
امریکہ ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو چکا ہے مشرق وسطی ٰمیں برپا گولہ باورد کا طوفان تھم جائے ، اس معاہدے میں جن لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ان کے بارے میں فنانشل ٹائمز اور بلوم برگ کی رپورٹ میں سب عیاں ہو چکا ہے ، فنانشل ٹائمز ایک موقر اخبار ہے بلوم برگ ایک قابل اعتماد نشریاتی ادراہ ہے جن کے مطابق اس امن معاہدے میں قطر کا کردار بہت ہی اہم ہے۔
قطر امریکہ بہت بااعتماد اتحادی ہیں،قطرنے امریکہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ٹرمپ کو دورہ قطر کے دوران بہت قیمتی ہوائی جہاز تحفے میں دیا گیاتھا ایرانیوں کو بھی قطر پر بہت بھروسہ ہے ، پاکستان نے شروع میں جو سفارت کاری کی تھی اس سے دوررس نتائج مرتب نہیں ہوئے لہذاآخری اوور کا کھیل قطر نے ہی کھیلا اور کامیاب رہا۔
اس امن معاہدے میں ایرانی سیاسی قیادت اور امریکی صدر کا کردار بھی مثبت رہا تاہم اگر ایران اور اسرائیل کی بعد از جنگ تباہی کا موزانہ کریں تو زمین آسمان کا فرق نظر اتا ہے ۔
یہ امن معاہدہ جس کا عنوان ہے تیل کو بہنے دوایک تاریخ ساز عمل ہے ایرانی سیاسی قیادت کی بالادستی ایرانی عوام انکی تہذیب وثفافت کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے،ایرانی سیاسی قیادت کو اپنی عوام کی خواشات کو احترام دینا چاییے تاکہ اس عظیم تہذیب ادبی ثفافتی ورثے سے مالا مال ملک کی عوام آئینی آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی آزادی کی بقا کو سلامت رکھے۔
دوسری جانب پنجاب کی سی ٹی ڈی فورس ایک شتر بے مہار فورس بن چکی ہے اسے کوئی پروا نہیں صوبے کا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہویا مریم نواز ساہیوال اور چکوال جیسی قتل وغارت گری جاری ہے۔
یہ بھی حقیت سی لگنے لگی ہے کہ موجودہ رجیم نے پولیس کو اپنی سیاسی خواشات کی تکمیل کے لئے اس قدر بے لگام کر دیا کہ پنجاب میں کسی کی بھی عزت ، جان اور مال محفوط نہیں ۔
سانحہ چکوال پر فوری کارروائی صرف اور صرف اس لئے ہوئی کہ متاثرہ خاندان آسٹریلوی شہریت رکھتا تھا اگر وہ پاکستانی ہوتے تو کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگتی اسی سی ٹی ڈی فورس پر 2سال کے دوران ماورائے عدالت قتل کے 900 کے قریب واقعات کے الزامات ہیں ہیومین رائٹس کمیشن کی رپورٹ بھی جاری ہو چکی ہے۔



