انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بزدل قوم کا بہادر سپاہی

بے لگام / ستارچوہدری

جب فرانس کے نوجوان جنرل ناپولین بوناپارٹ نے 1798ء میں مصر کا رخ کیا تو اس کے عزائم صرف ایک ملک پر قبضہ کرنے تک محدود نہیں تھے۔ وہ برطانیہ کی مشرقی تجارت کی شہ رگ کاٹنا چاہتا تھا، فرانس کا اثرورسوخ مشرقِ وسطیٰ تک پھیلانا چاہتا تھا اور خود کو ایک ایسی عالمی طاقت کے معمار کے طور پر منوانا چاہتا تھا جس کا سورج کبھی غروب نہ ہو۔ تقریباً چھتیس ہزار تربیت یافتہ فوجیوں، جدید توپ خانے اور غیر معمولی عسکری منصوبہ بندی کے ساتھ وہ مالٹا فتح کرنے کے بعد یکم جولائی 1798ء کو اسکندریہ کے ساحل پر اترا۔اس زمانے میں مصر بظاہر سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا، لیکن حقیقی اقتدار مملوک امراء کے ہاتھ میں تھا۔ ملک معاشی زوال کا شکار تھا، ریاستی نظم کمزور پڑ چکا تھا اور کبھی علم و تہذیب کا مرکز رہنے والا اسکندریہ اپنی پرانی شان و شوکت سے بہت دور جا چکا تھا۔ مگر ایک چیز ابھی زندہ تھی، اور وہ تھی آزادی کی خواہش۔

فرانسیسی فوج نے ساحل پر اترتے ہی برق رفتاری سے پیش قدمی شروع کی۔ توپوں کی گھن گرج سے فضا لرز اٹھی، گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے شہر کی خاموش گلیوں کو میدانِ جنگ میں بدل دیا۔ دھوئیں کے بادل آسمان پر چھا گئے، اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور مزاحمت کی کیفیت تھی۔انہی دنوں اسکندریہ کے گورنر اور کسٹم انتظامیہ کے سربراہ السید محمد کریم شہر کے دفاع کے لیے میدان میں اترے۔ وہ کوئی پیشہ ور جرنیل نہیں تھے، لیکن اپنے شہر کے محافظ ضرور تھے۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو جمع کیا، نوجوانوں کو حوصلہ دیا اور فرانسیسی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی قیادت سنبھال لی۔ ان کے پاس جدید اسلحہ نہیں تھا، فوجی نظم و ضبط بھی محدود تھا، مگر ان کے سینے میں وطن سے محبت کی وہ آگ تھی جو ہر ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔چند دن تک شدید لڑائی جاری رہی۔ ایک طرف یورپ کی جدید ترین فوج تھی اور دوسری طرف اپنے گھروں، مسجدوں، بازاروں اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے لڑنے والے عام لوگ۔ بالآخر وسائل کی کمی اور دشمن کی برتری کے باعث اسکندریہ فرانسیسی قبضے میں چلا گیا۔ ناپولین آگے بڑھتا ہوا قاہرہ پہنچا اور اہرام مصر کے قریب مملوک افواج کو بھی شکست دے دی، لیکن اسکندریہ میں مزاحمت کی چنگاریاں ابھی بجھی نہیں تھیں۔محمد کریم نے شکست کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے۔ انہوں نے خفیہ طور پر فرانسیسی قبضے کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ مقامی روایات اور فرانسیسی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مزاحمت نے قابض فوج کو خاصا پریشان رکھا۔ بالآخر وہ گرفتار کر لیے گئے اور فرانسیسی فوجی عدالت میں پیش کیے گئے، جہاں ان پر بغاوت اور فرانسیسی اقتدار کے خلاف عوام کو ابھارنے کے الزامات عائد کیے گئے۔۔۔ناپولین نے محمد کریم کو اپنے سامنے بلوایا۔ کچھ لمحے خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا، پھر بولامجھے ایک ایسے شخص کو قتل کرنے کا افسوس ہے جس نے اپنے وطن کے لیے اتنی بہادری سے جنگ لڑی۔ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے صرف ایک فاتح نہیں بلکہ بہادروں کا قاتل بھی لکھے۔ اگر تم میری فوج کو پہنچنے والے نقصان کا دس ہزار سونے کے سکوں کا معاوضہ ادا کر دو تو میں تمہاری جان بخش دوں گا۔ محمد کریم نے نہایت وقار سے جوا ب دیا، میرے پاس اتنی دولت نہیں۔ اگر اجازت دیں تو میں اپنی قوم کے پاس جاتا ہوں۔ جن لوگوں کے لیے میں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر جنگ لڑی، مجھے یقین ہے وہ مجھے مایوس نہیں کریں گے۔ روایت ہے کہ ناپولین نے انہیں چند روز کی مہلت دے دی۔محمد کریم زنجیروں میں جکڑے بازاروں میں نکلے۔ انہیں یقین تھا کہ جن گھروں کی حفاظت کے لیے انہوں نے تلوار اٹھائی، آج وہی دروازے ان کے لیے کھلیں گے۔ جن لوگوں کی آزادی کے لیے انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈالی، وہ ان کے ہاتھ خالی واپس نہیں جانے دیں گے۔مگر حقیقت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تلخ ثابت ہوئی۔ کسی نے ایک سکہ نہ دیا بلکہ ان پر متعدد الزامات لگا دیئے، کسی نے کہا، آپ کی جنگ نے ہمارا کاروبار تباہ کر دیا،کسی نے کہا، ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالیں یا آپ کا جرمانہ ادا کریں۔۔۔۔؟ اور کچھ لوگ خاموشی سے نظریں چرا کر آگے بڑھ گئے، جیسے وہ اس شخص کو پہچانتے ہی نہ ہوں جس نے کل تک ان کے لیے جان لڑائی تھی۔ محمد کریم کا دل شاید اسی لمحے ٹوٹ گیا تھا۔ وہ خالی ہاتھ واپس ناپولین کے دربار میں پہنچے اور پوری دیانت داری سے کہہ دیا، میں اپنی قوم کے پاس گیا تھا۔ کسی نے میری مدد نہیں کی۔ ایک سکہ بھی نہیں ملا، بلکہ مجھ ہی پر الزام دھر دیا گیا۔
ناپولین نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا،تمہیں سزائے موت ضرور دی جائے گی۔ لیکن اس لیے نہیں کہ تم نے میری فوج سے جنگ کی، میرے سپاہی قتل کئے، نہ اس لیے کہ تم ہرجانہ ادا نہ کر سکے۔ تمہیں اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ تم ایک بزدل قوم کے لیے لڑتے رہے ۔ایسی قوم کیلئے لڑتے رہے جواپنی آزادی سے زیادہ اپنے منافع کو عزیز سمجھتی ہے۔۔۔اور جو اپنے سب سے وفادار محافظ کا ساتھ بھی نہ دے سکی۔۔۔ سزائے موت ملنے سے پہلے محمد کریم کے آخری الفاظ یہ تھے ’’ ان پڑھ، جاہل اور بزدل لوگوں میں انقلاب برپا کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اندھوں کے راستے میں چراغ روشن کرے‘‘۔۔۔
(نوٹ : یہ ایک تاریخی واقعہ ہے،بتانا تھا ،قومیں دشمن کی طاقت سے نہیں ہارتیں، وہ اس دن شکست کھاتی ہیں جب اپنے مخلص، بے لوث اور قربانی دینے والے رہنماؤں کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں، اس لیے اسے اسی تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔ نیز اس کا کسی موجودہ سیاسی شخصیت، بالخصوص عمران خان، یا کسی معاصر سیاسی واقعے سے کوئی تعلق نہیں)۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button