انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

خالصتان کا خواب، ایک عالمی تحریک، بھارت کیلئے چیلنج

 

ایک قدیم بستی میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جس کا معمول یہ تھا کہ وہ دن بھر دوسروں پر چوری اور بدکاری کے الزامات لگاتا پھرتا۔ جب بھی بستی میں کوئی واردات ہوتی، وہ سب سے پہلے شور مچاتا اور لوگوں کی توجہ دوسروں کی طرف مبذول کراتا تاکہ خود پر پڑنے والی کسی بھی نگاہ کو بھٹکا سکے۔ وہ اپنی صفائی میں اتنے زور دار دعوے کرتا اور اتنا شور مچاتا کہ سادہ لوح لوگ اسے ہی بستی کا سب سے بڑا "محافظ” سمجھنے لگے۔ مگر حقیقت کی ایک عجیب خاصیت ہے کہ وہ کبھی چھپتی نہیں، اور آخرکار اس شخص کے اپنے ہی گھر سے چوری کا وہ سامان برآمد ہوا جس کا الزام وہ برسوں سے دوسروں پر لگاتا رہا تھا۔ جب وہ سامان ملا تو بستی کے ہر فرد پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ دنیا میں سب سے زیادہ شور وہی مچاتا ہے جو دراصل خود سب سے بڑا چور ہوتا ہے۔

آج عالمی سیاست کے منظرنامے میں بھارت کا کردار بالکل اسی "شور مچانے والے چور” کا ہے۔ ایک طرف بھارت ہے جو اپنی فلموں، ڈراموں، تقریروں اور تحریروں کے ذریعے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ امن کا گہوارہ ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی انتہا پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے دنگے، فسادات، ریاستی دہشت گردی اور دہشت گرد سرگرمیوں کا الزام پاکستان جیسی پرامن ریاست پر لگا کر عالمی دنیا کو دھوکا دے رہا ہے۔

اسی تناظر میں خالصتان تحریک ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ یہ تحریک صرف بھارت کے اندرونی سیاسی مسئلے تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد سکھ برادری کے درمیان بھی اس پر بحث جاری ہے۔ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے مختلف حصوں میں خالصتان سے متعلق سرگرمیوں نے بھارت کی سفارتی اور داخلی پالیسیوں کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا ہے، جس کے باعث یہ مسئلہ ایک عالمی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار ریاست کا ہے جو اپنے آئین کے تحت تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو، مسیحی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مذہبی رسومات آزادی سے ادا کرتے ہیں اور ریاست ان کے مقدس مقامات کی حفاظت اور تزئین و آرائش میں پیش پیش رہتی ہے۔ کرتارپور راہداری اس کا ایک روشن ثبوت ہے، جہاں سکھ برادری کے لیے محبت کے دروازے کھولے گئے، جبکہ بھارت اپنی سرحدوں کے اندر سکھ، مسلمان اور مسیحی برادریوں کو دیوار سے لگا کر انہیں بنیادی حقوق سے محروم کر رہا ہے۔

بھارت کی انتہا پسندی کا ایک تاریک باب 1980 اور 90 کی دہائی میں بھی دیکھا گیا، جب خالصتان تحریک کے دوران ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور پنجاب کی معیشت تباہ ہوئی۔ اس دور کی سب سے بڑی دہشت گردی 23 جون 1985 کو ایئر انڈیا کی پرواز 182 کا دھماکہ تھا، جس میں 329 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ 9/11 سے قبل تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انتہا پسندی کی آگ جب بھڑکتی ہے تو وہ کسی کو نہیں بخشتی۔

بھارت کی موجودہ انتہا پسندی کا ثبوت حال ہی میں امریکی محکمۂ انصاف کی ان تحقیقات سے ملا جس میں امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھارت سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق، ان گروہوں نے 2023 میں کینیڈا کے برٹش کولمبیا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی سازش رچی۔ بھارت کینیڈا کی خودمختاری پر حملہ کر کے یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو ماننے کے بجائے اپنی انتہا پسندانہ سوچ کو ہر جگہ مسلط کرنا چاہتا ہے۔

آج دنیا کے سامنے دو چہرے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایک طرف پاکستان ہے جو نہ صرف اپنے ملک کے اندر دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام کر رہا ہے، بلکہ ان کی تزئین و آرائش اور سیکیورٹی کا بندوبست بھی کرتا ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات پوری آزادی اور تحفظ کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اور دوسری طرف بھارت ہے، جو نہ صرف اپنے ملک کے اندر اقلیتوں کا دشمن ہے، بلکہ اگر یہ اقلیتیں کسی دوسرے ملک میں چلی جائیں تو ان کا پیچھا وہاں تک کرتا ہے تاکہ اپنا دہشت گردانہ چہرہ چھپا سکے۔

خالصتان تحریک کے بارے میں رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ مسئلہ اب عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے۔ بھارت کے لیے اصل چیلنج صرف اس تحریک کے سیاسی پہلو نہیں، بلکہ اس سے جڑے انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی سفارتی سوالات بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتان کا معاملہ آج ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button