پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

کوآپریٹو سوسائٹی کیس میں ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا:آئینی عدالت

متبادل قانونی فورم ہو تو ہائیکورٹ میں آئینی درخواست قابلِ سماعت نہیں:فیصلہ جاری

 

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹس میں دائر آئینی درخواستوں (رٹ پٹیشنز) کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جہاں قانون کے تحت داد رسی کے لیے متبادل اور مؤثر فورم موجود ہو، وہاں براہِ راست ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ سندھ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق کیس میں جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا آئینی دائرہ اختیار کے تحت ہائیکورٹس متنازع حقائق پر مبنی مقدمات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں، کیونکہ ایسے معاملات میں شواہد ریکارڈ کر کے حقائق کا تعین کرنا متعلقہ مجاز فورم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں متنازع حقائق موجود ہوں تو ان کا درست تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے، اور یہ عمل آئینی درخواست کے ذریعے ممکن نہیں اس لیے ایسے تنازعات پہلے متعلقہ قانونی فورم پر ہی اٹھائے جانے چاہییں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا یہ تنازع قانون کے مطابق کوآپریٹو کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا تھا، اس لیے انتخابات کو براہِ راست ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔عدالت نے قرار دیا سندھ ہائیکورٹ نے انتخابات کالعدم قرار دے کر اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے کوآپریٹو کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوسائٹی کے انتخابی تنازع کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر قانون کے مطابق کرے۔فیصلے کو آئینی درخواستوں کے دائرہ اختیار اور متبادل قانونی فورمز کی اہمیت کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے مقدمات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button