بلاگپاکستانتازہ ترینسپورٹسعلاقائی خبریں

’’محسن نقوی سپیڈ‘‘،مردوخواتین کرکٹرز کی موجیں،پی ایس ایل سے متعلق بھی بڑافیصلہ

پی سی بی بورڈآف گورنرزکا اجلاس،ڈومیسٹک کرکٹ بجٹ 4ارب،کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافہ،خواتین ون ڈے ،ٹی 20ٹورنامنٹس کیلئے بھی فنڈز مختص

لاہور(رپورٹ: محمد قیصر چوہان)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے بورڈ آف گورنرز اجلاس نے قومی اور ڈومیسٹک کرکٹرز کی میچ فیس میں اضافے ،نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے فارمیٹ اور ادائیگی کے طریقہ کار،ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں بائیو میکینس مشین لگانے کیلئے فنڈز مختص کرنے سمیت پی ایس ایل کو انتظامی و مالیاتی طور پر خودمختار بنانے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی بورڈ آف گورنرز کا 84واں اجلاس لاہور میں منعقد ہوا،

اجلاس میں چیف فنانشل آفیسر پی سی بی جاوید مرتضیٰ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے خدوخال اور اعداد و شمار کے بارے میں بریفنگ دی۔

بی او جی کے ممبران انوار غنی، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، اسماعیل قریشی، سجاد کھوکھر، تنویر احمد، عدنان ملک، ظہیر عباس، ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن میر حسن نقوی، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر سمیت تمام ڈائریکٹرز نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاءنے بورڈ آف گورنرز کی گزشتہ میٹنگ کے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں نئے مالی سال 27-2026ءکے سر پلس بجٹ اور پی ایس ایل کے 12 ویں ایڈیشن کے بجٹ اور پی ایس ایل کو انتظامی و مالیاتی طور پر خود مختار بنانے کی منظوری دی گئی جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے بجٹ میں 1 ارب روپے کا اضافہ کر کے اسے 3 ارب روپے سے بڑھا کر 4 ارب روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے فارمیٹ اور ادائیگی کے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی، قائد اعظم ٹرافی کے کھلاڑیوں کی میچ فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے اور ریزرو کھلاڑیوں کی میچ فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں ویمنز ون ڈے اور ٹی 20 ٹورنامنٹس کے انعقاد اور اس ضمن میں فنڈز مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔اس کے علاوہ اجلاس میں ریجنل گرائونڈ اسٹاف کی کم از کم تنخواہ 42 ہزار روپے کرنے، مزید 12 گرائونڈز کو آپریشنل کرنے اور ہیومن ریسورس کیلئے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم کراچی سمیت دیگر انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کیلئے 6 ارب 70 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button