پاکستان کے بعد آئین کی تشکیل کے راستے میں بےجا سپیڈبریکر کھڑے کر کے مستقل نظام قائم کرنے میں تاخیر کی جس نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی اور طاقت واختیارات کی کشمکش کو فروغ دیا ہم نے مستقل نظام بنانے اس پر کاربند ہونے کی بجائے ملک کو ڈنگ ٹپائو طریقوں سے چلانا شروع کیا اور آج تک اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔

صوبائی ہم آہنگی بھی ایسا معاملہ تھا جہاں ضروری حفاظتی بندوبست کمزور رہا پاکستان مختلف نسلی لسانی فرقہ وارانہ اور علاقائی شناختوں پر مشتمل ایک وفاق تھا اور ہے ہم نے آکائیوں کی شکایات کا ازالہ ممکن بنانے میں کوتاہی برتی بداعتمادی پیدا کی 1971 کا سانحہ اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے آج بھی ہم علاقائی مسائل فرقہ واریت ذات برادریوں کی سیاست سے باہر نہیں نکل پا رہے قومی سوچ کو فروغ دینے بارے ہماری سیاسی قیادتیں بانجھ دکھائی دیتی ہیں دوسری طرف دیکھا جائے تو ہم نے قوم کو گروہی معاملات میں الجھائے رکھا سیاسی جمہوری نظام کی آبیاری میں بےجا سپیڈبریکر قائم کیے جس سے قومی بیانیہ نہ پنپ سکا پاکستان مختلف نظاموں کامجموعہ اور تجربہ گاہ بن کر رہ گیا ۔

ہم نے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور شارٹ کٹ کے ذریعے دکھاوے کے کام کیے جس سے ملک میں ترقی کا باعث بننے والے بڑے منصوبوں پر کام نہ ہو سکا ملک کی معیشت کو بھی ڈنگ ٹپائو اور سیاسی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا کبھی نیشنلائزڈ کرنے اور کبھی پرائیوٹائز کرنے کے چکروں سے باہر نہ نکل پائے ہم نے قومی منصوبوں کو متنازع بنا کر قومی یکجہتی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور ان بےجا سپیڈبریکروں کو کبھی ختم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

ہم نے قوم کی کردار سازی پر کبھی توجہ نہیں دی اخلاقی حدود کے تمام بیرئیر ختم کر کے معاشرے کو شتر بے مہار کر دیا جس کی وجہ سے آج معاشرہ برائی کو برائی نہیں سمجھ رہا میرٹ کے قتل عام رشوت سفارش دھونس دھاندلی زور زبردستی کو جائز تصور کر لیا گیا ہے لوگوں نے اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر روپے پیسے کو دین مذہب سمجھ لیا ہے اور یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ جس کے پاس روپیہ پیسہ ہے وہ ہر چیز مینج کر سکتا ہے ۔

پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے جس کی بےپناہ صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت ہے اگر ہم اعتدال میں رہ کر خلوص نیت کے ساتھ معاملات کو چلانا چاہیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں تو ترقی کے راستے میں قائم تمام سپیڈبریکر قوم خود ہی ختم کر لے گی پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھے کہ کہاں ہم نے سپیڈ کم کرکے احتیاط کرنی ہے اور کہاں ہم نے دوڑ کر آگے بڑھنا ہے کون سے سپیڈبریکر ضروری ہیں جو قوم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کون سے غیر ضروری ہیں جو قوم کو کمزور اور تقسیم کر رہے ہیں تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں کسی ایک دشمن کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اس وجہ سے تباہ ہوتی ہیں جب وہ ضروری بریک لگانا بھول جائیں اور حادثات کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گریں یا اپنی ترقی کے راستے میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں ۔

پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ صیح سپیڈبریکر تعمیر کرےاور غلط رکاوٹوں کو ہٹائے ملک کو مضبوط اداروں قانون کی حکمرانی، تعلیمی اصلاحات، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، میرٹ، صوبائی ہم آہنگی اور معاشی نظم وضبط درکار ہے یہی وہ ضروری حفاظتی دیواریں ہیں جو قومی ترقی کے سفر کو پٹڑی سے اترنے سے بچا سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی بیوروکریسی کی غیر ضروری پیچیدگیوں سیاسی انتقام، بدعنوانی، عدم برداشت اور پالیسی کے عدم تسلسل جیسی رکاوٹوں کو کم کرنا ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button