امریکا، ایران جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، جے ڈی وینس کا اسرائیل پر مفاہمتی معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام

تہران / واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی جانب سے فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے امریکا میں مہم چلائی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ایران کے فوجی اثاثوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون تنصیبات اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی کارروائیوں میں بندر عباس اور جزیرہ تنبِ بزرگ سمیت متعدد مقامات شامل رہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں چاہ بہار، اہواز اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق چاہ بہار میں ایک بحری نگرانی کے ٹاور کو نقصان پہنچا جبکہ اہواز میں ایک میزائل کینسر اسپتال کے قریب گرا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے اور فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوب مغربی ایران کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والا جدید امریکی MQ-9 ڈرون مار گرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس اور اردن کے الازرق فوجی اڈے پر بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب اردن نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فضائیہ نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
ایران کی سخت وارننگ
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے اور نئے محاذ کھل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی تمام دفاعی صلاحیتیں ابھی استعمال نہیں کیں اور آئندہ ردعمل دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے بھی کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے کے بنیادی ڈھانچے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کی "سرخ لکیر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی غیر علاقائی ملک کو وہاں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جے ڈی وینس کا اسرائیل پر سنگین الزام
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں بڑے پیمانے پر مہم چلائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل امریکا کا اہم اتحادی ضرور ہے، تاہم وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
ٹرمپ کا ایران سے متعلق بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایران کو کوئی ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور ایرانی قیادت مذاکرات کی خواہاں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "ہم دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں یا نہیں۔”
انہوں نے ایران کی جانب سے ایک گرفتار امریکی خاتون کی رہائی کو خیرسگالی کا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم بھی کیا۔



