سعودی ولی عہد سے حافظ طاہر محمود اشرفی کی ملاقات
شاہد جاوید ڈسکوی

بحیثیتِ مسلمان میرا یہ غیر متزلزل ایمان ہے کہ عزت و ذلت کی تمام کنجیاں اللہ ربّ العزت کے دستِ قدرت میں ہیں۔ وہی مالکِ حقیقی، شہنشاہِ دو جہاں اور عزت و وقار عطا کرنے والا ہے۔ قرآنِ مجید کا واضح اعلان ہے یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت سے نواز دے اور جسے چاہے ذلت سے دوچار کر دے۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کی تمام طاقتیں، سازشیں اور وسائل مل کر بھی اُس شخص کی عزت و قبولیت میں کمی نہیں لا سکتیں جسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نواز دے اور اگر وہ کسی کو اپنی حکمت کے تحت آزمائش میں ڈال دے تو پھر دنیا کی کوئی قوت اس کے فیصلے کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو بعض شخصیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ غیر معمولی قبولیت، اثر و رسوخ اور عزت سے نوازتا ہے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ میرا حافظ صاحب سے تعلق محض رسمی، صحافتی یا پیشہ ورانہ نوعیت کا نہیں بلکہ دو نسلوں پر محیط ایک گہرا، مخلصانہ اور خاندانی تعلق ہے۔ وہ میرے والدِ محترم جاوید جمال ڈسکوی مرحوم کے نہایت قریبی، مخلص اور دیرینہ رفقائے کار میں شامل رہے ہیں۔ اسی نسبت سے میرا ان کے ساتھ چچا بھتیجے کا تعلق بھی ہے۔ میں نے کئی دہائیوں سے انہیں قریب سے دیکھا ہے، ان کی جدوجہد، فکری وسعت، قومی خدمات اور بین الاقوامی کردار کا مشاہدہ کیا ہے اور بہت سے معاملات میں عینی شاہد بھی رہا ہوں۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی صرف ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے صحافی، مدبر اور صاحبِ بصیرت شخصیت بھی ہیں۔ صحافت کے میدان میں ان کی تربیت اور رہنمائی کا تعلق میرے والدِ مرحوم سے جڑا ہوا ہے، جس کا اعتراف وہ خود بھی کھلے دل سے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص شہرت، عزت اور عظمت کی بلند ترین منزلوں پر پہنچنے کے باوجود اپنے اساتذہ کا ذکر احترام سے کرے تو یہی اس کی اصل بڑائی کی دلیل ہوتی ہے۔ میری نظر میں حافظ صاحب کی شخصیت کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے تعلقات اور نسبتوں کا حق ادا کیا ہے۔
مجھے بھی صحافت کے میدان میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں مذہبی قیادت اور صحافتی بصیرت کا ایسا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے جو انہیں دیگر مذہبی رہنماؤں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے۔ عام طور پر مذہبی قیادت کسی مسئلے کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھتی ہے، مگر حافظ صاحب کی فکر، مطالعہ اور تجربہ انہیں معاملات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور پرکھنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ان کا وژن محدود دائروں کا اسیر نہیں بلکہ قومی، بین الاقوامی، تہذیبی اور اسلامی تناظر میں مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ کسی بھی اہم قومی یا عالمی مسئلے پر دیگر مذہبی رہنماؤں کی گفتگو اور حافظ صاحب کے مؤقف کا تقابل کیا جائے تو فرق نمایاں محسوس ہوتا ہے۔
اسی فکری وسعت، متوازن سوچ اور دور اندیشی نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عالمِ اسلام، بالخصوص مملکتِ سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ قریبی روابط سے بھی نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طویل عرصے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خیر سگالی، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ میں ایک مؤثر اور قابلِ قدر کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ متعدد اسلامی ممالک میں بھی کیا جاتا ہے۔
آج کل حافظ صاحب حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجازِ مقدس میں موجود ہیں۔ اس دوران دو ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جنہوں نے میرے دل میں ان کے لیے مزید احترام اور رشک کے جذبات پیدا کر دیے۔
پہلا منظر ایک ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا جس میں ایک خوبرو عرب نوجوان حافظ صاحب کو دیکھتے ہی والہانہ انداز میں ان کی طرف بڑھتا ہے، انہیں گلے لگاتا ہے اور بار بار "الشیخ طاہر اشرفی، الشیخ طاہر اشرفی” کہتے ہوئے عقیدت و محبت سے بار بار ان کی پیشانی کا بوسہ لیتا ہے۔ یہ منظر میرے لیے نیا نہیں تھا کیونکہ میں خود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایسے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ 2018ء میں ہمیں مکہ مکرمہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ اس دوران جہاں بھی ہم گئے، عرب نوجوان اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد حافظ صاحب کو دیکھ کر ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ کوئی مصافحہ کرتا، کوئی پیشانی کا بوسہ لیتا، کوئی بغل گیر ہوتا اور کوئی یادگار تصویر بنانے کی خواہش ظاہر کرتا۔ اس وقت عالمِ اسلام کی بے شمار معروف اور ممتاز شخصیات وہاں موجود تھیں مگر عوامی سطح پر جس محبت، احترام اور عقیدت کا اظہار میں نے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے لیے دیکھا، وہ کسی اور مذہبی شخصیت کے حصے میں آتا نظر نہیں آیا۔ میں اس حقیقت کا چشم دید گواہ ہوں۔
دوسرا منظر چند روز قبل حج کے ایام میں سامنے آنے والی وہ ویڈیو تھی جس میں مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم، عالمِ اسلام کے نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن شہزادہ محمد بن سلمان اور حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی ملاقات دکھائی گئی۔ سعودی ولی عہد نے جس گرمجوشی، خلوص اور اپنائیت کے ساتھ حافظ صاحب سے مصافحہ کیا، انہیں گلے لگایا اور دیر تک ان کے ساتھ محوِ گفتگو رہے، وہ منظر بذاتِ خود دونوں شخصیات کے تعلق اور باہمی اعتماد کی پوری داستان سنا رہا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ حافظ صاحب نے کبھی ان تعلقات کو اپنی ذات کی تشہیر یا ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ عالمِ اسلام، خصوصاً پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے بروئے کار لایا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض لوگ حسد، بغض یا کم علمی کی بنیاد پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حافظ صاحب ہر حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو کبھی حکومتی عہدوں یا اقتدار سے وابستگی کا شوق نہیں رہا۔ دراصل مختلف ادوار میں حکومتوں کو ریاستی اور بین الاقوامی معاملات میں ان کی خدمات سے استفادہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہوں نے ہمیشہ ریاست اور قوم کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں۔
اسلامی ممالک، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے استحکام کے لیے انہوں نے ہمیشہ ایک مؤثر سفارتی اور فکری پل کا کردار ادا کیا۔ ان خدمات کے عوض نہ کبھی سرکاری تنخواہ لی اور نہ ہی مراعات حاصل کیں۔ حتیٰ کہ بیرونِ ملک سرکاری دوروں میں بھی اکثر اپنے سفری اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔ انہیں ملنے والے تحائف کو ذاتی ملکیت کے بجائے قومی امانت سمجھتے ہوئے توشہ خانہ میں جمع کراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین اور ناقدین اگرچہ ان پر الزامات کے تیر برساتے رہتے ہیں لیکن آج تک کوئی شخص کسی الزام کے حق میں قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش نہیں کر سکا چنانچہ حافظ صاحب ایک کارواں کی مانند اپنے سفر پر گامزن ہیں، راستے میں اٹھنے والی منفی آوازوں اور بے بنیاد اعتراضات کی پروا کیے بغیر۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ریاستی مفادات، قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ وہ اسلام اور پاکستان کے وفادار، عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے مضبوط محافظ، اہلِ بیتِ اطہارؓ اور صحابۂ کرامؓ کے ادب و احترام کے داعی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے علمبردار ہیں۔ ان کی گفتگو میں شدت کے بجائے استدلال، تصادم کے بجائے مکالمہ اور اختلاف کے بجائے اعتدال کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ متحرک، مؤثر اور نمایاں ہوتا ہے، اسے اتنی ہی زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حافظ صاحب بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ مختلف اوقات میں ان پر اعتراضات اور الزامات عائد کیے گئے مگر آج تک کوئی ایسا الزام معتبر اور ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ ثابت نہیں ہو سکا جو ان کی حب الوطنی، دیانت داری، اخلاص یا ملی خدمات پر سوالیہ نشان بن سکے۔
میرے نزدیک حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اُن چند مذہبی و قومی شخصیات میں شامل ہیں جو صرف اپنے عہد کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بھی ہیں۔ ان کی فکری بصیرت، قومی سوچ، بین الاقوامی روابط، اعتدال پسند طرزِ فکر اور امتِ مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے حساسیت انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو عزت، وقار اور قبولیت عطا کر دی ہو، ان کے بارے میں فیصلہ وقتی شور شرابے، سوشل میڈیا کی بحثوں یا مخالفین کے پروپیگنڈے سے نہیں ہوتا بلکہ تاریخ کرتی ہے اور تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے کردار، خدمت، اخلاص اور مثبت اثرات کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بناتے ہیں۔


