پشاور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے خیبرپختونخوا میں مسلسل تجربات کر رہے ہیں، جس کے باعث عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ فیصلہ سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
سوات میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں سے بددل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں آئندہ فیصلے عوامی امنگوں اور عمران خان کے وژن کے مطابق کیے جائیں گے۔
‘عوام بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں کریں گے’
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور اعتماد کو نظر انداز کرنے سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے شفاف اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
شفیع جان کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ "شہید سب کے سانجھے ہوتے ہیں” اور مولانا فضل الرحمان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایک بیان کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان کو غدار قرار دینا درست نہیں۔ ان کے بقول اس معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے اس کی وجوہات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار
شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک کو اس وقت دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بڑا حصہ بدامنی سے متاثر ہے، جہاں پاکستان تحریک انصاف نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے وہاں کی صورتحال پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، لیکن انہیں اب بھی قیدیوں کو حاصل بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے۔



